
اسلام آباد: تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر نے کہا ہے کہ الیکشن کال ہونے پر پنجاب اور پختونخوا میں اسمبلیاں تحلیل کردیں گے۔
پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ قوم فیصلہ دے چکی ہے، نئے الیکشن کی کال ہی سے ملک بحران سے نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ پس پردہ کوئی مذاکرات نہیں ہورہے، پلان دن بہ دن تبدیل ہوتا ہے۔ مارچ کے ساتھ فیصلے کرتے ہیں۔ پاکستان میں نئے الیکشن ناگزیر ہیں۔ الیکشن کال ہونے پر پنجاب، کے پی کی اسمبلیاں تحلیل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان فوج کے خلاف نہیں، نہ کبھی فوج کے خلاف بولے۔ انہوں نے وزیر اعظم ہوتے ہوئے ایبسلوٹلی ناٹ کہا۔ لانگ مارچ ڈی چوک نہیں جائے گا، باقی کہیں بھی جاسکتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے ایسی حکومت ہو کہ ڈی جی آئی ایس آئی پریس کانفرنس کریں۔یہ خود مان رہے ہیں کہ نئے الیکشن میں امپورٹڈ حکومت کا صفایا ہوجائے گا۔
اسد عمر نے کہا کہ عوام مکمل حقیقی آزادی کے لیے تیار ہیں۔ پوری قوم موبلائز ہوچکی ہے، لانگ مارچ میں بےتحاشا مخلوق آرہی ہے۔ مارچ کا ٹارگٹ شفاف الیکشن ہے۔قوم کو بیدار کرنے کا لانگ مارچ کا مشن مکمل ہوگیا، قوم کی بیداری نیا پاکستان ہے۔پاکستان کے مستقبل کے فیصلے اب صرف عوام کریں گے ،امریکا، برطانیہ یا بند کمروں میں نہیں ہوں گے۔
مسلم لیگ ن کے قائد کو مخاطب کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ میاں نواز،یہ اب یہ وہ جی ٹی روڈ نہیں جو آپ چھوڑ کر گئے ۔ لوگ نہ ہوتے تو اسلام آباد کنٹینروں کا قبرستان نہ ا ہوتا۔ ٹی وی چینلز کو فون کر کے نہ کہتے کہ لانگ مارچ نہ دکھاؤ۔ ہمارے پاس 2 آپشنز تھے،راستے چھوڑ کر فوری اسلام آباد پہنچتے۔ فیصلہ کیا کہ اسلام آباد پہنچنے میں دن زیادہ لگتے ہیں تو لگ جائیں، فیصلہ آج ہوگا۔
حکومت پر تنقید کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ عوام کو جتھے کہنے والو شرم کرو، اسی عوام سے سیٹ پر آئے۔ وزیر اعظم خدا کا خوف کرو معیشت تم ٹھیک کرو گے؟ وزیر اعظم پولیس سے چھپ کر نہیں عوام میں آکر دکھاؤ۔ اشتہاروں سے اب کوئی نہیں ڈرتا نہ بکتا۔ وزیر اعظم کو چیلنج ہے عوام میں آکر دکھائیں۔
اسد عمر نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور صحافت پر قدغن کے باعث صحافی ملک چھوڑ کر جارہے ہیں۔ عدلیہ اس پر نوٹس لے۔ ہماری فوج بہادر اور بے پناہ قربانیاں دے رہی ہے ۔ قوم فوج سے محبت کرتی ہے۔ فوج کی طاقت عوام ہے، فوج عوام کے خلاف نہیں جاسکتی۔