
متحدہ عرب امارات کے بعد سعودی عرب اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے جارہا ہے؟
عرب ملک پاکستان پر اسرائیل کے حوالے سے دباﺅ کیوں بڑھا رہے ہیں؟ریاض ‘ابوظہبی اوراسلام آباد کے درمیان تعلقات میں تاریخی سردمہری متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا پاکستان پر دباﺅ ہے کہ وہ بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرئے یا کم ازکم اپنے پاسپورٹ سے اسرائیل کے حوالے سے عبارت کو ختم کرکے مذکرات کو بحال کرئے جو مشرف دور میں ترکی میں شروع ہوئے تھے. ایڈیٹر”اردوپوائنٹ“میاں محمد ندیم کی خصوصی رپورٹ
لاہور سعودی عرب کے سب سے بڑے اتحادی متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کے اعلان کے بعد کیا ریاض بھی تل ایب کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرلے گا؟ حالیہ پیش رفت کے بعد عرب اسرائیل تنازع بظاہرحل کی طرف بڑھتا نظر آرہا ہے تاہم واقفان حال جانتے ہیں کہ مصر کی موجودہ قیادت کی مدد سے اسرائیل غزہ کی پٹی میں موجود فلسطینیوں کو مصرمیں دھکیل کر گریٹراسرائیل کا پہلا مرحلہ مکمل کرنا چاہتا ہے .
ان تباہ حال فلسطینیوں کی آباد کاری کے لیے اسرائیل اور ”بڑے“عرب ممالک نے مصر کی مالی معاونت کی یقین دہانی کروائی تھی ایڈیٹر”اردوپوائنٹ“میاں محمد ندیم کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا پاکستان پر دباﺅ ہے کہ وہ بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرئے یا کم ازکم اپنے پاسپورٹ سے اسرائیل کے حوالے سے عبارت کو ختم کرکے مذکرات کو بحال کرئے جو مشرف دور میں ترکی میں شروع ہوئے تھے اور بعد ازاں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے دور میں کسی نہ کسی سطح پر جاری رہے.پاکستان کے کچھ بڑے میڈیا ہاﺅسزاور نامور صحافی بھی اس عمل میں شامل ہیں جن میں بعض بھارت کے ذریعے اور بعض عرب ملکوں کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ مختلف سطحوں کے رابطوں میں ہیں ان کا مقصد رائے عامہ ہموار کرنا ہے متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور امریکا کے درمیان معاہدہ پچھلے کئی سالوں سے جاری بیک ڈور ڈپلومیسی کا نتیجہ ہیں . متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی مذہبی راہنماءکو مدعو کیا تھا اور اس دورے کے دوران اماراتی حکومت نے سرکاری خرچ پر ایک یہودی عبادت گاہ بنانے کا اعلان کیا تھا اس سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون پر مذکرات ہوتے رہے ہیں جبکہ سعودی عرب نے بغیر ویزا کے اسرائیلی شہریوں کو مملکت میں داخلے کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت اور سعودی عرب کی تعمیر وترقی میں مدد دینے والے ملک پاکستان کے شہریوں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے جو سعودی عرب نے اسرائیلی شہریوں کو دینے کا اعلان کررکھا ہے .میاں ندیم نے بتایا کہ اگرچہ منصوبے میں کچھ تبدیلی آئی ہے مگر خدوحال وہی رہیں گے دنیا کے معاشی حالات کی وجہ سے عرب ملکوں نے لاکھوں فلسطینی مہاجروں کی آباد کاری میں مدد دینے فی الحال انکار کیا ہے منصوبے کے تحت لاکھوں فلسطینی مہاجروں کو پہلے مصر لایا جانا تھا جس کے بعد انہیں مختلف عرب ملکوں میں آباد کرنا تھا مگر بہت سارے عرب ملکوں نے ”جہادیوں“کے ڈرسے مالی معاونت دینے پراعلان تیار تھے تاہم انہوں فلسطینی مہاجروں کو اپنے ملکوں میں آباد کرنے سے انکار کردیا تھا.خلیجی ملک میں مقیم ایک فلسطینی صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ”اردوپوائنٹ“کو بتایا کو طے شدہ منصوبے کے تحت ابھی اسرائیل فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے بے دخل نہیں کرئے گا تاہم اس کے بدلے میں خفیہ معاہدے کے تحت عرب ملک نہ صرف آزادفلسطینی ریاست کے مطالبے سے دستبردار ہوجائیں گے بلکہ اسرائیل کی سفارتی اور تجارتی محاذپر ہر طرح سے مدد اور معاونت کریں گے.حالیہ معاہدے سے اسرائیل کے مستقبل کے ارادے ظاہرہورہے ہیں جس کے تحت نتن یاہو، ٹرمپ اور شہزاد محمد بن زید کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ علاقے میں مزید آبادکاری نہیں کرے گا اور اس کے بدلے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات معمول پر لائے جائیں گے. بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطین کے مزید علاقے ضم کرنے کے منصوبے کو معطل کردے گا، اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے وفود ملاقات کریں گے، سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست فلائٹس ، دفاع، ٹیلی کمیونی کیشن، انرجی، کلچر ، سفارتخانوں کے قیام اور دو طرفہ دلچسپی کے امور سے متعلق معاہدوں پر دستخط کریں گے.انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا ہے، گزشتہ دو برس کے دوران اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان فاصلوں میں کمی آئی تھی، 2018ءمیں اچانک اسرائیلی وزیراعظم عمان پہنچے جہاں انہوں نے عمان کے سلطان سے ملاقات کی اس ملاقات کے بعد عمان کے وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ عمان اسرائیل اور فلسطین کو اکٹھا کرنے کی پیشکش کررہا ہے لیکن یہ کسی ثالث کے کردار کے طور پر نہیں ہے وقت ہے کہ اسرائیل کے ساتھ دیگر ریاستوں کی طرح پیش آیا جائے.اسرائیلی وزیراعظم کا بھی بیان سامنے آیاتھا کہ ایران کی مخالفت اسرائیل اور عرب ممالک کوقریب لارہی ہے ، اسرائیلی وزیرثقافت نے بھی متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا جہاں وہ ابوظہبی کی شیخ زید مسجد گئیں ،2018ءمیں ہی اسرائیل کی ٹیم نے ابوظہبی میں ہونے والے کھیلوں کے مقابلے میں شرکت کی تھی اپریل 2018ءمیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی ایک انٹرویو میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اسرائیلیوں کو اپنی سرزمین کا حق حاصل ہے، ایک سوال کے جواب میں محمد بن سلمان نے واضح کیا تھا کہ ہمارے ملک کو یہودیوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، سعودی ولی عہد کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ اگر امن ہو تو اسرائیل اور خلیجی ممالک میں باہمی دلچسپی کی بہت سی باتیں ہیں، خاص طور پر مصر اور اردن کی.سعودی عرب انڈیا کی ایئرلائن کو اسرائیل جانے کیلئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے چکا ہے‘میاں ندیم نے کہا کہ سرائیل اور متحدہ عرب امارات نے ”امن معاہدے“کے بعد سعودی عرب سمیت جلد دیگر عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہوجائیں گے. امریکا کے صدر نے کہا تھا کہ اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے اس معاہدے کے تحت اسرائیل فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقوں میں اپنی خودمختاری کے اعلان کو عارضی طور پر معطل کرے گا.اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں ٹوئٹ کیا کہ ”یہ تاریخی دن“ ہے انہوں نے ٹی وی خطاب میں کہا کہ اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں آج ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے. متحدہ عرب امارات نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ جرات مندانہ اقدام ہے جس سے اسرائیل اور فلسطین کےمابین طویل عرصے سے جاری تنازع کا حل ممکن ہوسکے گا پریس کانفرنس کے دوران متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں سفارت خانے سے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اس میں یقینی طور پر زیادہ وقت نہیں لے گا‘ادھرغزہ کی پٹی کے حکمران جماعت حماس نے مذکورہ معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے فلسطین کے مقاصد پورے نہیں ہوتے حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ اسرائیلی قبضے اور جرائم کا صلہ ہے ایک بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے معاہدے پر فلسطینی قیادت کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے.ایڈیٹر”اردوپوائنٹ “میاں ندیم نے کہا کہ اس صورتحال میں فلسطینیوں کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا امیر عرب ممالک نے انہیں بند گلی میں دھکیل دیا ہے جس سے تشددمیں اضافہ ہوگا کیونکہ فلسطینی 1967سے عربوں سے امیدیں وابستہ کیئے بیٹھے تھے ان کا جائزحق نہ او آئی سی سمیت عرب ممالک کی تنظیمیں دلاپائی ہیں اور نہ ہی اقوام متحدہ لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ آزادی کی جنگ میں اب تیزی آئے گی.واضح رہے کہ اسرائیل کے عرب ریاستوں کے ساتھ رسمی طور پر سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اسرائیل کے رسمی سفارتی تعلقات دو پڑوسی عرب ممالک مصر اور اردن سے ہیں تاہم کچھ سال قبل اسرائیلی دارالحکومت تل ایب سے ایک تصویر منظرعام پر آئی تھی جس پر اسرائیل اور سعودی عرب کے جھنڈے لہرا رہے تھے اسے اسرائیل میں سعودی عرب کا غیراعلانیہ سفارت خانہ قراردیا گیا تھا تاہم سعودی عرب نے اس کی تردید کردی تھی.ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی شہزادے اور مغربی دنیا میں میڈیا سمیت بہت سارے کاروباروں کے مالک شہزادہ طلال بن ولید کو غیرسرکاری طور پر اسرائیل کے لیے سعودی سفیر کہا جاتا تھا اور انہوں نے اسرائیل کے ساتھ بیک چینل مذکرات میں مرکزی کردار ادا کیا 26 جنوری 2020 کو اسرائیل نے اپنے شہریوں کو پہلی مرتبہ سعودی عرب جانے کی باضابطہ اجازت دی تھی جبکہ سعودی عرب نے بغیر ویزے کے اسرائیلیوں کو مملکت میں ”خوش آمدید“کہنے کا اعلان کیا تھا جو کہ اسی بیک ڈور ڈپلومیسی کا نتیجہ تھی اس سے قبل اسرائیل کے عوام کسی تیسرے ملک خصوصاً اردن سے ہو کر سعودی عرب جاتے تھے کیونکہ اردن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں.واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور گرگش نے گزشتہ روزپریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا معاہدہ ایک جرات مندانہ اقدام ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری اسرائیل اور فلسطین تنازع کا حل ممکن ہوسکے گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاتھا کہ دونوں ممالک میں سفارت خانے سے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اس میں یقینی طور پر زیادہ وقت نہیں لے گا.واضح رہے کہ 27 نومبر 2015 میں اسرائیل نے متحدہ عرب امارات میں باقاعدہ سفارتی سطح کا مشن تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کرلی تھی‘ اسرائیلی سفارت کاروں کے حوالے سے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسرائیل کا متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں یہ پہلا باقاعدہ سفارتی دفتر ہو گا جو ابو ظہبی میں انٹرنیشنل رینیوبل ایجنسی میں قائم ہوگا. واضح رہے کہ اسرائیل کے عرب ریاستوں کے ساتھ رسمی طور پر سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اسرائیل کے رسمی سفارتی تعلقات 2 پڑوسی عرب ممالک مصر اور اردن سے ہیں 2015 میں ایران کا امریکا اور دیگر مغربی طاقتوں سے جوہری پروگرام پر معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد سے عرب ریاستوں اور اسرائیل میں قربت بڑھ گئی تھی کیونکہ اسرائیل اور عرب ممالک اس معاہدے کے خلاف رہے ہیں.مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کو قرار دیا جاتا ہے یہ بات مدنظر رہے کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر 1967 کی 6 روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا اور بعد میں اس کا الحاق کرلیا تھا جسے بین الاقوامی برادری نے کبھی تسلیم نہیں کیا اسرائیل پورے شہر کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتے ہیں.خیال رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات 2014 میں ختم ہوگئے تھے جبکہ فلسطین نے ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبے کو پیش کیے جانے سے قبل ہی مسترد کردیا تھا فلسطین اور عالمی برادری اسرائیلی آبادیوں کو جنیوا کنونشن 1949 کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے جو جنگ کے دوران قبضے میں لی گئی زمین سے متعلق ہے جبکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا مرکز قرار دیتا ہے.واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے متعدد مرتبہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کے آزاد فلسطین کے علاقوں تک توسیع اور اس کے اسرائیلی ریاست میں انضمام کے منصوبے پر یکم جولائی سے کابینہ میں بحث شروع ہوگی تاہم یہ ملتوی کردی گئی تھی. فلسطینی صدر محمود عباس نے 23 اپریل کو کہا تھا کہ اگر مقبوضہ مغربی کنارے کا اسرائیل میں انضمام کیا گیا تو فلسطینی حکام کے اسرائیل اور امریکا سے ہوئے معاہدے کو مکمل طور پر منسوخ تصور کیا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکا اور اسرائیلی حکومت سمیت متعلقہ بین الاقوامی فریقین کو آگاہ کردیا کہ اگر اسرائیل نے ہماری زمین کے کسی حصے کا انضمام کرنے کی کوشش کی تو ہم ہاتھ باندھے نہیں کھڑے رہیں گے.خیال رہے کہ 6 اکتوبر 2019 کو اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کیز نے کہا تھا کہ وہ مستقبل کے ممکنہ معاہدوں کے پیش خیمے کے طور پر ان عرب ممالک کے ساتھ ’عدم جارحیت‘ کا سمجھوتہ کررہے ہیں جنہوں نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ‘اسرائیلی وزیر نے کسی خلیجی ملک کا نام لیے بغیر بتایا تھا کہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اس حوالے سے مختلف عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ برا ہونے والے سفیر جیسن گرین بلیٹ سے بات چیت کی.اس سے تقریباً ایک سال قبل اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عمان کے سلطان قابوس کے ساتھ اچانک ملاقات کی تھی دوسری جانب اسرائیل کیز کا کہنا تھا کہ انہوں نے جولائی میں بحرینی ہم منصب سے پہلی مرتبہ دورہ واشنگٹن کے موقع پر عوامی سطح پر ملاقات کی. قبل ازیں جون کے اواخر میں اسرائیلی صحافیوں کے ایک گروہ نے اسرائیل اور فلسطین امن کے حوالے سے امریکی سربراہی میں بحرین میں ہونے والی اقتصادی کانفرنس میں شرکت کی تھی تاہم صورتحال اس وقت اچھی نہیں رہی جب عرب ریاستوں سے ایک گروپ اسرائیل کے دورے پر آیا.
ان تباہ حال فلسطینیوں کی آباد کاری کے لیے اسرائیل اور ”بڑے“عرب ممالک نے مصر کی مالی معاونت کی یقین دہانی کروائی تھی ایڈیٹر”اردوپوائنٹ“میاں محمد ندیم کے مطابق متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا پاکستان پر دباﺅ ہے کہ وہ بھی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرئے یا کم ازکم اپنے پاسپورٹ سے اسرائیل کے حوالے سے عبارت کو ختم کرکے مذکرات کو بحال کرئے جو مشرف دور میں ترکی میں شروع ہوئے تھے اور بعد ازاں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کے دور میں کسی نہ کسی سطح پر جاری رہے.پاکستان کے کچھ بڑے میڈیا ہاﺅسزاور نامور صحافی بھی اس عمل میں شامل ہیں جن میں بعض بھارت کے ذریعے اور بعض عرب ملکوں کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ مختلف سطحوں کے رابطوں میں ہیں ان کا مقصد رائے عامہ ہموار کرنا ہے متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور امریکا کے درمیان معاہدہ پچھلے کئی سالوں سے جاری بیک ڈور ڈپلومیسی کا نتیجہ ہیں . متحدہ عرب امارات نے اسرائیلی مذہبی راہنماءکو مدعو کیا تھا اور اس دورے کے دوران اماراتی حکومت نے سرکاری خرچ پر ایک یہودی عبادت گاہ بنانے کا اعلان کیا تھا اس سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون پر مذکرات ہوتے رہے ہیں جبکہ سعودی عرب نے بغیر ویزا کے اسرائیلی شہریوں کو مملکت میں داخلے کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی طاقت اور سعودی عرب کی تعمیر وترقی میں مدد دینے والے ملک پاکستان کے شہریوں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے جو سعودی عرب نے اسرائیلی شہریوں کو دینے کا اعلان کررکھا ہے .میاں ندیم نے بتایا کہ اگرچہ منصوبے میں کچھ تبدیلی آئی ہے مگر خدوحال وہی رہیں گے دنیا کے معاشی حالات کی وجہ سے عرب ملکوں نے لاکھوں فلسطینی مہاجروں کی آباد کاری میں مدد دینے فی الحال انکار کیا ہے منصوبے کے تحت لاکھوں فلسطینی مہاجروں کو پہلے مصر لایا جانا تھا جس کے بعد انہیں مختلف عرب ملکوں میں آباد کرنا تھا مگر بہت سارے عرب ملکوں نے ”جہادیوں“کے ڈرسے مالی معاونت دینے پراعلان تیار تھے تاہم انہوں فلسطینی مہاجروں کو اپنے ملکوں میں آباد کرنے سے انکار کردیا تھا.خلیجی ملک میں مقیم ایک فلسطینی صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ”اردوپوائنٹ“کو بتایا کو طے شدہ منصوبے کے تحت ابھی اسرائیل فلسطینیوں کو غزہ کی پٹی سے بے دخل نہیں کرئے گا تاہم اس کے بدلے میں خفیہ معاہدے کے تحت عرب ملک نہ صرف آزادفلسطینی ریاست کے مطالبے سے دستبردار ہوجائیں گے بلکہ اسرائیل کی سفارتی اور تجارتی محاذپر ہر طرح سے مدد اور معاونت کریں گے.حالیہ معاہدے سے اسرائیل کے مستقبل کے ارادے ظاہرہورہے ہیں جس کے تحت نتن یاہو، ٹرمپ اور شہزاد محمد بن زید کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ علاقے میں مزید آبادکاری نہیں کرے گا اور اس کے بدلے میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات معمول پر لائے جائیں گے. بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل مقبوضہ فلسطین کے مزید علاقے ضم کرنے کے منصوبے کو معطل کردے گا، اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ آئندہ ہفتوں میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے وفود ملاقات کریں گے، سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست فلائٹس ، دفاع، ٹیلی کمیونی کیشن، انرجی، کلچر ، سفارتخانوں کے قیام اور دو طرفہ دلچسپی کے امور سے متعلق معاہدوں پر دستخط کریں گے.انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا ہے، گزشتہ دو برس کے دوران اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان فاصلوں میں کمی آئی تھی، 2018ءمیں اچانک اسرائیلی وزیراعظم عمان پہنچے جہاں انہوں نے عمان کے سلطان سے ملاقات کی اس ملاقات کے بعد عمان کے وزیرخارجہ نے کہا تھا کہ عمان اسرائیل اور فلسطین کو اکٹھا کرنے کی پیشکش کررہا ہے لیکن یہ کسی ثالث کے کردار کے طور پر نہیں ہے وقت ہے کہ اسرائیل کے ساتھ دیگر ریاستوں کی طرح پیش آیا جائے.اسرائیلی وزیراعظم کا بھی بیان سامنے آیاتھا کہ ایران کی مخالفت اسرائیل اور عرب ممالک کوقریب لارہی ہے ، اسرائیلی وزیرثقافت نے بھی متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا جہاں وہ ابوظہبی کی شیخ زید مسجد گئیں ،2018ءمیں ہی اسرائیل کی ٹیم نے ابوظہبی میں ہونے والے کھیلوں کے مقابلے میں شرکت کی تھی اپریل 2018ءمیں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی ایک انٹرویو میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اسرائیلیوں کو اپنی سرزمین کا حق حاصل ہے، ایک سوال کے جواب میں محمد بن سلمان نے واضح کیا تھا کہ ہمارے ملک کو یہودیوں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے، سعودی ولی عہد کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ اگر امن ہو تو اسرائیل اور خلیجی ممالک میں باہمی دلچسپی کی بہت سی باتیں ہیں، خاص طور پر مصر اور اردن کی.سعودی عرب انڈیا کی ایئرلائن کو اسرائیل جانے کیلئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے چکا ہے‘میاں ندیم نے کہا کہ سرائیل اور متحدہ عرب امارات نے ”امن معاہدے“کے بعد سعودی عرب سمیت جلد دیگر عرب ممالک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہوجائیں گے. امریکا کے صدر نے کہا تھا کہ اسرائیلی اور متحدہ عرب امارات کے وفود آئندہ ہفتوں میں سرمایہ کاری، سیاحت، براہ راست پروازوں، سلامتی اور باہمی سفارتخانوں کے قیام سے متعلق دوطرفہ معاہدوں پر دستخط کریں گے اس معاہدے کے تحت اسرائیل فلسطین کے مغربی کنارے کے علاقوں میں اپنی خودمختاری کے اعلان کو عارضی طور پر معطل کرے گا.اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عبرانی زبان میں ٹوئٹ کیا کہ ”یہ تاریخی دن“ ہے انہوں نے ٹی وی خطاب میں کہا کہ اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں آج ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے. متحدہ عرب امارات نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ جرات مندانہ اقدام ہے جس سے اسرائیل اور فلسطین کےمابین طویل عرصے سے جاری تنازع کا حل ممکن ہوسکے گا پریس کانفرنس کے دوران متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک میں سفارت خانے سے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اس میں یقینی طور پر زیادہ وقت نہیں لے گا‘ادھرغزہ کی پٹی کے حکمران جماعت حماس نے مذکورہ معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس سے فلسطین کے مقاصد پورے نہیں ہوتے حماس کے ترجمان حازم قاسم نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدہ اسرائیلی قبضے اور جرائم کا صلہ ہے ایک بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے معاہدے پر فلسطینی قیادت کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے.ایڈیٹر”اردوپوائنٹ “میاں ندیم نے کہا کہ اس صورتحال میں فلسطینیوں کے پاس کوئی اور راستہ نہیں بچا امیر عرب ممالک نے انہیں بند گلی میں دھکیل دیا ہے جس سے تشددمیں اضافہ ہوگا کیونکہ فلسطینی 1967سے عربوں سے امیدیں وابستہ کیئے بیٹھے تھے ان کا جائزحق نہ او آئی سی سمیت عرب ممالک کی تنظیمیں دلاپائی ہیں اور نہ ہی اقوام متحدہ لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ آزادی کی جنگ میں اب تیزی آئے گی.واضح رہے کہ اسرائیل کے عرب ریاستوں کے ساتھ رسمی طور پر سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اسرائیل کے رسمی سفارتی تعلقات دو پڑوسی عرب ممالک مصر اور اردن سے ہیں تاہم کچھ سال قبل اسرائیلی دارالحکومت تل ایب سے ایک تصویر منظرعام پر آئی تھی جس پر اسرائیل اور سعودی عرب کے جھنڈے لہرا رہے تھے اسے اسرائیل میں سعودی عرب کا غیراعلانیہ سفارت خانہ قراردیا گیا تھا تاہم سعودی عرب نے اس کی تردید کردی تھی.ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی شہزادے اور مغربی دنیا میں میڈیا سمیت بہت سارے کاروباروں کے مالک شہزادہ طلال بن ولید کو غیرسرکاری طور پر اسرائیل کے لیے سعودی سفیر کہا جاتا تھا اور انہوں نے اسرائیل کے ساتھ بیک چینل مذکرات میں مرکزی کردار ادا کیا 26 جنوری 2020 کو اسرائیل نے اپنے شہریوں کو پہلی مرتبہ سعودی عرب جانے کی باضابطہ اجازت دی تھی جبکہ سعودی عرب نے بغیر ویزے کے اسرائیلیوں کو مملکت میں ”خوش آمدید“کہنے کا اعلان کیا تھا جو کہ اسی بیک ڈور ڈپلومیسی کا نتیجہ تھی اس سے قبل اسرائیل کے عوام کسی تیسرے ملک خصوصاً اردن سے ہو کر سعودی عرب جاتے تھے کیونکہ اردن کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں.واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور گرگش نے گزشتہ روزپریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا معاہدہ ایک جرات مندانہ اقدام ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری اسرائیل اور فلسطین تنازع کا حل ممکن ہوسکے گا ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاتھا کہ دونوں ممالک میں سفارت خانے سے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اس میں یقینی طور پر زیادہ وقت نہیں لے گا.واضح رہے کہ 27 نومبر 2015 میں اسرائیل نے متحدہ عرب امارات میں باقاعدہ سفارتی سطح کا مشن تعینات کرنے کی منصوبہ بندی کرلی تھی‘ اسرائیلی سفارت کاروں کے حوالے سے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسرائیل کا متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں یہ پہلا باقاعدہ سفارتی دفتر ہو گا جو ابو ظہبی میں انٹرنیشنل رینیوبل ایجنسی میں قائم ہوگا. واضح رہے کہ اسرائیل کے عرب ریاستوں کے ساتھ رسمی طور پر سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اسرائیل کے رسمی سفارتی تعلقات 2 پڑوسی عرب ممالک مصر اور اردن سے ہیں 2015 میں ایران کا امریکا اور دیگر مغربی طاقتوں سے جوہری پروگرام پر معاہدہ ہوا تھا جس کے بعد سے عرب ریاستوں اور اسرائیل میں قربت بڑھ گئی تھی کیونکہ اسرائیل اور عرب ممالک اس معاہدے کے خلاف رہے ہیں.مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی وجہ فلسطین پر اسرائیل کے قبضے کو قرار دیا جاتا ہے یہ بات مدنظر رہے کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر 1967 کی 6 روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا اور بعد میں اس کا الحاق کرلیا تھا جسے بین الاقوامی برادری نے کبھی تسلیم نہیں کیا اسرائیل پورے شہر کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کے دارالحکومت کے طور پر دیکھتے ہیں.خیال رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات 2014 میں ختم ہوگئے تھے جبکہ فلسطین نے ٹرمپ کی جانب سے امن منصوبے کو پیش کیے جانے سے قبل ہی مسترد کردیا تھا فلسطین اور عالمی برادری اسرائیلی آبادیوں کو جنیوا کنونشن 1949 کے تحت غیر قانونی قرار دیتی ہے جو جنگ کے دوران قبضے میں لی گئی زمین سے متعلق ہے جبکہ اسرائیل بیت المقدس کو اپنا مرکز قرار دیتا ہے.واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے متعدد مرتبہ اعلان کیا تھا کہ اسرائیل کے آزاد فلسطین کے علاقوں تک توسیع اور اس کے اسرائیلی ریاست میں انضمام کے منصوبے پر یکم جولائی سے کابینہ میں بحث شروع ہوگی تاہم یہ ملتوی کردی گئی تھی. فلسطینی صدر محمود عباس نے 23 اپریل کو کہا تھا کہ اگر مقبوضہ مغربی کنارے کا اسرائیل میں انضمام کیا گیا تو فلسطینی حکام کے اسرائیل اور امریکا سے ہوئے معاہدے کو مکمل طور پر منسوخ تصور کیا جائے گا ان کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکا اور اسرائیلی حکومت سمیت متعلقہ بین الاقوامی فریقین کو آگاہ کردیا کہ اگر اسرائیل نے ہماری زمین کے کسی حصے کا انضمام کرنے کی کوشش کی تو ہم ہاتھ باندھے نہیں کھڑے رہیں گے.خیال رہے کہ 6 اکتوبر 2019 کو اسرائیل کے وزیر خارجہ اسرائیل کیز نے کہا تھا کہ وہ مستقبل کے ممکنہ معاہدوں کے پیش خیمے کے طور پر ان عرب ممالک کے ساتھ ’عدم جارحیت‘ کا سمجھوتہ کررہے ہیں جنہوں نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ‘اسرائیلی وزیر نے کسی خلیجی ملک کا نام لیے بغیر بتایا تھا کہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اس حوالے سے مختلف عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ برا ہونے والے سفیر جیسن گرین بلیٹ سے بات چیت کی.اس سے تقریباً ایک سال قبل اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے عمان کے سلطان قابوس کے ساتھ اچانک ملاقات کی تھی دوسری جانب اسرائیل کیز کا کہنا تھا کہ انہوں نے جولائی میں بحرینی ہم منصب سے پہلی مرتبہ دورہ واشنگٹن کے موقع پر عوامی سطح پر ملاقات کی. قبل ازیں جون کے اواخر میں اسرائیلی صحافیوں کے ایک گروہ نے اسرائیل اور فلسطین امن کے حوالے سے امریکی سربراہی میں بحرین میں ہونے والی اقتصادی کانفرنس میں شرکت کی تھی تاہم صورتحال اس وقت اچھی نہیں رہی جب عرب ریاستوں سے ایک گروپ اسرائیل کے دورے پر آیا.