ایل او سی کے راستے تجارت اور سفر کا سلسلہ بحال کیا جائے مرحوم جلیل اندرابی کی برسی پر سری نگر میں ایک سمینار میں مطالبہ

سری نگر : مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے علمبردار مرحوم جلیل اندرابی کی برسی پر سری نگر میں ایک سمینار میں مطالبہ کیاگیا ہے  پاکستان اور بھارت  کی حکومتیں   لائن آف کنٹرول کے راستے تجارت اور سفر کا سلسلہ بحال کریں۔ مقبوضہ کشمیر  ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سمینار میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے مستقل اور دوستانہ حل کے تلاش کے لئے معاشرتی سیاسی اور معاشی امنگوں اور مشترکہ طور پر سمجھوتہ کے لئے دونوں متعلقہ حکومتوں کو بین الاقوامی برادری اور انٹرا کشمیر ڈائیلاگ کی طرف  توجہ دیں ۔ سینئر ایڈووکیٹ جی این شاہین نے یہ تجویز پیش کی کہ نامزد وکلا وفد کو امن عمل کے آغاز کے لئے دہلی اور اسلام آباد جانے کی اجازت دی جائے تاکہ یہ وفد لوگوں کے مختلف طبقوں سے بات چیت کرے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مرحوم جلیل اندرابی کو ان کی 25 ویں برسی پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے جلیل اندرابی کو بھارتی فوج نے دوران حراست قتل کر دیا تھا۔ مرحوم ایڈوکیٹ جلیل احمد اندرابی کی نعش 27مارچ 1996کو دریائے جہلم سے برآمد کیا گیا تھا ۔اس سے قبل مرحوم کو 19روز قبل یعنی 8مارچ کو اپنی ذاتی گاڑی میں گھر کی طرف سفر کے دوران رام باغ کے مقام پر میجر اوتار سنگھ نامی فوجی آفیسر نے اپنے ماتحت اہلکاروں کے ہمراہ اغوا کیا  تھا۔اس وقت جلیل اندرابی کی اہلیہ بھی اس کے ہمراہ تھیںجس نے دوڑتے ہوئے فوجی گاڑی کا تعاقب کرنے کی کوشش کی تھی  مگر اسے کوئی سراغ نہیں ملا۔بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ایڈوکیٹ جی این شاہین نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں مرحوم جلیل اندرابی کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے مرحوم کو ایک مخلص ، دانشمند اور ایک مفکر قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ مرحوم ایڈوکیٹ نے مظلوم کشمیری عوام کی نجات کیلئے اپنی جان نچھاور کردی۔شاہین نے کہاجلیل نے آزادی کا شمع روشن کرنے کیلئے اپنا مقدس لہو بہادیا اور اب ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم آزادی کی اس شمع کو تحریک کے منطقی انجام تک روشن رکھیں۔ صدر کورٹ سرینگرمیںمرحوم جلیل اندرابی کو ان کی 25 ویں برسی پر تقریب ہوئی ۔اس موقع پر دیگر وکلا کے علاوہ کنوینر ایڈوکیٹ نذیر حمد رونگہ،ایڈوکیٹ جی این شاہین ، محمد امین بٹ ، ارشد اندرابی ، پروفیسر نور بلال ، محمد اشر ف بٹ ، اشرف وانی ، نور الامین ، اے اے تیلی، ہلال نورانی اور بنت مسلم نے بھی خطاب کیا اور مرحوم جلیل اندرابی کوخراج عقیدت پیش کیا ۔