نئے سال کا آغاز ہو چکا ہے ہر نئے سال کے ساتھ نئی امیدیں وابستہ ہی جاتی ہے ۔نیا لفظ ہم پاکستانیوں کا ہمیشہ سے پسندیدہ لفظ رہا ہے ۔ اور اس لفظ کی اہمیت کو ہمارے مقتدر حلقے خوب سمجتھے ہیں ۔ اسی وجہ سے نئے لیڈر بنائے جاتے ہیں نئی پارٹیاں بنائی جاتی ہے ۔ نئے کے چکر میں ہم کہاں سے کہاں پر پوھنچ گئے ہیں ۔ ایسے موقع پر مجھے مشہور مفکر جان سٹورٹ مل کی الفاظ یاد آ رہے ہیں کہ ایسی ریاست جو اپنے شہریوں کو صرف اسلئے بونے بنا کر رکھتی ہے تاکہ وہ اطاعت شہر رہیں اسے یاد رکھنا چاہئیے کہ چھوٹے لوگوں سے کوئی بڑا کام نہیں لیا جا سکتا،افراد کی طرح اقوام کی زندگی میں بھی نیا سال ایک خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے، یہ قوموں کو موقع فراہم کرتا ہے کہ گذشتہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر اگے بڑھے ۔ لیکن ہم بحیثیت قوم پچھلے 73 سالوں سے اپنی غلطیوں سے نہ تو کچھ سیکھ رہے ہیں ۔ بلکہ غلطی پر غلطی کرتے جا رہے ہیں ۔ اور غلطیوں پر نادم بھی نہیں ہیں ۔ غلطیوں کا احساس بھی نہیں ہو رہا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ وہ لوگ جو غلطیوں کی طرف نشاندہی کرنے کی کوشیش کرتے ہیں ۔ انکو اس طرح سے عبرت کا نشان بنایا جاتا کہ وہ دوبارہ غلطیوں کی طرف نشاندہی نہ کر سکیں۔ جس نیت سے ہمارے ملک میں کچھ طوائفیں برقعہ پہنتی ہیں -اسی نیت سے کچھ لوگ پارسا , محب وطن اور دیگر مذہبی بنے ہوتے ہیں۔ اور یہی لوگ غداری اور اسلام کا سرٹیفیکٹ بانٹ رہے ہوتے ہیں ۔ بات کہاں سے کہاں نکل گئی ہم لوگوں کا حافظہ بھی کمزور ہوتا ہے 73 سال کے بجائے موجودہ حکومت بارے ہی بات کر لیتے ہیں ۔ الیکشن سے پہلے تحریک انصاف نے تبدیلی کی بات کی تھی۔ سابقہ حکومتوں کے کرپشن کی بات کی تھی ۔ قرضے واپس کرنے اور نئے قرضے نہ لینے کی بات کی تھی ۔قانون سب کے لئے برابر اور اس پر عمل درآمد کی بات کی تھی ۔ صحت اور تعلیم کی بارے بات کی تھی ۔ ایک کروڑ نوکریاں ، لاکھوں گھروں کی تعمیر ، ڈالر کی قیمت میں اضافے پر تشویش ۔ لیکن اب سوال یہ بنتا ہے تحریک انصاف کو بر سر اقتدار آئے ہوئے تیسرا سال چل رہا ہے ۔ تحریک انصاف کا سب سے بڑا نعرہ کرپشن کے حوالے سے تھا ۔ ان کی حکومت میں انکے اپنے 18 اراکین پر کم و بیش نیب کے کیس بنے لیکن انکا کوئی وزیر یا مشیر چاہے چینی سکینڈل ہو یا ادویات کا قیمتوں میں اضافے کا سکینڈل ہو یا کوئی دوسرا سکینڈل کسی بھی کیس میں حکومتی پارٹی کے لوگ گرفتار نہیں ہوئے ۔ ہاں البتہ اپوزیشن کو لگام دینے کیلئے نیب کو بے دریغ استعمال کیا گیا۔ احتساب کے نام پر سیاسی مخالفین کو انتقام کانشانہ بنایا جارہا ہے ۔ تحریک انصاف کیلئے اصل چیلنج سیاسی نہیں بلکہ معاشی اور گڈ گورنس ہے ۔ بجائے اپ کچھ ڈیلیور کریں انکا سارا زور کیسے اپوزیشن کے اردگرد حصار مضبوط کیا جائے۔ کیسے اظہار رائے پر پابندی مزید سخت کی جائے۔ کیسے اپوزیشن کے رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کئے جائے انکو گرفتار کیا جائے ۔ قرضوں کے حوالے سے ابھی تک ریکارڈ ساز قرضے لیے لیکن کوئی بھی میگا پراجیکٹ سٹارٹ نہیں کیا ابھی تک تو سوال یہ ہے جو قرضے لیے تھے وہ گئے تو کہاں ؟ 2020 میں دنیا بھر کی معیشت کرونا وبا کی وجہ سے متاثر ہوئی لیکن پاکستان کو کرونا کی مد میں امداد بھی ملی اور 2020 کے لیے ہمارا قرضہ رے شیڈول ہوا یعنی ہم نے پچھلے سال کوئی غیر ملکی قرضہ واپس نہیں کیا ۔ اس لحاظ سے تو ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر میں تو اضافہ ہونا چاھئیے تھا جو نہیں ہوا روپے کی قیمتوں میں استحکام ہونا چاہئے تھا جو نہیں ہوا ۔ اب اگر اس سال یہ قرضے واپس کرنا شروع کئے تو ہماری معیشت اور روپے کی قیمت میں مزید گراوٹ ائی گی ۔تحریک انصاف کی حکومت نے صحت اور تعلیم کی بجٹ میں بھی کٹوتی کی ۔ ایک کروڑ نوکریاں تو دور کی بات لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کیا گیا ۔ تحریک انصاف جو انصاف اور قانون کی بالادستی کی بات کرتی تھی نہ ہی راؤ انور کو گرفتار کر سکی نہ ہی ساہیوال واقعے کے ملزموں کو کیفر کردار تک پوھنچایا جا سکا ۔ نہ ہزارہ برداری کو انصاف دے سکی ۔ رہی بات روپے کے مقابلے میں ڈالر کی استحکام کی تو وہ سب کے سامنے ہے ۔ خارجہ طور پر ہم کمزور پوزیشن پر ہیں ۔ اندرونی طور پر ملک اور عوام کے مسائل میں اضافہ ہوا ۔ مہنگائی بڑھی ۔ پی ائی اے انکے وزیر ہوا بازی کی ایک بیان کی وجہ سے یوروپ میں بند ہے ۔ کوئی ترقیاتی پروگرام ابھی تک نہیں دیا ۔ جس کی وجہ سے مجمومی طور پر لوگوں کا غصہ بڑھتا گیا ۔ اور یہ غصہ اتنا بڑھ گیا کہ اب لوگ تحریک انصاف کو برا کم اور انکو لانے والی قوتوں کو برا زیادہ کہ رہی ہے ۔ تاریخ میں پہلی دفعہ وہ ادارے جن کے بارے لوگ بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے اب جلسوں اور جلسوں میں انکا نام اور کردار بارے سوالات اٹھائے جاتے ہیں ۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جو حالت کرکٹ ٹیم کی اس وقت ہے وہی حالت موجودہ حکومت کی ہے اور اسکی ذمہ دار سلیکشن کمیٹی ہے ۔ لوگ اب حکومت پر تنقید کم اور سلیکشن کمیٹی پر تنقید زیادہ کر رہے ہیں ۔ اور سلیکشن کمیٹی کو ہی تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اصل میں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسکی انتظامی ،سیاسی، سماجی، معاشی نا بالغی اور نا سمجھی ہی اسکو لانے والوں کو درکار تھی ۔سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کچھ کب تک چلتا رہے گا ؟ آج جو ملکی حالات ہیں جو مسائل ہیں اسکا ادراک ہمیں کیوں نہیں ہو رہا ؟ بدلتے وقت اور حالات کے تقاضوں کو ہم کیوں سمجھنے کی کوشیش نہیں کر رہے ؟ ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے ۔ تاریخ کھبی بھی کسی کو معاف نہیں کرتی ۔ حتمی فیصلہ تاریخ کرتی ہے اور تاریخ کھبی بھی وعدہ معاف گواہ نہیں بنتی۔ جن سیاستدانوں کو آمروں نے مارا۔ تا کہ انکا نام و نشان مٹ جائے ۔ ان سیاستدانوں کے بوئے گئے بیج آج اگ چکے ہیں ۔ جبکہ آج ان آمروں کا نام و نشان تک نہیں ۔ ایک آزاد جمہوری حکومت اور پارلیمنٹ ہماری سیکیورٹی ایسٹبشلمنٹ کو قبول نہیں کیونکہ وہ ان کی کارگردگی اور اخراجات پر سوال اٹھاتی ہے۔ پاکستان کی 73 سالہ تاریخ میں ھمیشہ “عسکریت” آگے آگے اور “اکثریت” پیچھے ہی رہی ہے . جب تک اکثریت اگے نہیں ائی گی ہم اگے نہیں بڑھ سکتے ۔موجودہ حالات کے حوالے سے ایک لطیفہ یاد آیا ۔
“ایک کرنل صاحب کنویں میں گر گئے۔سپاہی رسہ کنویں میں پھینکتے جیسے ہی کرنل صاحب اوپر آتے تو سپاہی رسا چھوڑ کر کرنل صاحب کو سیلیوٹ مارتے، کرنل صاحب پھر کنویں میں گر جاتے۔ ایک تجربہ کار سپاہی نے مشورہ دیا کہ کسی بریگیڈئیر صاحب کو تکلیف دیتے ہیں تا کہ انہیں کرنل صاحب کو سیلیوٹ نہ کرنا پڑے۔ بریگیڈئیر صاحب نے رسہ ڈالا کرنل صاحب نے رسہ پکڑا اور بریگیڈئیر صاحب نے رسہ کھینچنا شروع کیا۔ جیسے ہی کرنل صاحب کنارے کے نزدیک پہنچے اور ان کی نظر بریگیڈئیر صاحب پر پڑی تو انہوں نے رسہ چھوڑ کر بریگیڈئیر صاحب کو سیلیوٹ مارا اور پھر سے کنویں میں گر گئے۔ بار بار یہی ہوا آخر کار کرنل صاحب کی کنویں سے آواز آتی ہے: کم بختوکسی سویلین کو بلاو۔ ”