جدہ (اسپیشل رپورٹر)جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سعودی عرب کے رہنمائوں شفیق ملک، صغیر ملک ،محمود مغل، امجد نسیم ،سردار گلفراز، پرویز ملک، اکمل شفیع، یاسین آصف، معروف ملک، محمد حسیب، امریز راجہ اور دیگر رہنمائوں نے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک کو آزادی مانگنے کی پاداش میں بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید رکھا گیا ہے۔

جدہ (اسپیشل رپورٹر)جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سعودی عرب کے رہنمائوں شفیق ملک، صغیر ملک ،محمود مغل، امجد نسیم ،سردار گلفراز، پرویز ملک، اکمل شفیع، یاسین آصف، معروف ملک، محمد حسیب، امریز راجہ اور دیگر رہنمائوں نے لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک کو آزادی مانگنے کی پاداش میں بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید رکھا گیا ہے۔بھارت اوہچھے ہتھکنڈے سے باز رہے اور فی الفور یاسین ملک کی رہائی یقینی بنائے۔اُنھوں نے کہا کہ بھارت یاسین ملک کو قید میں رکھ کر کشمیری عوام کو محکوم نہیں بنا سکتا۔لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں نے اپنے قائدیاسین ملک کی بھوک ہڑتال کے اعلان کی اطلاعات پر بھی تشویش ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ بھارت کو سمجھنا ہوگا کہ کشمیری رہنماوں کو قید کرکے وہ کشمیری عوام کو محکوم نہیں بناسکتا۔ جموں وکشمیر کے تنازعہ کو حل کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کیاجائے جو کشمیریوں کے استصواب رائے کے ناقابل تنسیخ حق کی ضمانت دیتی ہیں۔ہندوستانی حکومت کشمیریوں کی صدائے آزادی دبانے کے لیے ناپاک اور اوہچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے اور ہمارے قائد یاسین ملک کو شہید کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔یاسین ملک نے کشمیریوں کی آزادی کے لیے اپنی جوانی اور اپنا خاندان قربان کیا۔ ‘ایک یاسین ملک کو شہید کیا گیا تو دنیا بھرسیکروڑوں یاسین ملک نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کے بعد دنیا میں لاک ڈاؤن جیسی صورت حال عالمی برادری کے لیے سوچنے کا وقت ہے۔لبریشن فرنٹ کے رہنمائوں کیمطابق کشمیر میں مظالم پر خاموش عالمی برادری کی اکثریت خود لاک ڈاؤن میں چلی گئی ہے، کشمیریوں کے اوپر بہیمانہ مظالم پر دنیا گونگی اور بہری بنی ہوئی ہے۔ ‘دنیا (کشمیر کی) موجودہ صورتحال میں ہوش کے ناخن لے اور انسانیت کے لیے آواز اٹھائے۔اُنھوں نے کہا کہ بدنام زمانہ ٹاڈا قانون کے تحت 30 سال پرانے کیس میں بھارتی حکومت کے جعلی الزامات کے خلاف احتجاج کے طورپر یکم اپریل 2020 سے یاسین ملک کے بھوک ہڑتال کرنے کے اعلان کی اطلاعات پریشان کن ہیں۔ کشمیریوں کی آواز دبانے کے لئے ایک سیاسی رہنما کو انتقام کا نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے۔کشمیری رہنما کے ساتھ بھارتی حکومت کے اس غیر انسانی سلوک کا بین الاقوامی برادری بشمول اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموںاور عالمی میڈیا کو نوٹس لینا چاہئے جو دہائیوں سے آزادی کے لئے پرامن جدوجہد کررہے ہیں۔ بھارت پر زور دیا جائے کہ وہ یاسین ملک کو فوری رہا کرے اور ان پر تمام جھوٹے الزامات واپس لے۔ اُنھوں نے کہا کہ یاسین ملک کی صحت شدید خراب ہے اور انہیں انٹرنیشنل کنونشنز کے تحت مناسب طبی دیکھ بھال اور علاج فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کشمیری رہنما کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا نوٹس لے، بھارت فوری یاسین ملک کو رہا کرے، جھوٹے الزامات واپس لیے، یاسین ملک کو عالمی کنونشنز کے تحت مناسب علاج کی ضرورت ہے۔یاسین ملک کی بگڑتی صحت پر کشمیریوں کو گہری تشویش ہے، اقوام متحدہ کو بھارتی حکومت کے غیرانسانی سلوک کانوٹس لینا چاہیے، بھارت سے فوری یاسین ملک کو رہا کرنے کی تاکید کی جائے۔