کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال مکمل ، ہونے پرکشمیریوں نے یوم سیاہ منایا مقبوضہ جموں کشمیر میں عام ہڑتال گی گئی جبکہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں یوم استحصال منایا گیا

سری نگر ، مظفر آباد، اسلام آباد() آزاد کشمیر ، مقبوضہ کشمیر اورپاکستان سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے  جمعرات کو بھارت کے خلاف یوم سیاہ منایا ۔ مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال  رہی  جبکہ پاکستان و آزاد کشمیر میں یوم استحصال منایا  گیا ۔آزاد کشمیر ، مقبوضہ کشمیر اورپاکستان کے  ساتھ ساتھ  پورپ ، امریکہ اوردنیا کے دوسرے خطوں میں بھی کشمیری یوم سیاہ کے سلسلے میں بھارت کے خلاف احتجاج کیا گیا ۔ بھارت نے 5 اگست 2019 کو جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کا قانون آرٹیکل 370  اور ریاستی  درجہ  ختم کر دیا تھا ۔ جموں وکشمیر کو دو  حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے دو سال پورے ہونے پر جمعرات کو بھارت کے خلاف یوم سیاہ  منایا گیا  احتجاجی جلسے جلوس اور مظاہرے ہو ے ۔   احتجاج کا مقصد بھارت اور بین الاقوامی برادری کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ 2019 میں اس دن بھارت کی طرف سے کئے گئے غیر قانونی اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔  یوم سیاہ کے سلسلے میں لندن ، پیرس، برسلز، واشنگٹن اور کئی یورپی ممالک میں بھارتی سفارتخانوں کے سامنے کشمیریوں نے احتجاج کیا  5 اگست کو یوم سیاہ منانے ، ہڑتال کرنے اور احتجاج  کی اپیل  قائد تحریک آزادی کشمیر  سید علی گیلانی ،کل جماعتی حریت کانفرنس اور دوسری تنظیموں نے کی تھی ۔ 15 اگست کو بھارتی یوم آزادی  کے موقع پر بھی یوم سیاہ منایا جاے گا۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنٹرول لائن کے دونوں جانب، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں سے اپیل کی ہے کہ  5 اگست  سے 15 اگست تک  عاشورہ مزاحمت منایا جائے۔سیاہ جھنڈے لہرائے گئے  خصوصی دعائیہ مجالس کااہتمام کیا گیا شہید عزیمت شیخ عبدالعزیز اور دیگر شہدا کو ان کے یوم شہادت پر خراج عقیدت پیش کیا گیا