شہریت کا متنازع قانون: کیا انڈیا نے نفرت کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے؟

شہریت کا متنازع قانون: کیا انڈیا نے نفرت کی سیاست کو مسترد کر دیا ہے؟

انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں بی جے پی کی ریاستی شاخ کے صدر دلیپ گھوش نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ ’جو لوگ متنازع شہریت کے قانون کی مخالفت کر رہے ہیں اور جو عوامی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں انھیں ’کتوں کی طرح گولی مار دینی چاہیے جس طرح‘ ان کی ’حکومت اتر پردیش، آسام اور کرناٹک میں کر رہی ہے۔‘

ریاست اتر پردیش جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے، وہاں کے ایک وزیر نے گذشتہ دنوں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’جو لوگ ریاست کے وزیرِ اعلیٰ یا وزیر اعظم کے خلاف نعرے لگائیں گے میں انھیں زندہ دفن کر دوں گا۔‘

خود وزیر اعظم نریندر مودی نے مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’مظاہروں کے دوران تخریب کاری کون کر رہے ہیں، یہ ان کے لباس سے واضح ہے۔‘

انڈیا میں ہزاروں ایسے ہندو، سکھ، بودھ اور مسیحی تارکین وطن عشروں سے مقیم ہیں جو پڑوسی ملکوں کے سیاسی حالات، کچھ تفریق اور جبر کے سبب اپنا ملک چھوڑنے کے لیے مجبور ہوئے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ دنیا کے دوسرے خطوں کی طرح یہاں بھی بیشتر ایک بہتر زندگی کی تلاش میں آئے۔ ان تارکین کی غالب اکثریت غریب اور کمزور طبقے کی ہے۔ شہریت کے ترمیمی قانون کا مقصد ایسے تمام غیر مسلم تارکین کو شہریت دینا ہے۔

ملک میں برسوں سے مقیم تارکینِ وطن کو شہریت دینا یقیناً ایک انسانی ہمدردی کا قدم ہے۔ اس پہلو پر کسی کو اعتراض نہیں ہے۔

شہریت قانون کی مخالفت اس لیے ہو رہی ہے کہ تارکین کو شہریت دینے کا فیصلہ مذہب کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو اس سے باہر رکھا گیا ہے۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انسانی ہمدردی کی آڑ میں اس قانون کا مقصد سیاسی ہے۔

کانپور

شہریت کے قانون کا فوری تعلق آسام کے حالیہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) سے ہے۔ آسام میں 19 لاکھ باشندوں کو شہریت کی فہرست سے باہر رکھا گیا ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق اس میں اکثریت بنگالی ہندوؤں کی ہے مگر کئی لاکھ بنگالی مسلمان بھی شہریت سے باہر رکھے گئے ہیں۔

شہریت قانون کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ شہریت کے نئے قانون کے تحت حکومت آسام میں شہریت کی فہرست سے باہر ہونے والے ہندوؤں کو تو شہریت دے دے گی لیکن لاکھوں مسلمانوں کو ’گھس بیٹھیے‘ قرار دے کر شہریت اور قومیت سے محروم کر دے گی۔

انڈیا کے مسلمان پورے ملک میں اس قانون کی اس لیے بھی مخالفت کر رہے ہیں کہ اگر مستقبل میں پورے ملک میں این آر سی نافذ کیا گیا تو اس قانون کے تحت شہریت سے باہر ہونے والے ہندوؤں کو تو دوبارہ شہریت مل جائے گی لیکن متاثرہ مسلمانوں کی شہریت ختم ہو جائے گی۔

حکومت کی دلیل ہے کہ شہریت کا قانون شہریت دینے کے لیے ہے کسی کی شہریت واپس لینے کے لیے نہیں۔

اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر صرف شہریت دینے کا سوال تھا تو یہ قدم اپوزیشن کی حمایت سے موجودہ قوانین کے تحت ہی آسانی سے اٹھایا جا سکتا تھا، لیکن اس کا مقصد سیاسی ہے۔

حکومت نے پارلیمنٹ میں جب شہریت کے بل کو پیش کیا تو اسے اندازہ نہیں تھا کہ ایک کمزور اپوزیشن اس بل کی اتنی شدت سے مخالفت کرے گی اور اسے مسلمانوں کا نہیں بلکہ ملک کے سیکولر آئین پر حملے کا ایک مسئلہ بنا دے گی۔

اور شاید حکومت کو یہ بھی اندازہ نہیں تھا کہ کسی لیڈر یا تنظیم کے بغیر مسلمان پورے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں اس کی مخالفت میں سڑکوں پر آ جائیں گے۔

انڈیا کے طلبہ میں ایک عرصے سے ملک کے حالات خاص طور پر ملازمت کے کم ہوتے ہوئے مواقع پر ایک عرصے سے بے چینی پنپ رہی تھی۔ جامعہ ملیہ اور علی گڑھ یونیورسٹی کے احتجاجی طلبہ پر پولیس کی بے رحمانہ کارروائی نے بے چین طلبہ میں جلتی پر آگ کا کام کیا۔

الہٰ آباد کے منصور علی پارک میں مظاہرین کئی دن سے لگاتار احتجاج کر رہے ہیں
بظاہر یہ مخالفت اب ایک ملک گیر تحریک بن چکی ہے اور اس تحریک میں مسلم خواتین کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔

لاکھوں کی تعداد میں خواتین مظاہروں، احتجاج اور دھرنوں میں شریک ہو رہی ہیں۔ دلی کا شاہین باغ خواتین کی مزاحت کی علامت بن گیا ہے اور حکومت کے لیے یہ صورتحال غیر متوقع تھی۔

ملک گیر مظاہروں سے حکومت نے فی الحال دفاعی رخ اختیار کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو ملک گیر این آر سی نافذ کروانے کے اپنے فیصلے کو واپس لینا پڑا ہے۔

فروری کے دوسرے ہفتے میں دلی کے اسمبلی انتخابات میں اگر ‏عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کو دوبارہ شکست دے دی تو مودی اور امیت شاہ کو ایک اور دھچکہ پہنچ سکتا ہے لیکن وہ پیچھے ہٹنے والے رہنما نہیں ہیں۔

بہت ممکن ہے کہ اپوزیشن یا مظاہرین کی کوئی بڑی غلطی یا دہشت گردوں کی جانب سے کوئی بڑی واردات صورتحال کو یکلخت بدل سکتی ہے۔

اس مرحلے پر انڈیا ایک تغیر سے گزر رہا ہے۔ ملک کے مسلمان تقسیم ہند کے بعد پہلی بار اجتماعی طور پر اپنے ملک میں اپنے حق کے دفاع کے لیے کھڑے ہوئے ہیں جس میں انھیں طلبہ اور ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے عام شہریوں سے زبردست حمایت مل رہی ہے۔

یہ تحریک کہاں تک جائے گی اس مرحلے پر کچھ اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن آنے والے دنوں میں حالات کے مزید بگڑنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس کی سیاسی منزل انڈیا کو سبھی کو مساوی حق دینے والی ایک جمہوریت سے ہندو اکثریتی جمہوریت میں تبدیل کرنا ہے جس میں مسلمانوں اور مسیحی شہریوں کی حیثیت برابری کی نہیں بلکہ ثانوی ہوگی۔

اس کے لیے آئین میں ابھی کئی ترامیم کی جائیں گی اور یکساں سول قوانین بھی حکومت کے ایجنڈے میں ہے۔

لیکن مودی اور امیت شاہ کا یہ سیاسی سفر پُرخطر ہے۔ ملک کی معیشت تیزی سے زوال پذیر ہے اور بین الاقوامی حلقوں میں مودی کی قیادت کے بارے میں شبہات ظاہر کیے جا رہے ہیں اور مقامی انتخابات میں انھیں کئی ریاستوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

شہریت قانون کے خلاف اس تحریک کی کامیابی یا ناکامی ملک کی مستقبل کی سیاست میں اہم کردار ادا کرے گی۔