انسانی حقوق کے سرکردہ کشمیری کارکن طالب حسین جنوبی کشمیر میںگرفتار کر لیا گیا ماورائے عدالت قتل ہونے والے کشمیری نوجوان کا معاملہ اٹھانے پر مقدمہ درج

سری نگر() پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن طالب حسین کو جنوبی کشمیر میںگرفتار کرلیا گیا ہے ۔طالب حسین بھارتی فورسز کی حراست  میں ماورائے عدالت قتل ہونے والے کشمیری نوجوان  پرویز احمد کے لواحقین کے لیے انصاف کی مہم شروع کی تھی ۔طالب حسین نے 2018میں کٹھوعہ میں ایک نابالغ بچی کی اجتماعی عصمت دری کے معاملے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیاتھا۔ طالب حسین کے خلاف تین ہفتے قبل لارنو پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا ایک قبائلی نوجوان پرویز احمد  کو بھارتی فورسز نے 7 اکتوبر کو قتل کر دیا تھا  ۔ ایس ایچ او لارنو کے مطابق طالب حسین نے مقامی لوگوں کو قابض انتظامیہ اور بھارتی فورسز کے خلاف اکسایاتھا ۔ طالب نے اپنے بھائی کو بتایا ہے کہ پولیس نے اسے گزشتہ ماہ پرویز احمد کے قتل کے بارے میں جاری کی گئی چودہ منٹ دورانیے کی ویڈیو کی وجہ سے گرفتار کیا ہے جسے دس ہزار سے زائد لوگوں نے دیکھا تھا۔طالب حسین کے وکیل طارق نے میڈیاکو بتایا کہ انہوں نے ضمانت کے لیے درخواست دے دی ہے اور امید ہے کہ طالب کو ضمانت مل جائے گی ۔طالب حسین اس وقت محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی سے وابستہ ہیں۔پی ڈی پی کے ترجمان نے طالب کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کو پی ڈی پی رہنمائوں کو ہراساں کرنے کاسلسلہ اب ختم کردینا چاہیے۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ طالب نے کیا جرم کیا ہے؟ کیا اب قبائلی برادری کے حق میں بولنا اور ان پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرنا جرم ہے؟۔