
حریت کانفرنس کے سینئر رہنماءشیخ عبدالمتین کا جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے پر ترکی کے صدر سے اظہار تشکر
اسلام آباد۔23ستمبر () کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کے نمائندہ خصوصی اور سینئر حریت رہنماءشیخ عبدالمتین نے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اجاگر کر نے کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی کی حکومت نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کی ہے۔ جمعرات کو یہاں ایک بیان میں انہوں نے کشمیر کے بارے میں ترک صدر کے دوٹوک موقف پر ان سے اظہار تشکر کیا۔ شیخ عبدالمتین نے کہا کہ صدر رجب طیب اردگان کا اقوام متحدہ کے اجلاس میں کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کا اعادہ برسر جدوجہد کشمیریوں کے لئے ایک حوصلہ افزاءپیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے اور کشمیریوں نے بھارتی تسلط سے آزادی اور حق خودارادیت کے حصول کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، اقوام متحدہ کو کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی کے کشمیر کے بارے میں موقف اور صدر رجب طیب اردگان کے جنرل اسمبلی سے خطاب میں مسئلہ کشمیر کے ذکر نے کشمیری عوام کو حوصلہ دیا ہے۔ ترکی کے صدر نے کشمیر کے بارے میں اپنے دیرینہ موقف کا اعادہ کیا اور تنازعہ کشمیر کے حل کے لئے فریقین کے درمیان بات چیت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ شیخ عبدالمتین نے کہا کہ کشمیری عوام بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل تلاش کیا جانا چاہئے۔ حریت کانفرنس کے رہنماءنے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیاں کررہا ہے جبکہ وہ مقبوضہ علاقہ میں غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل جاری کرکے آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے،کشمیر کے حوالے سے بھارتی حکومت کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کا مقصد مسلمانوں کی آبادی کا تناسب کم کرنا اور بھارتی باشندوں کو مقبوضہ علاقہ میں آباد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، بھارت کے ان مذموم منصوبوں کے باوجود کشمیری عوام اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔