
سرینگر میں کئی مقامات پر کمیونٹی ہالوں کو بھارتی فورسز اہلکاروں نے اپنی تحویل میںلے لیا تمام شاہرائوں اور گلی کوچوں پر نئے بنکر تعمیر کئے گئے ہیں اور مزید بنکر بنانے کا کام جاری ہے اگر کشمیر میں واقعی امن قائم ہے تو پھر اضافی فورسز کی تعیناتی کا کیا مقصد ہے، شیخ مصطفی کمال
سری نگر() مقبوضہ کشمیر کے دارلحکومت سرینگر میں کئی مقامات پر کمیونٹی ہالوں کو بھارتی فورسز اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لیا ہے جبکہ اس سے قبل ہی تمام شاہرائوں اور گلی کوچوں پر نئے بنکر تعمیر کئے گئے ہیں اور مزید بنکر بنانے کا کام جاری ہے۔ نیشنل کانفرنس جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال نے سری نگر میں پارٹی کارکنوں سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں مزید5ہزاراضافی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف بھارتی حکومت اور مقامی انتظامیہ یہاں امن وسکون اور تعمیر و ترقی کے دعوے کرتے نہیں تھکتے لیکن دوسری جانب آئے روز فورسز کی تعداد میں اضافہ کیا جارہا ہے۔ اگر کشمیر میں واقعی امن قائم ہوا ہے تو پھر ان اضافی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لانے کا کیا مقصد ہے؟وادی میں 5ہزار اضافی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر کمال نے کہا کہ رپورٹوں کے مطابق 3ہزار فورسز اہلکاروں کو سرینگر میں تعینات کیا جارہا ہے جبکہ 2ہزار کو دیگر اضلاع میں بھیجا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جو اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر میں کئی مقامات پر کمیونٹی ہالوں کو بھارتی فورسز اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لیا ہے جبکہ اس سے قبل ہی تمام شاہرائوں اور گلی کوچوں پر نئے بنکر تعمیر کئے گئے ہیں اور مزید بنکر بنانے کا کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ سے مرکزی وزرا اور ان کے افسران یہاں کے دورے کررہے ہیں اور ہر کوئی یہ دعوی کررہا ہے کہ یہاں کے حالات پرامن ہیں اور لوگ کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ اگر مذکورہ وزرا اور افسران کے دعوے صحیح ہیںتو یہاں اضافہ فورسز کمک کی کیا ضرورت آن پڑی ہے۔