امیت شاہ سنہا ملاقات کے بعدجموں کو ریاست کا درجہ دینے کی افواہیں تیز

سرینگر 08 جون ( ) مقبوضہ جموںوکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کی اور پیراملٹری فورسز کے مزید دستوں کو کشمیر پہنچایا گیا تو قیاس آرائیاں ہونے لگیں کہ بھارت جموں و کشمیر کے بارے میں کچھ اہم فیصلے کرنے والا ہے۔
سنہا نے نئی دہلی میں امیت شاہ اور ہوم سیکریٹری اے کے بھلہ سے ملاقات کی اور اسی دوران ہزاروں اضافی فوجیوں کومقبوضہ علاقے میں بھیجا گیا جو پہلے ہی دنیا کا سب سے زیادہ فوجی جماﺅ والا علاقہ ہے۔ بڑے پیمانے پر بھارتی فوج کی نقل وحرکت اور سنہا شاہ ملاقات نے ان افواہوں کو جنم دیا کہ بھارت جموں کو ریاست کا درجہ دینے کا منصوبہ بنا رہا ہے اور وہ کشمیر کو مزیددو مرکزی خطوں میں تقسیم کرسکتا ہے۔
جموں کی جماعتوں خاص طور پر ہندو تنظیموں کی طرف سے جموں کوالگ ریاست بنانے کا مطالبہ سامنے آنے کے بعدان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مطالبہ بھارت میں بی جے پی حکومت کے ایما پر کیاگیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بھارت علاقے میں مزید فوج تعینات کرکے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کرسکتا۔نیشنل کانفرنس کے رہنما روح اللہ مہدی نے افواہوں کے بارے میں ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھاکہ پچ کے اس طرف کھڑے ہونے اور اس کا دفاع کرنے کے لئے کوئی بلے باز نہیں ہے وہ کچھ بھی پھینک سکتے ہیں۔ باو ¿نسر ، سلو باو ¿نسر ، فاسٹ باو ¿نسر ، بیمروغیرہ۔ خاص طور پر جب کوئی امپائرہی موجود نہیں ہے جوان کے لکیر عبور کرنے پر نظر رکھ سکے۔ان قیاس آرائیوں کی وجہ سے کانگریس نے جموں و کشمیر کو بطورریاست بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے لوگوں میں اعتماد پیدا ہوگا۔ جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے ایک ترجمان نے کہا کہ ریاست کی بحالی میں تاخیرسے نئی دہلی اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان رابطے مزید منقطع ہونگے۔اک جٹ جموں کے چیئرمین ایڈوکیٹ اکور شرما نے کہا کہ بھارتی حکومت کو جموں کو ریاست کا درجہ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ جموں و کشمیر کی وادی میں مقیم قیادت کی وجہ سے خطے کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کو مزید دو حصوں میں تقسیم کیا جانا چاہئے اورکشمیری پنڈتوں کے لئے خاص طور پر ایک علیحدہ خطہ ہونا چاہیے جنہوں نے 1990 میں وادی سے نقل مکانی کی۔