اب کی بار زیادہ فوجی نقصان اٹھانا پڑے گا، چین نے بھارتی فوج کو خبردار کر دیا
بھارت کو ’طاقتور چین‘ کا سامنا ہے،نئی دہلی اس معاملے پر امریکا سے حمایت کی غلطی فہمی میں نہ رہے،۔لیکن اگر انڈیا مقابلہ کرنا چاہتا تو پیپلز لبریشن آرمی اس کو 1962 کی نسبت زیادہ شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔گلوبل ٹائمز کا اداریہ
لیکن اگر انڈیا مقابلہ کرنا چاہتا ہے تو چین کے پاس بھارت کے مقابلے میں زیادہ وسائل اور صلاحیت ہیے۔اگر انڈیا فوجی کاروائی کرنا چاپتا ہے تو پیپلز لبریشن آرمی اس کو 1962 کی نسبت زیادہ شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔دوسری جانب بتایا گیا ہے کہ چین نے لائن آف ایکچول کنٹرول کے ساتھ لداخ میں ایک ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق میڈیا نے ایک اعلی سرکاری عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ لائن آف ایکچول کنٹرول کے ساتھ دیپ سانگ کے میدانی علاقے سے لے کر چوشول تک چینی فوج منظم طورپر پیش قدمی کر رہی ہے۔ انہوںنے مزید کہاکہ دیپ سانگ کے میدانی علاقے میں پیٹرولنگ پوائنٹ 10سی13تک تقریبا نو سومربع کلومیٹر کا علاقہ چین کے کنٹرول میں آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی گلوان میں تقریبا 20 مربع کلومیٹر اورگرم چشمہ کے علاقے میں 12 مربع کلومیٹر کا علاقہ چین کنٹرول میں ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پیانگونگ تسو میں 65 مربع کلومیٹراورچوشول میں 20 مربع کلومیٹرکا علاقہ چین کے کنٹرول میں ہے ۔ بھارتی میڈیا نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ چینی فوج نے پیانگونگ تسو جھیل کے قریب تقریبا8 کلو میٹر کے علاقے کو قبضے میں لے رہی ہیں ۔