سری نگر( ) کشمیری مصنف پروفیسر ترلوک سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم ہونے چاہئیں، کیونکہ مخاصمت کا خمیازہ کشمیری عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے’ بھارتی ٹی وی سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میری یہ خواہش ہے کہ میرے مرنے کے بعد میری چتا کی راکھ کو کشمیر کی سڑکوں پر ڈال دیا جائے تو میری روح کو سکون حاصل ہو۔۔ترلوک سنگھ کہتے ہیں کہ انہوں نے 2012 اور 2016 میں پاکستان کا سفر کیا وہاں کے لوگوں سے ملاقات کی ترلوک سنگھ نے بتایا کہ پاکستانی بھی پاکستان بھارت مابین رشتوں کو دل سے لگاتے ہیں اور وہ بھی اس بات کے خواہاں ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان امن و آشتی اور اخوت و محبت کی شمع روشن ہو، کیونکہ امن و سلامتی دونوں ملکوں کے لیے ضروری ہے’۔ترلوک سنگھ نے بتایا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں اس کی وضاحت کی ہے کہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم ہونے چاہئیں، کیونکہ مخاصمت کا خمیازہ کشمیری عوام کو ہی بھگتنا پڑتا ہے’۔ترلوک سنگھ نے بتایا کہ ‘ترال کا علاقہ ہمیشہ بھائی چارہ کے لیے مشہور رہا ہے اور آج تک یہاں کبھی بھی مذہبی منافرت کا واقع پیش نہیں آیا، حالانکہ معروف عسکری کمانڈر برہان وانی کا تعلق اسی علاقے سے تھا، لیکن یہاں کسی کو آنچ تک نہیں آئی اور مجھے بے حد خوشی ہے کہ یہاں کی بچیاں بھی آگے بڑھ رہے ہیں اور یہاں کی مٹی سے مجھے بہت پیار ہے’۔انہوں نے کہا کہ جب میں ملازمت سے سبکدوش ہوا تھا تو میں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ جب میرا انتقال ہو جائے تو میری راکھ کو کشمیر کی سڑکوں پر بچھایا جائے تاکہ میری روح کو سکون حاصل ہو’۔