
عدلیہ کےدو چہرے، ننانوے سے قبل اور بعد…ڈاکٹر شہزاد اقبال شام
عدلیہ سمیت ہر ادارے کے لیے رائے دہی کے مواقع پر سبھی وہی رائے ظاہر کرتے ہیں جو ان کے میلان میں گندھی ہوتی ہے۔ تنقیص کرنا ہو تو جسٹس منیر کتاب تنقیص کا پیش لفظ، توصیف مطلوب ہو تو جسٹس کارنیلیس سے کام چلا لیا جاتا ہے۔ اپنی نشست و برخاست بڑی حد تک قانونی حلقوں میں رہتی ہے جہاں یہی دیکھا سنا کہ عدلیہ بحیثیت مجموعی ہمیشہ شب و شتم کا نشانہ رہتی ہے۔ منفی جذبات سے ذہن اتنے آلودہ کہ خشخاش کے برابر برائی نظر آئے تو تمام ملک ۔کو برائی کا مرقع کہہ دیا جاتا ہے۔ بھلائی کا پہاڑ سامنے کھڑا ہو تو نظر ہی نہیں آتا۔ بجلی کی قیمت چند پیسے بڑھ جائے تو دہائی مچ جاتی ہے۔ ایک ماہ قبل 38 روپے فی یونٹ صنعتی اور 34 روپے فی یونٹ زرعی استعمال والی بجلی کی قیمت میں بالترتیب 15 (40 فیصد) اور 11 روپے (33 فیصد) کی بہت بڑی کمی کی گئی. کسی نے اس کا ذکر تک نہیں کیا. جو بندوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ رب کا شکر گزار بھی نہیں ہوتا۔
جنرل پرویز سے قبل عدلیہ میں اتنے برے منصفین نہیں تھے جس کی منظر کشی کی جاتی ہے۔ جسٹس منیر کے بالمقابل جسٹس کارنیلیس اور جسٹس کیانی بھی تھے۔ جسٹس شہاب الدین، جسٹس حمود الرحمن، جسٹس رانا بھگوان داس اور جسٹس صمدانی ہماری عدلیہ کے وہ روشن ستارے ہیں جن پر ہم فخر کرتے ہیں۔ آمر کو سند جواز دینے والے قابل مذمت لوگوں کو ذرا دیر کے لیے چھوڑیے۔ بحیثیت مجموعی ہماری عدلیہ قابل قدر ہی رہی ہے۔ 1999 سے قبل یہ ہمارا انمول اثاثہ تھی۔ چلیے آ جائیے آئین شکن کو سند دینے والوں کی طرف! 1993 میں اسمبلیاں توڑ کر عوامی امنگیں روندنے والی مقتدرہ کے سامنے کیا ہماری سپریم کورٹ چڈان بن کر نہیں کھڑی ہوئی تھی؟ 11 رکنی بینچ میں سے 10 ججوں نے آمر مطلق کے آرٹیکل (b)(2)58 کے تحت توڑی گئی اسمبلیاں کیا بحال نہیں کی تھیں؟ صرف جسٹس سجاد علی شاہ کو اختلاف تھا جو آئینی یا قانونی نہیں، سندھی پنجابی بنیاد پر تھا۔ فیصلہ خود پڑھ لیجئے۔ یوں موصوف نئی وزیراعظم کے ہاتھوں چیف جسٹس بن گئے۔
بلال حبشی کے سے نورانی چہرے والے تقدس مآب جسٹس شفیع الرحمن مرحوم کو بھول گئےہو؟ اسمبلیوں کی بحالی کے لیے سماعت ہو رہی تھی۔ آپ ہفتہ وار چھٹی پر اپنے گھر لاہور گئے تو ان کا 25 سالہ جگر گوشہ چھت پر ڈش انٹینے کا رخ درست کرتے کرتے بجلی کی ننگی تار سے ٹکرا کر اللہ کو پیارا ہو گیا۔ ضبط فغاں، تحمل اور فوری نماز جنازہ کا اہتمام، جسے ادا کرتے ہی واپس اسلام آباد کو روانگی، یہ تھا اپنی خاکستر میں دبی اس نورانی، روشن اور مشکبار چنگاری کا رد عمل! پھر وجود سے کٹے پارہ لحم کو اپنے ہاتھوں سے حوالہ مرقد کر کے جسٹس شفیع 6 گھنٹے بعد وقار اور تمکنت کے ساتھ بینچ میں بیٹھے سماعت کر رہے تھے۔ آئین شکنی جائز قرار دینے والے جج بلا شبہ سب و شتم کے مستحق ہیں۔ لیکن 1999 میں جنرل پرویز کے آمرانہ فرمان کے تحت حلف نہ اٹھا کر مستعفی ہونے والے سپریم کورٹ کے غالبا 6 با اصول ججوں کو کیا کبھی کسی نے گلدستے پیش کیے؟ ان میں سے کس کی قبر پر ہم فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں؟ 12 اکتوبر کو یوم جمہوریت کی تقریبات میں ان چھ میں سے آپ نے کبھی کسی کو بلایا؟ 1999 سے پہلے کی ہماری وہ عدلیہ موتیوں میں تولنے کے لائق تھی۔
اور پھر وہ راکھشش آگیا جس نے آئین و قانون، اخلاق حسنہ، تہذیب اور ملکی یک جہتی پر آرہ چلایا سو چلایا، ساتھ ہی اس نے ایس عدلیہ کی بنیاد رکھ دی جو بجائے خود اپنے، تمام اداروں اور قومی سلامتی کے درپے رہی۔ کوشش کے باوجود میں اس ادارے کو عدلیہ کہنے سے لاچار رہا جو 19 ویں آئینی ترمیم کے بعد اور حالیہ دو ترامیم سے پہلے کے معززین پر مشتمل ہے۔ صرف ثاقب نثار ہی یاد آجائے تو جھرجھری آ جاتی ہے۔ موجودہ سپریم کورٹ میں ایک بھی جج ایسا نہیں جو اصل عدلیہ یعنی سیشن جج سے ترقی پا کر آیا ہو۔ دو نہیں، تین لنگوٹیے ایک ہی چیمبر سے اٹھ کر سپریم کورٹ کے جج بن گئے۔ “چیف تیرے جان نثار، بے شمار بے شمار”، کچھ یوں نعرہ زن ہو کر درجہ سوم کی وکالت سے اعلیٰ مناصب لے اڑے۔کچھ رشتوں کی سیڑھی لیے اس مقدس ادارے پر قابض ہوئے۔
26 ویں ترمیم آئی تو 16 فروری کو اس خاکسار نے چند عدالتی معززین کو ان الفاظ میں مخاطب کیا تھا: “(اب) آپ پینشن لیں یا جونیئر کی اردل! 26 ویں ترمیم مقتدرائی فیصلوں کا ایک سالہ ٹریلر ہے…….. فلم سے قبل !” (کالم بعنوان “اعلیٰ عدلیہ اور پیسنجر ٹرین کے مسافر”)۔ دراصل عدلیہ نیوٹن کا تیسرا قانون حرکت (F=ma) بھول گئی؟ “ہر عمل کا مساوی اور سمت مخالف میں رد عمل ہوتا ہے”۔ پرویزی دور نحوست کی باقیات ہی کو یاد کیجئے جنہوں نے ایک وزیراعظم کو تا برخاست عدالت سزا دے کر معزول کیا تو دوسرے کو بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کے “جرم” میں نااہل کر کے ہنستے بستے ملک کو ادھیڑ کر رکھ دیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن سب سے زیادہ کائیاں نکلے جو ہوا کا رخ بدلتے ہی مستعفی ہو گئے۔ ورنہ الزامات ان پر بھی کچھ کم نہیں تھے کہ مظاہر علی نقوی جیسے انجام سے بچ پاتے۔ ٹریلر کے بعد یہ فلم تین گھنٹوں کی نہیں “میرا نام جوکر” کی طرح چھ گھنٹوں کی ہے۔ اللہ کی اللہ جانے!
آئینی طور پر عدلیہ باقی دو ریاستی ستونوں سے زیادہ طاقتور ہے۔ مقتدرہ نے یہی سامنے رکھ کر سپریم کورٹ کی عمارت باقی دو ستونوں سے بڑھ کر باجبروت بنوائی تھی۔ سالہا سال سے لکھ رہا ہوں کہ سینے میں رہے راز ملوکانہ تو بہتر/کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر. اصل مقتدر پارلیمان ہے جسے انتظامیہ وقت آنے پر استعمال کر گزرتی ہے. اور عدلیہ کے ان اعمال کے رد عمل میں نیوٹن کا تیسرا قانون حرکت میں آ ہی گیا۔ انتظامیہ لاچار ہو تو بھی اس کی زنبیل میں لا تعداد ٹوٹکے پڑے رہتے ہیں۔ 2018 میں صندوق چوری تو 2024 میں فارم 47 جس پر 26 ویں و 27 ویں ترمیم بطور نقرئی ورق۔ مکتوب نگار معززین کسی نئی آئینی ترمیم کے انتظار میں مستعفی ہونا موقوف مت کریں۔ ان تین لذیذ پکوانوں کے بعد میٹھا پیش کرنا ابھی باقی ہے (باقی آئندہ)