کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کاتشدد کے شکار افراد سے اظہار یکجہتی کے لئے سمینار کا انعقاد

اسلام آباد26جون() کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں تشدد کے شکار افراد سے اظہار یکجہتی کے لئے آج اسلام آباد میں اپنے دفتر میں ایک سمینار کا انعقاد کیا ۔
سمینار کی صدارت کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے کنوینر محمود احمد ساغر نے کی۔ انہوں نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج جب دنیا بھر میں تشدد کے شکارافراد کی حمایت کاعالمی دن منایا جا رہا ہے ، بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی پالیسی کے طورپرتشدد کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے اور کشمیریوں کے خلاف تشدد کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی فوجی مقبوضہ جموں وکشمیر میں خوف ودہشت پھیلانے اور علاقے پر غیر قانونی قبضے کو طول دینے کے لیے تشدد کا استعمال کر رہے ہیں۔ دیگر مقررین نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کی حق خود ارادیت کی تحریک کو کچلنے کے لیے منظم طریقے سے تشدد کا استعمال کر رہا ہے لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ مقررین نے کہا کہ تشدد کے شکارافراد کی حمایت کا عالمی دن کشمیریوں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ وہ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مسلسل تشدد کی مختلف اقسام کا سامنا کر رہے ہیں۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں متعدد ٹارچر سینٹرز قائم کیے ہیں جہاں کشمیریوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہاہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے بدنام زمانہ ٹارچر سینٹرز میں ہزاروں کشمیری اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔مقررین نے کہاکہ بھارت مقبوضہ علاقے میں بجلی کے کرنٹ ، مار پیٹ اور جنسی تذلیل سمیت تشدد کے مختلف طریقے استعمال کر رہا ہے جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی پالیسی کے طور پر تشدد کا استعمال کئی بین الاقوامی رپورٹوں میں بھی سامنے آیا ہے ۔کشمیریوں کے خلاف تشدد کے وحشیانہ استعمال سے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیاہے اور اقوام متحدہ کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فوجیوں کی طر ف سے بے گناہ کشمیریوں پربہیمانہ تشدد کا نوٹس لینا چاہیے اور تشدد کے وحشیانہ استعمال پر بھارتی حکومت کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے بیگناہ شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی مظالم کو روکنے کیلئے اپنا کردار اداکریں۔ سیمینار میں غلام محمد صفی، محمد فاروق رحمانی، شیخ عبدالمتین، امتیاز وانی، محمد رفیق ڈار، نثار مرزا، میر طاہر مسعود، راجہ خادم حسین، محمد شفیع ڈار ، جاوید اقبال بٹ، دائود یوسف زئی، شیخ عبد الماجد، گلشن احمد، سید اعجاز رحمانی، منظور احمد ڈار ،عبدالمجید لون، محمد اشرف ڈار، زاہد اشرف، خورشید احمد میر، شوکت حسین بٹ، کفایت حسین رضوی ، نذیر احمد کرنائی اور دیگر نے شرکت کی۔
دریں اثناء پاسبان حریت جموں و کشمیر نے اقوام متحدہ اورانسانی حقوق کی دیگر عالمی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ تشدد کے شکارافراد کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں تشدد کے متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوں۔ پاسبان حریت کے چیئرمین عزیر احمد غزالی نے ایک بیان میں کہا کہ عالمی برادری یہ دن تو مناتی ہے لیکن ان مظلوموں کے ساتھ کھڑی نہیں ہوتی جن کی حمایت کے لئے یہ دن منایا جاتا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں معصوم شہری ریاستی مشینری اور اہلکاروں کے ہاتھوں بدترین تشدد کا شکار ہیں جبکہ کشمیریوں کے پاس آزادی کے لیے مزاحمت کے سواکوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر میں شہریوں پر بھارتی فوجیوں کے حملوں اور ہر قسم کے تشدد کا نوٹس لیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق علاقے میں رائے شماری کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔