
مقبوضہ کشمیر میں دو سال میں بیروزگاری کی شرح 5.4 فیصد سے بڑھ کر 5.6 فیصد ہوگئی 2019 میں آرٹیکل 370 کے کاتمے کے بعد جموں وکشمیر میں بے روزگاری بڑھ گئی ہے
سرینگر( ) مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد دو سال میں بیروزگاری کی شرح 5.4 فیصد سے بڑھ کر 5.6 فیصد ہوگئی ہے۔نریندر مودی کی زیرقیادت ہندوستانی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر کے معاشی استحکام کے دعوے کررہی ہے تاہم جموں و کشمیر کی معاشی صورت حال خراب ہے ۔ کے پی آئی کے مطابق اگست 2019 میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد جموں وکشمیر میں بے روزگاری بڑھ گئی ہے ہندوستانی حکومت کی عوامی پالیسی تھنک ٹینک نیتی آیوگ کے ذریعہ جاری پائیدار ترقیاتی اہداف(ایس ڈی جی) انڈیکس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جموں وکشمیر میں بیروزگاری کی شرح سال 2019 میں 5.4 فیصد تھی ۔ 2021 میں 5.6 فیصد ہوگئی ہے۔انڈیکس نے محکمہ روزگار کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ جموں وکشمیر میں82,395رجسٹرڈ بیروزگار تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ نوجوان تھے ، اس کے علاوہ پردھان منتری شرمی یوگی مان دھن اسکیم کے تحت رجسٹرڈ تقریبا 2 لاکھ غیر منظم کارکن اور 55,000 نوجوان رجسٹرڈ ہیں۔ محکمہ نے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ محکمہ روزگار کے ساتھ اندراج کا عمل رضاکارانہ ہے اور لازمی نہیں۔