غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میںمودی حکومت نے رہائشی علاقوں میں تجاوزات تعمیر کرنا شروع کردیا

سرینگر غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سرینگر کے علاقے باغات کے لوگ رہائشی علاقے میں تجارتی کمپلیکس تعمیرکرنے کی اجازت دینے پر بھارتی حکام کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مقامی لوگوں نے بتایا کہ مودی کی زیرقیادت فسطائی حکومت نے رہائشی علاقوں میں بھی تجاوزات تعمیر کرنا شروع کردیا تاکہ ان کو تجارتی علاقوں میں تبدیل کرکے بھارتی تاجروں کو فروخت کیا جاسکے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب مقامی لوگوں نے شکایت کی کہ اس ڈھانچے کو تجارتی مقصد کی خاطر استعمال کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے تو سرینگر میونسپل کارپوریشن نے کام معطل کرنے کا حکم دیا لیکن اس کے باوجود عمارت پر کام دوبارہ شروع کردیاگیا ہے ۔محبوب کالونی باغات کی مقامی محلہ کمیٹی کے صدر محمد عارف بٹ نے بتایا کہ حکام نے کچھ دن پہلے ہی اس عمارت پر تعمیراتی کام دوبارہ شروع کردیا ہے۔انہوں نے کہاہم نے پہلے اس کے مالک سے بات کی تھی جس نے ہمیں یقین دلایا تھاکہ یہ عمارت رہائشی مقصد کے لئے ہے اور اس کا اسے کسی تجارتی مقصد کے لئے استعمال کرنے کا کوئی ارادہ یا منصوبہ نہیں