واشنگٹن : ڈیجیٹل ٹرکوں کے ذریعے نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایاگیا

واشنگٹن 23جون ()
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورہ امریکہ کیخلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کیلئے ورلڈ کشمیر اویئرنس فورم کے زیر اہتمام ڈیجیٹل اشتہاری ٹرک کیپیٹل ہل ، وائٹ ہائوس اور دیگر وفاقی عمارتوں اور غیر ملکی سفارت خانوں کے گرد چکر لگاتے رہے ۔

PHOTO-2023-06-22-21-47-42

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق موبائل ڈیجیٹل ٹرکوں پر نصب ڈیجیٹل اسکرینوں پر "فسطائی مودی کا وائٹ ہائوس سے کوئی تعلق نہیں ،مودی کشمیر میں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم،مودی کو روکو،کشمیر میں بھارتی جمہوریت مردہ باد،کشمیریوں نے بھارت کے قبضے کو مستردکردیاہے، اقوام متحدہ کی قراردادیں تنازعہ کشمیر کا واحد حل،بھارت کے ساتھ تجارت درست نہیں جبکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں ،جموںو کشمیر کوآزاد کرو،کشمیر نسل کشی کے دہانے پر ہے :جنیو سائیڈ واچ اورکشمیرصرف کشمیریوں کا ہے "جیسے نعرے درج تھے ۔ ورلڈ فورم فار پیس اینڈ کے چیئرمین ڈاکٹر غلام نبی فائی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈیجیٹل اشتہاری ٹرک ماضی میں پیغامات کو پھیلانے کا سب سے بہترین ذریعہ ثابت ہوئے ہیں کیونکہ ڈیجیٹل اسکرینوں پردرج پیغامات لوگوں کی توجہ فوری حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نریندر مودی صدر بائیڈن کو کبھی نہیں بتائیں گے کہ ‘جینوسائیڈ واچ’ کے چیئرمین ڈاکٹر گریگوری اسٹینٹن نے کہا ہے کہ ‘جموں وکشمیر نسل کشی کے دہانے پر ہے،کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیرمیں میڈیاکا گلا گھونٹاجارہا ہے اور بھارت کی بین الاقوامی شہرت کے حامل انسانی حقوق کی کارکن اروندھتی رائے نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر دنیا کا سب سے بڑا عسکری علاقہ ہے۔

PHOTO-2023-06-22-22-01-48

ڈاکٹر فائی نے مزید کہا کہ جب تک امریکہ کی قیادت میں بین الاقوامی برادری غیر فعال رہے گی ،جموںو کشمیر میں موت اور ظلم وبربریت رقص جاری رہے گااور جنوبی ایشیا کے خطے میں جوہری تباہی کاخطرہ منڈلاتا رہے گا۔عالمی طاقتیں دیرینہ تنازعہ کشمیر کے حل میں اپنا کردا ر ادا نہ کر کے مقبوضہ علاقے کو تباہی اور قتل عام کی طرف دھکیل رہی ہیں جو کشمیری عوام کے لیے بالکل بھی قابل قبول نہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا بھارت مسلسل بین الاقوامی معاہدوں کی دھجیاں اڑارہاہے اورنہتے کشمیریوںکی مسلسل نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے

PHOTO-2023-06-22-22-03-48

۔امریکی صدر بائیڈن جموںو کشمیر کو اگلا روانڈا بننے سے روک سکتے ہیں اور ان کی مداخلت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی کو روک سکتی ہے۔ ورلڈ کشمیر اویئرنیس فورم کے صدر ڈاکٹر غلام نبی میر نے کہا کہ نریندر مودی کی طرح گزشتہ پانچ سال میں اپنے لوگوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کے قصوروار چند رہنما ہیں۔ بلا شبہ سب سے زیادہ ظالم حکمرانوں میں سے ایک نریندر مودی نفرت انگیز تقاریر، اقلیتوں بشمول مسلم، دلت، عیسائی اور سکھ آبادی کے خلاف مظالم اورلوگوںکو تشدد پر اکسانے میں ملوث ہے۔ ڈاکٹر میر نے مزید کہا کہ آج نریندرمودی کو امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے دوبارہ خطاب کے لیے کیپیٹل ہل میں مدعو کیاگیا ہے۔ یہ انتہائی ستم ظریفی ہے کہ ایک نازی فسطائی لیڈر کو امریکی دارالحکومت میں کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کی دعوت دی گئی ہے جس کے ہاتھ کشمیریوں اورمسلمانوںکے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔انہوں نے واضح کیاکہ2002میں ریاست گجرات میںمسلمانوں کے قتل عام میں ملوث ہونے کی وجہ سے نریندر مودی کے امریکہ میں داخلے پر تقریبا ایک دہائی تک پابندی عائد رہی ہے ۔