گلگت عبوری صوبہ۔۔۔ جماعت اسلامی کی بامقصد قرار داد ۔

سچ تو یہ

بشیر سدوزئی

ڈوگرہ کی ریاست جموں و کشمیر کے صوبہ گلگت بلتستان کو عوام کی خواہش کے احترام میں پاکستان کا پانچواں عبوری صوبہ بنانے میں اب زیادہ تاخیر نہیں۔ پاکستان کی تمام ہی سیاسی جماعتوں نے بڑے دفتر میں رضامندی ظاہر کر رکھی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ آئینی ترمیم کا مسودہ تیار ہے ۔اس سے قبل گلگت بلتستان کی اسمبلی میں قرار داد منظور کرائی جائے گی حالاں کہ اقوام متحدہ نے 1953ء سری نگر اسمبلی کی اسی طرح کی قرار داد مسترد کر دی تھی تاہم حکومت پاکستان گلگت بلتستان کی اسمبلی کی قرارداد کی روشنی میں پارلیمنٹ میں دستور پاکستان میں تبدیلی کا بل لائے گی اور سب ممبران باہمی اختلافات بھول کر باادب ہاتھ کھڑا کر لیں گے۔ اور گلگت بلتستان کے نمائندے پاکستان کی قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبر بن جائیں گے۔ آزاد کشمیر کی سیاسی جماعتیں اس کے خلاف بیان دے رہی ہیں لیکن ان کے مرکز کی تائید کے بعد ان کے بیانات کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی ۔ اسی لیے کے ایچ خورشید پاکستانی سیاست کو آزاد کشمیر میں متعارف کرانے کی مخالفت کرتا رہا کہ پاکستانی پارٹیوں کی آزاد کشمیر میں فرنچائز کھولنے سے کشمیری قیادت کا فیصلہ کرنے کا اختیار ختم ہو جائے گا۔ سو آج مسلم لیک ن ہو یا پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی یا کوئی بھی ایسی جماعت جو کسی پاکستانی سیاسی پارٹی کی فرنچائز ہے کی قیادت کو انتخابات میں کسی کارکن کو ٹکٹ دینے کا اختیار تک نہیں رہا۔ سلطان محمود چوہدری کو تو اس کا خوب اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ایک غیر ریاستی شخص نے کہا آزاد کشمیر کا وزیر اعظم میں خود منتخب کروں گا ۔ سو ایسا ہی ہوا اور چوہدری صاحب چوں چراں بھی نہ کر سکے ۔ وزارت عظمی بھی گئی اور پارٹی صدارت بھی ۔ بھاگتے چور کی لانگوٹی ایک بے اختیار کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ ہوا جی بسملہ ۔۔۔جو مرکز کہے گا وہ ماننا پڑے گا ۔ کشمیری سیاست کو سب سے زیادہ نقصان راجہ فاروق حیدر خان اور اس کی ٹیم نے پہنچایا جنہوں نے جموں و کشمیر کی سب سے پرانی جماعت مسلم کانفرنس کو توڑ کر کشمیری سیاست میں آخری کیل ٹھونکی ۔ راجہ صاحب کی ٹیم نے اس بانس کو ہی ختم کر دیا جس سے بانسری بجنے کی کچھ امید باقی تھی۔ اب گلگت بلتستان کے مسئلہ پر وہی لوگ بول رہے ہیں جن کو انتخابات میں دو سو ووٹ بھی نہیں ملتے۔ “نقار خانے میں توطی کی آواز ” کے مصداق ان بے چاروں کی آواز کو کون سنے جن کی کوئی آواز ہی نہ ہو ۔قوم پرست رہنما سردار صغیر خان کی کسی اجتماع سے خطاب کی ویڈیو وائرل ہوئی جو اپنے ہی کارکنوں سے شکوہ کرتے ہیں کہ کسی احتجاجی مظاہرے کے لیے روانہ ہوتے ہیں اور آدھے سے زیادہ لوگ راستے سے ہی واپس آ جاتے ہیں منزل تک پہنچنے میں چند یا بہت ہی کم لوگ رہ جاتے ہیں ۔ قوم پرست جماعتوں کا المیہ ہے کہ تقسیم در تقسیم کے باعث ان کی آواز بھی مختصر ہو گئی۔ یاسین ملک سخت اذیت میں ہے لیکن قوم پرستوں نے بین الاقوامی سطح پر اس کے لیے قابل ذکر مہم نہیں چلائی ۔ جو لوگ اپنی قیادت کے ساتھ مخلص نہیں ان سے قومی ایشوز پر انقلابی پروگرام کی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔ دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیوں سے رقم لینے کے الزامات ایک دوسرے پر با آواز بلند لگاتے ہیں ۔ کشمیر کے قوم پرستوں نے قوم پرستی کم اور گالم گلوچ زیادہ کر کے قوم کو مایوس ہی کیا ۔ کشمیریوں کی اسی صورت حال کو دیکھ کر گلگت بلتستان کے عوام کو لفظ کشمیری سے نفرت ہو گئی ہے ۔وہ کشمیری ہونے کے باوجود اکثریت کشمیری کہلانا گالیاں سمجھتے ہیں ۔ کسی حد تک ان کا موقف غلط بھی نہیں ۔ کشمیری قیادت نے گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ بڑی زیادتی کی، خواہ وہ مقبوضہ کشمیر کی قیادت ہو یا آزاد کشمیر کی ۔اس پر طرہ یہ کہ ابھی تک کسی نے اس زیادتی کی ان سے معافی بھی نہیں مانگی ۔ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت کو سرعام گلگت بلتستان کے عوام سے مافی مانگنی چاہئے 1948میں معائدہ کراچی اور آل پارٹیز حریت کانفرنس جموں و کشمیر میں نمائندگی نہ دینے کی۔اگر کشمیری ان کو کشمیری نہیں سمجھیں گے تو ان کو کشمیری کہلانے کی کیا ضرورت ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت تو گلگت بلتستان کے عوام کو منہ دیکھانے کے قابل بھی نہیں معائدہ کراچی میں ایک صوبہ کو سول سرونٹ کے ماتحت دے کر خود مظفرآباد میں ریاستی اختیارات اور اقتدار کے مزے لوٹتے رہے اور گلگت بلتستان کے عوام نے آدھی صدی سے زیادہ غلامی کی زندگی گزاری۔ آج ان سے کسی بھی قسم کا شکوہ جائز نہیں۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے کراچی معائدہ کرنے کا اختیار چوہدری غلام عباس اور سردار محمد ابراہیم خان کا نہیں تھا اس لیے کہ اس وقت آزاد کشمیر کابینہ میں گلگت بلتستان کا کوئی نمائندہ تھا نہ ہی مسلم کانفرنس نے کبھی گلگت بلتستان میں اہنی شاخ قائم کی۔ اب جماعت اسلامی کا تازہ موقف حوصلہ افزاءہے لیکن بہت تاخیر ہو چکی۔ کے ایچ خورشید نے یہ تجویز 1962ء میں دی تھی۔ 59 سال بعد بلآخر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر کی مرکزی مجلس شوری نے ریاست کی تحریک آزادی کو منتقی انجام تک پہنچانے کے لیے بامقصد قرار داد منظور کر لی جس کا انتظار چھ عشروں سے تھا ۔ یہ امید سید علی گیلانی سے تھی کہ وہ اپنی جوشیلی تقریروں سے نوجوانوں کے لہو کو گرمانے کے ساتھ سفارتی محاذ کو بھی گرم رکھنے کے لیے کوئی تدبیر سوچیں گے لیکن ان سے یہ بھول ہوئی کہ جن سے تحریک آزادی شروع کرنے کا معاہدہ ہوا ان سے سیاسی اور سفارتی اختیارات اپنے پاس نہ لے سکے۔ اسی لئے ان کی حیات میں یہ ممکن نہ ہوا کہ یہ مطالبہ کیا جاتا ” اب کہ برس ہم گلشن والے اپنا حصہ پورا لیں گے ۔۔۔ کانٹوں کو تقسیم کریں گے پھولوں کو تقسیم کریں گے” پھول کانٹے تقسیم نہ کرنے کا نقصان یہ ہوا کہ ایک لاکھ نوجوانوں کو شہید کرانے کے باوجود کشمیری ریاست کی آزادی حاصل کرنا تو دور کی بات اسے یکجا بھی نہ رکھ سکے ۔ بھارت نے پہلے ریاست کے ٹکڑے کئے اب گلگت بلتستان صوبہ بنایا جا رہا ہے۔ اور آزاد کشمیر پر بھی تلوار لٹک رہی ہے ۔ کچھ ناسمجھ یا مطلب پرست کشمیری ہی یہ تجویز دے رہے ہیں کہ آزاد کشمیر کو وفاقی اداروں میں نمائندگی دی جانی چاہئے ۔گویا کان کو الٹا پکڑنے کی کوشش شروع کر دی گئی ہے ۔ ایسے وقت میں جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر کی مرکزی مجلس شوری کی جانب سے ، گلگت بلتستان سمیت آزاد کشمیر حکومت کو پوری ریاست کی نمائندہ حکومت تسلیم کرنے کی قرارداد بر وقت بھی ہے اور بامقصد بھی۔ راجہ فاروق حیدر خان بطور وزیراعظم بہت زیادہ قوم پرست لیڈر کے طور پر نمایاں ہو رہے تھے اگر وہ واقعی پورے کشمیر کی آزادی اور پاکستان میں شمولیت کےلئے مخلص ہیں تو جماعت اسلامی کی اس قرار داد کی حمایت کریں اور اسی نوعیت کی قرار داد مسلم لیگ ن سمیت ہر کشمیری جماعت کی طرف سے منظور ہو۔ ممکن ہے صورت حال میں کچھ تبدیلی آئے بصورت دیگر ہمارے ان بچوں کا خون رائیگاں چلا جائے گا جن کو بھارتی درندے تین عشروں سے بے دردی سے شہید کر رہے ہیں۔ یہ آخری موقع ہے اگر یہ بھی ضائع ہو گیا تو پھر تاریخ میں ڈوگرہ گلاب سنگھ کی یکجا کی ہوئی ریاست جموں و کشمیر کبھی آزاد ہو گی نہ یکجا ۔ اس لیے جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے خون اور بہنوں کے آنسوؤں کی لاج رکھنے کے لیے آزاد کشمیر کی قیادت کو ایک پیج پر آنا چاہیے ۔ پوری قوم کو جماعت اسلامی آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے اس مطالبے کی حمایت کرنا چاہئے کہ پاکستان گلگت بلتستان سمیت آزاد جموں و کشمیر کی حکومت کو کشمیریوں کی نمائدہ اور ڈوگرہ کی جانشین حکومت تسلیم کرئے جس کا اعلان سردار محمد ابراہیم خان نے 24 اکتوبر 1947ء میں کیا تھا ۔ معائدہ کراچی کو کالعدم قرار دے کر آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کے درمیان نیا معائدہ عمل میں لایا جائے ۔آزاد کشمیر کی کابینہ میں وزیر خارجہ کا اضافہ کر کے مظفرآباد کو تحریک آزادی کا حقیقی بیس کیمپ بنایا جائے کشمیر اپنی آزادی کی سفارت کاری خود کریں کشمیریوں کے پاس سردار مسعود خان، تسلیم اسلم سمیت ڈائس پورا میں سیکڑوں افراد موجود ہیں جو سفارتی محاذ پر بھارت کو چیت کر سکتے ہیں ۔ بھارت پر اس کے بہت سخت اثرات مرتب ہوں گے ۔