حکومت پاکستان کشمیر قیادت کو اعتماد میں لے کر واضع اور ٹھوس کشمیرپالیسی بنائے محمد غالب

برمنگھم(کے پی این )تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب نے کہا کہ پاکستان کی کمزور کشمیر پالیسی کے نتیجے میں بھارت تحریک آزادی کشمیر کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے  ۔ بھارت نے کشمیری حریت قیادت کو جیلوں میں بند کر رکھا ہے ان کے خلاف جعلی مقدمات بنا کر انہیں سزائیں دی جارہی ہیں

دورہ پاکستان اور آزاد کشمیر  کے بعد برمنگھم واپسی پر میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ  بھارت کشمیری مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کرنے کے لیے  غیر کشمیری باشندوں کو مقبوضہ کشمیر میں آباد کر رہا ہے  ۔چالیس لاکھ سے زیادہ غیر کشمیریوں کو ڈوموسائل دے چکا ہے۔  بھارت  کے ان غیر قانونی اقدادامات کو روکنے  کے لیے حکومت پاکستان کی وکالت سیاسی اور سفارتی کوششیں بھی کہیں نظر نہیں آتی۔   پاکستان مسلہ کشمیر کے حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتا  ۔دس لاکھ بھارتی فوج کو نکالنے اور بھارت کو مذاکرات کے  لیے مجبور کرنے کے لیے کوئی ٹھوس اور واضع پالیسی نہیں۔ 5  اگست  2019 کے بھارتی اقدامات کشمیری  رہنما پاکستان کی کشمیر پالیسی  سے مطمین نہیں۔ بھارت کے ظلم اور  قتل عام کو روکنے کے لیے کوئی  پالیسی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا  کہ پاکستان  کی عملی امداد اور حمائت کے بغیر کشمیر کی آزادی میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکتی ۔ بھارت جس طرح کے حربے اور ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے  کہ یہ حکومت پاکستان کے لیے لعمہ فکریہ ہے کہ وہ مسلہ کشمیر پر  تحریک آزادی کشمیر  کے ساتھ وابستہ کشمیر قیادت کو اعتماد میں لیے  کر واضع اور ٹھوس پالیسی آپنائے  بھارت کے ناپاک عزائم اور منصوبوں کو روکا جائے  مسلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کی بجائے حل پر توجہ  مرکوز کی کی جائے

محمد غالب نے کہا کہ  حکومت پاکستان کا  مقبوضہ کشمیر کی حریت قیادت کی رہائی کے لیے  کوئی اقدامات اور کوششیں نظر نہیں آتی۔  بھارتی فوج کشمیریوں کی جائیدادوں پر  پر زبردستی قبضہ کر رہی ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو  ملازمتوں سے فارغ کیا جارہا ہے۔ بھارت ایسے حالات پیدا کر رہا ہے کہ کشمیر مجبور ہو کر تحریک آزادی سے دستبردار ہوجائیں۔  کشمیری پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں  پاکستان  کے حکمران  مسلہ کشمیر  کے حل کے لیے محض  بیانات  سے نکل کر کشمیریوں کی امیدوں اور توقعات  پر پورا اتریں  کشمیریوں کو نظر آئے کہ پاکستان مسلہ کشمیر حل کرنے کے لیے  سنجیدہ ہے۔