
بھارت نے کشمیریوں کو مذہبی حقوق سے بھی محروم کر رکھا ہے، رپورٹ
اسلام آباد غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموںوکشمیر میں لوگ مذہبی آزادی سمیت تمام آزادیوں سے محروم ہیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے آج جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت نے کشمیریوں کے مذہبی حقوق سمیت تمام بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیاکہ بزرگ حریت رہنما سید علی گیلانی کو گزشتہ دس برس سے زائد عرصے سے جمعہ اور عید کی نمازیں ادا نہیں کر نے دی گئیںجبکہ حریت فورم کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو بھی گزشتہ ایک برس سے جمعہ او عید کی نمازوں سے محروم رکھا گیا ۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکام نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد گزشتہ ایک برس تک بند رکھی جبکہ لوگوں کو عبادات سے دور رکھنے کیلئے بھارتی ایجنٹوں کی طرف سے مذہبی مقامات پر حملے روز کا معمول ہے۔
کے ایم ایس رپورٹ میں کہا گیا کہ درگاہ حضرت بل کا طویل محاصرہ کشمیریوں کی مذہبی آزادی اور انکے عیادت گاہوں کی بے حرمتی کی واضح مثال ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ سینکڑوں کشمیریوں کو تحریک آزادی کے ساتھ وابستگی کی پاداش میں ہر برس حج کی ادائیگی کیلئے پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات فراہم نہیں کیے جاتے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت مخالف جذبات کے خوف سے 1989 سے مقبوضہ کشمیرمیں محرم الحرام کے مرکزی جلوسوں پر پابندی عائد ہے۔ پابندیوں کے باوجود ، لوگ محرم کے جلوس نکالتے ہیںاور اس دوران آزادی اور پاکستان کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بلند کرتے ہیں۔لوگ ’’ہم کیا چاہتے آزادی ، ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے ، گوانڈیا گو بیک اور بھارت کشمیر سے چلے جائو جیسے ‘‘نعرے بلند کرتے ہیں۔بیشتر اوقات بھارتی فوجی عزاداروں کو طاقت کے وحشیانہ استعمال کا نشانہ بناتے ہیں ۔ رپورٹ میںواضح کیا گیا ہے کہ محرم کے جلوسوں کے دوران لوگوں کو آزادی کے مطالبے سے روکنے کیلئے بھارتی فوجی گزشتہ ایک ہفتے سے بڑے پیمانے پر چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں محرم کے جلوسوں میں شریک خواتین پر بھی طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جاتا ہے ۔فسطائی مودی کشمیری مسلمانوں کیلئے وقت کا یزید ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی تسلط کے خلاف مزاحمت سے جذبہ حسینی کی عکاسی ہوتی ہے ۔ حضرت امام حسین کے علمبردار مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کی فرقہ پرست حکومت نے جو ہندوتوا نظریہ کے مطابق اپنی پالیسی وضع کرر ہی ہے مقبوضہ کشمیر کو کربلا میں تبدیل کردیا ہے ۔ رپورٹ میں انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے کہاگیا ہے کہ وہ کشمیری مسلمانوںکو ہندو فسطائیت سے بچانے کیلئے کردار ادا کریں۔