بھارت کی شرپسندی اور ہماری خاموشی؛ آخر کب تک؟

 

ضیا الرحمٰن ضیا

گزشتہ دنوں لائن آف کنٹرول کے دیوا سیکٹر میں بھارتی فوج نے ہمیشہ کی طرح جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاک فوج کے جوانوں کو فائرنگ کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو جوان جام شہادت نوش کرگئے۔ ایک سپاہی نورالحسن کی عمر 29 سال جبکہ دوسرے سپاہی وسیم علی کی عمر 25 سال تھی۔ دونوں جوان وطن کی حفاظت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے حقیقی اعزاز و اکرام کےلیے بارگاہ الٰہی میں جاپہنچے۔ کتنی افسوس ناک بات ہے کہ ہم سے ہمارے دو ہیرے اتنی بے دردی سے چھین لیے گئے اور ہمیں پرواہ تک نہیں کہ یہ کتنا بڑا نقصان ہے؟ میڈیا میں ایک خبر چھپ گئی جو دیگر خبروں کے ساتھ ہم نے پڑھ لی اور آگے چلے گئے، دوسری خبر پڑھی اور ایسے ہوگئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ یہی تو ہماری بے حسی ہے جس کی وجہ سے ہم آئے روز نقصان پر نقصان اٹھا رہے ہیں۔ لیکن ہم اس بے حسی کو دور کرنے کےلیے تیار نہیں۔

لائن آف کنٹرول پر آئے روز بھارت کی طرف سے فائرنگ ہوتی ہے جس کی وجہ سے کبھی ہمارے فوجی جوان شہید ہوجاتے ہیں اور کبھی شہریوں کی جانیں چلی جاتی ہیں، مگر حکومت کی طرف سے احتجاج تو کیا منہ سے کوئی حرف مذمت ادا نہیں ہوتا۔ ہماری اسی بے حسی کی وجہ سے ہی تو کشمیر ہم سے چھن گیا ہے۔ بھارت کشمیر پر اپنا قبضہ مضبوط سے مضبوط تر کرتا چلا جارہا ہے۔ وہاں اپنی فوج میں اضافہ کرنے کے ساتھ فوج کے اختیارات میں بھی اضافہ کررہا ہے۔ اسی طرح وہاں آبادی کا تناسب بدلنے کےلیے بھی مسلسل اقدامات کیے جارہے ہیں۔ وہاں ہندو غنڈوں کو بھیجا جا رہا ہے جو مسلمانوں کے قتل عام میں فوج کی مدد کرتے ہیں۔ کشمیرمیں بھارت نے ہندوؤں کو بسانے کا کام تیزی سے شروع کر رکھا ہے اور آئے روز نئے قوانین کے ذریعے ہندو کشمیر میں آباد ہورہے ہیں۔ کشمیر میں بھارت کو فوجی طاقت تو حاصل ہے ہی، اب اس کا نیا ہدف ہندوؤں کی تعداد میں اضافے کے ذریعے عوامی حمایت بھی حاصل کرنا ہے۔ یوں وہ نہایت آسانی سے کشمیر حاصل کرلے گا اور ہم منہ تکتے رہ جائیں گے۔ ہم نے عملی طور پر کشمیر کےلیے کوئی اقدامات نہیں کیے، نہ ہی ہم نے کشمیریوں کےلیے کوئی قابل ذکر آواز اٹھائی ہے۔

بھارت نے رفتہ رفتہ کشمیر پر قبضہ کیا اور ہم دیکھتے رہے۔ ان کی تمام حرکات کا بھی ہمیں علم تھا لیکن ہم نے ان کے خلاف کوئی موثر کاروائی نہیں کی۔ نہ ہی ہم نے اپنی خارجہ پالیسی کا رخ تبدیل کیا اور وزارت خارجہ کو عالمی برادری کی توجہ اس طرف مبذول کرانے اور رائے عامہ اپنے حق میں ہموار کرنے کی ذمے داری بھی نہ سونپی۔ ہماری خارجہ پالیسی تو اس قدر ناکام ہوگئی کہ ہمارے اپنے بہت سے برادر اسلامی ممالک نے بھی کشمیر کے اس اہم ترین مسئلے پر ہمارا ساتھ نہ دیا۔ اس مسئلے پر او آئی سی نے بھی کوئی اجلاس نہیں بلایا۔ ہماری کارکردگی کشمیر کے مسئلے پر صرف بیان بازی تک ہی محدود رہی اور ہمارا ایک ہی زبانی نعرہ تھا کہ ’’عالمی برادری نوٹس لے‘‘۔

بھارتی وزیراعظم اور وزیرخارجہ نے بہت سے ممالک کے دورے کرکے ان کی حمایت حاصل کی لیکن ہم نے ایسی کسی بھی قسم کی پھرتی دکھانے سے گریز کیا۔ جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ بھارت بے فکر ہوکر کشمیر کی حیثیت تبدیل کررہا ہے۔ باوجود اس کے کہ کشمیر عالمی سطح پر متنازعہ علاقہ ہے لیکن بھارت کو کسی بات کی پرواہ نہیں ہے۔ نہ ہی اسے کسی عالمی ادارے کی طرف سے کسی قسم کی تنقید یا پابندیوں کا سامنا ہے۔ وہ فوجی کارروائیاں کرے تو اسے کسی کا خوف نہیں، لیکن ہم کوئی سخت بیان دیتے ہوئے بھی کئی بار عالمی قوانین دیکھتے ہیں، جیسے عالمی قوانین ہمارے لیے ہی مرتب ہوئے ہیں۔ اور یہ وہ عالمی قوانین ہیں جنہوں نے کبھی ہمارے مفادات کا تحفظ نہیں کیا بلکہ یہ قوانین عالمی طاقتوں کے مفادات کےلیے بنے ہیں اور ان کےلیے جو ان کے ساتھ دوستی رکھتے ہیں۔ اگرچہ ان کی دوستی کا ہم نے بھی بہت دم بھرا لیکن وہ صرف اس کے ساتھ دوستی کرتے ہیں جس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہو۔ لیکن ہم مسلمان ہیں جس کی وجہ سے ان کی نظر میں ہماری کوئی حیثیت نہیں ہے۔ جہاں تک ان کے اپنے مفادات وابستہ ہیں وہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن جہاں مسلمانوں کے مفادات کی بات آتی ہے تو وہ غیر مسلموں کی غیر مشروط حمایت کردیتے ہیں۔ جبکہ ہم اپنی انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے سامنے بچھ جاتے ہیں اور وہ انتہائی لاپرواہی سے ہمارے اوپر سے گزر کر اپنے مقاصد حاصل کرلیتے ہیں۔

ہماری اسی بزدلی کی وجہ سے ہی تو ہمارے جوان ہم سے چھن رہی ہیں۔ اگرچہ شہادت کا رتبہ بہت بڑا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم بزدلی سے بیٹھے رہیں اور ہمارے فوجی اس اعزاز کو حاصل کرتے رہیں۔ ہم خود کیوں نہیں اس اعزاز کو حاصل کرنے کےلیے آگے بڑھتے؟ لہٰذا اگر ہم اپنی اور امت مسلمہ کی بقا اور سلامتی چاہتے ہیں تو ہمیں سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔ ہمیں بھی سخت زبان استعمال کرنی پڑے گی اور کہیں کہیں فوجی کارروائیاں بھی کرنی ہوں گی۔ تاکہ عالمی برادری کو ایسا محسوس ہو کہ دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ جب ہم ایسی صورتحال پیدا کردیں گے تب عالمی برادری اس مسئلہ کے حل کےلیے سنجیدہ ہوگی۔ ورنہ ہم گھروں میں بیٹھ کر صرف عالمی برادری کو آوازیں دیتے رہیں گے اور ساتھ اپنے طرز عمل سے یہ ثابت کرتے رہیں گے کہ ہم کوئی عملی اقدام کرنے والے نہیں ہیں تو کشمیر میں ہمارے بھائی اور سرحدوں پر ہمارے فوجی یونہی شہید ہوتے رہیں گے