
دو کشمیری نیوز پورٹلزکے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج مقدمہ جرات مندانہ آوازوں کو روکنے کا حربہ ہے،کشمیر والا
سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر پولیس نے بھارتی فوج کی درخواست پر زرائع ابلاغ کے دو کشمیری اداروں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا ہے ۔ دو کشمیری نیوز پورٹلز کشمیریات اور کشمیر والا نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ بھارتی فوج نے جنو بی کشمیر کے ضلع شوپیاں میں ایک پرائیویٹ سکول کو 26 جنوری کو جبر ابھارتی یوم جمہوریہ منانے پر مجبور کیا تھا۔کے پی آئی کے مطابق جموں وکشمیر پولیس نے ہندوستانی فوج کی شکایت پر، کشمیر والا اور کشمیریات کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 153 ،اور505 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔کشمیر والا اور کشمیریات نے کہا ہے کہ ان کی خبر درست ہے ۔مقدمہ دراصل جرات مندانہ آوازوں کو روکنے کا حربہ ہے ۔کشمیر والہ کے بانی اور ایڈیٹر فہد شاہ نے بھی کہا ک ہم اپنی رپورٹ کی سچائی کے ثبوت رکھتے ہیں ۔ فوجی الزام کا عدالت میں مناسب جواب دیں گے۔ یاد رہے بھارتی فوج نے جامعہ سراج العلوم کو26جنوری کو بھارتی یوم جمہوریہ منانے پر مجبور کیا تھا۔ ادھر مسلم کانفرنس کے چیئرمین شبیر احمد ڈار نے بھارتی فوجیوں کی طرف سی26 جنوری کوشوپیان میں یوم جمہوریہ کی تقریب منعقد کرنے کے لئے ایک سکول کو زبردستی اپنے قبضے میں لینے کی خبر شائع کرنے پر دو مقامی نیوز پورٹلز کشمیریات اور کشمیر والا کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر قابض حکام کی شدید مذمت کی ہے ۔شبیر احمد ڈار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ یہ کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض حکام مقبوضہ جموںوکشمیر میںپہلے سے شدید دبائو میں ذرائع ابلاغ کے خلاف جنگ کو توسیع دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا یہ واقعہ سب سے پہلے انہی دو نیوز پورٹلز نے رپورٹ کیا تھا جب انہوں نے ادارے کے چیئرمین سے بات کی اور پھرباقی ذرائع ابلاغ نے بھی سکول کی منیجمنٹ سے بات کرکے اس خبر کو چلایا۔انہوںنے کہاکہ چار دن خاموش رہنے کے بعد بھارتی فوج نے اب ایک جھوٹی خبر پھیلانے کی شکایت کی ہے جبکہ اسکول پر پہلے ہی شدید دبا ہے کیونکہ اس کے تین اساتذہ کو کچھ عرصہ پہلے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتارکیاگیا ہے اور طلبا کو بھی جھوٹے الزامات لگاکرہراساں کیا گیاہے۔انہو ں نے اس کارروائی کومکمل طور پر غیرضروری اور بلا جواز قراردیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کی بین الاقوامی ایسوسی ایشنوںاورذرائع ابلاغ کے دیگر اداروں کواس کارروائی کا نوٹس لینا چاہیے اور اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے جانا چاہئے کیونکہ دونوں نیوز پورٹلز کے ایڈیٹرز نے کہا ہے کہ وہ اپنی بات پر کھڑے ہیں اور اپنی خبر کو ثابت کرنے کے لئے ان کے پاس شواہد موجود ہیں۔