
کیا واقعی ایک چہرے کے سات لوگ ہوتے ہیں؟
ہماری یاداشت انتہائی کمزور ہے اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں یا تو ہم بے حس ہو گئے ہیں اور ہم بری چیزوں کویاد ہی نہیں رکھنا چاہتے یا سوشل میڈیا کی بدولت برسٹ آف انفارمیشن کو برداشت نہیں کر پا رہے ہیں اور واقعات کو جلدی بھول جاتے ہیں ایک اور وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید ہمارے اردگرد رونمائ ہونے والے واقعات کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ اب کس کس کو یاد رکھا جائے اور موضوع بنایا جائے۔ گزشتہ سال جولائی کے آخر ی ہفتے میں اسلام آباد کے پوش علاقے کی ایک ویڈیو وائرل ہوتی ہے جس میں ملزمان ایک جوڑے کو برہنہ کرکے کے ان پر تشدد کرتے ہیں اور ذود و کوب کے علاوہ لغویات بھی بکتے ہیں رات ورات وائرل ہونے والی ویڈیو نے جیسے جنگل میں آگ لگا دی ہو اور سارے پاکستان میں کہرام سا مچ گیا تھا وزیر اعظم نے بھی اس وڈیو کا نوٹس لیا اور ہر شخص غم و غصے کی آگ میں لپٹا ہوا تھا ملزمان کو 6 جولائی کو گرفتار کر لیا گیا اور وڈیو کو فرانزک کے لئے بھیج دیا گیا اور ملزمان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نپٹنے کا فیصلہ کیا گیا ریمانڈ کے دوران ملزمان نے بتایا کہ وہ اسلام آباد کے پوش ایریا میں گاڑیوں کے کاروبار سے منسلک ہیں اور ان کے پاس ایسی مزید ویڈیوز بھی موجود ہیں۔
رواں سال اسی ہفتے کیس کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل حسن عباس نے متاثرہ خاتون سے جرح کی تو متاثرہ خاتون نے کہا کہ وہ اپنا تحریری بیان عدالت میں جمع کروا چکی ہیں اور وہ ان گرفتار ملزمان کی شناخت نہیں کرتیں جب ان سے پوچھا گیا کہ گرفتار ملزمان میں سے تین کی شناخت تو وہ اڈیالہ جیل میں کر چکی ہیں توان کا جواب تھا کہ مزید سوالات پوچھ کر ان کو پریشر آئز نہ کیا جائے دوران استفسار لڑکی نے کہا کہ دنیا میں ایک شکل کے سات لوگ ہوتے ہیں وہ گرفتار ملزمان کی شناخت نہیں کرتیں۔
اب آئیے دوسری جانب نور مقدم کیس سے تو آپ سب ہی واقف ہوں گے کہ اسلام آباد میں گرشتہ برس جولائی ہی کی مہینے میں سابق سفارتکار شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو قتل کیا گیا قتل کرنے والے ملزم ظاہر جعفری کو 17 جنوری کو عدالت میں کرسی پر بیٹھا کر پیش کیا گیا جس پر ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی زہنی صحت دن بدن ابتر ہوتی جا رہی ہے وہ عدالت میں پیش ہونے کے قابل نہیں لیکن معزز عدالت کے حکم پر اس حالت میں بھی پیش ہوئے اب کل تک نور مقدم کے قتل کی ویڈیوز بھی جعلی نکل آئیں گی یا ملزم ظاہر جعفری پاکل ڈکلییر کر دیا جائے گا پھر ہو گا کیا ایک دفعہ پھر سے طاقت کے آگے قانون بے بس نظر آئے گا۔ ویسے یہ تجربہ کوئی نیا نہیں ہے
ماضی میں سابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری بھی 2003 میں عدالت کے سامنے دماغی صحت ٹھیک نہ ہونے کا سرٹیفیکیٹ پیش کر چکے ہیں حالانکہ موصوف کا دماغ تو بہت سوں سے اچھا آج بھی کام کر رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف صاحب بھی عدالت میں علالت ہی کا سرٹیفیکیٹ جمع کروا کر ہائے ہائے کرتے ہوئے بغرض علاج لندن روانہ ہوگئے تھے اور ابھی تک معزز عدالتیں موصوف کو طلب کر رہی ہیں۔ ان سارے واقعات کو اگر ایک بڑے کینوس پر دیکھا جائے تو ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس! قانون عام آدمی سے تو آہنی ہاتھوں سے نبٹ لیتا ہے جب اس کا سامنا طاقتور سے ہوتا ہے تو قانون اپنے ہی گرداب میں پھنس کر رہ جاتا ہے آئین پاکستان تمام شہریوں کو ایک آنکھ سے دیکھتا ہے اور ایک جیسے حقوق مہیا کرتاہے لیکن یہاں طاقت ہی سب کچھ ہے جس کا سر چشمہ عوام نہیں ہیں