فاروق عبدالله کی نیشنل کانفرنس اور محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کشمیریوں کے قتل عام میں کے جرم میں شریک ہے، صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کا یوتھ الائنس فار کشمیر کے زیر اہتمام سوال و جواب کی نشست سے خطاب

اسلام آباد  آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ فاروق عبدالله کی نیشنل کانفرنس اور محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کشمیریوں کے قتل عام میں شریک جرم ہے جنہوں نے ہمیشہ بھارت کی ہاں میں ہاں ملائی اور کشمیریوں کے خلاف بھارتی جرائم میں سہولت کار کا کردار ادا کیا، ان دو جماعتوں نے بھارت کے ناجائز قبضہ کو سند جواز فراہم کرنے کے لئے ہمیشہ اپنا سیاسی کندھا پیش کیا، 1947ء میں شیخ عبدالله کی موجودگی میں جموں کے مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور وہ اٴْس پر خاموش رہے اور اسی طرح 2016ء میں برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد سینکڑوں کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فوج نے پیلٹ گنوں کا استعمال کرکے بصارت سے محروم اور زندگی بھر کے لئے معذور کیا تو اٴْس وقت محبوبہ مفتی مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلیٰ تھی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیڈرل کالج آف ایجوکیشن اسلام آباد میں یوتھ الائنس فار کشمیر کے زیر اہتمام سوال و جواب کی ایک نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس نشست میں اسلام آباد کی مختلف جامعات اور تعلیمی اداروں کے طلبہ نے شرکت کی۔ صدر آزادکشمیر نے یوتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر مجاہد گیلانی اور والنٹیر فورس پاکستان کے صدر عثمان جولہا کا تنازعہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے مختلف تقاریب کا اہتمام کرنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح پروگراموں سے نئی نسل میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے شعور اجاگر کرنے میں بہت مدد ملتی ہے کیونکہ اسی نسل نے مظلوم کشمیریوں کے لئے مستقبل میں عالمی تحریک کی قیادت سنبھالنی ہے۔صدر آزادکشمیر نے مقبوضہ کشمیر کی دو سیاسی جماعتوں نیشنل اور کانفرنس اور پی ڈی پی کے ماضی کے سیاسی کردار پر طلبہ کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج یہ دنوں جماعتیں بھارت کے خلاف اس لئے بول رہی ہیں کہ بھارت کی حکمران جماعت نے انہیں اقتدار سے محروم کر دیا ہے اور یہ دونوں جماعتیں نہ صرف کشمیریوں کی حقیقی امنگوں کی ترجمانی نہیں کرتیں بلکہ انہوں نے 1947ء سے لے کر اب تک کشمیر پر بھارتی قبضہ کو جائز قرار دینے کے لئے شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہونے کا ثبوت دیا ہے۔اب جبکہ بھارت نے انہیں اقتدار سے علیحدہ کر دیا ہے تو ان کی قیادت دوبارہ اپنا کھویا ہوا سیاسی مقام حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت عسکری، معاشی، سیاسی، سفارتی اور ابلاغی محاذ سمیت کثیر الحاذی جنگ لڑ رہا ہے۔ اور کشمیر کے حوالے سے اپنے جھوٹے بیانیہ کو آگے بڑھانے کے لئے ابلاغی محاذ پر سب سے زیادہ توجہ دے رہا ہے۔ہمیں دشمن کی سکستھ جنریشن وار کو سمجھنا ہو گا اور یہ ہدف طے کرنا ہو گا کہ تمام دستیاب موثر ابلاغی ذرائع کو استعمال کر کے کشمیرکے بارے میں بڑے پیمانے پر آگاہی پیدا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آزادکشمیر سیاسی و سفارتی محاذ پر جدوجہد ضرور کر رہے ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری تک اپنی آواز پہچانے کے لئے ابلاغ کا موثر اور ناگزیر ہتھیار استعمال کرنے کی تیاری کریں۔صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ گزشتہ سال 5 اگست کے بعد کشمیر کا تنازعہ بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر اجاگر ہوا، بھارت کو کشمیریوں کے حقوق غصب کرنے پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور دنیا کے بڑے بڑے اداروں نے کشمیر کے حوالے سے مختلف رپورٹس شائع کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس نئے ابلاغی موقع سے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے ہندوتوا نظریہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کے انتہا پسند اور فسطائی حکمران ایک ایسے بھارت کے قیام کا خواب دیکھ رہے ہیں جس میں غیر ہندو کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور ان کے دل اکھنڈ بھارت کے تصور سے مچل رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارتی حکمرانوں کے ناپاک اور مضموم منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی یہ جنگ ہمارے اوپر مسلط کر دی گئی ہے جسے ہمیں اپنی بقا کی جنگ سمجھ کر لڑنا ہے اور یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے نظریہ اور اسلامی شناخت کی حفاظت کریں۔ اقوام متحدہ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ عالمی نظام کے چہرے کے طور پر سامنے آئی تھی اور اس ادارے کو دنیا کی جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے اور امن و سلامتی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی لیکن بد قسمتی سے اقوام متحدہ کشمیر اور فلسطین جیسے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اقوام متحدہ ہمیں کشمیر طشتری میں رکھ کر نہیں پیش کرے گی بلکہ ہمیں اپنی جدوجہد اور کوششوں سے کشمیر کو حاصل کرنا ہے۔ ہمیں ویتنام تحریک اور جنوبی افریقہ میں نسل پرستی کے خلاف تحریک کی طرز پر عالمی کشمیر موومنٹ کو منظم کرنا ہو گا۔ پاکستان کی طرف سے نئے سیاسی نقشہ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ نقشہ پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کی کشمیر کے حوالے سے قراردادوں کو بھی تقویت پہنچاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نیا سیاسی نقشہ جاری کرنے کے باوجود اپنے آئین میں کشمیر سے متعلق شق کو بدلا اور نہ ہی کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حوالے سے اپنے دیرینہ مؤقف میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی لائی۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ پاکستان آج بھی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا چاہئے۔