
اٹھارویں ترمیم کا مسئلہ!
پچھلے دنوں وزیر اعظم عمران خان نے اٹھارویں ترمیم کے حوالے سے محتاط اظہار خیال کیا انہوں نے کہا کہ اس ترمیم کے بعد بہت سے مسائل کا سامنا ہے سندھ اور پنجاب میں گندم الگ الگ قیمت پر فروخت ہورہی ہے ملک میں اشیا کی قیمتیں یکساں ہونی چاہییں پاکستان کی تزویراتی سمت کے حوالے سے میری ٹیم اور پنڈی کا ذہن بھی واضح ہے ہم کسی کیمپ کا حصہ نہیں بنیں گے ہمیں سب سے تعلقات رکھنے ہیں۔ آئین، کسی ملک کو کن بنیادوں پر چلانا ہے اس کا طریقہ کار کیا ہوگا کی وضاحت کرتا ہے پارلیمانی اداروں میں جب آئین کی کسی شق پر اختلاف ہوتا ہے تو پھر عدلیہ اس کی وضاحت کرتی ہے۔ برصغیر کو جب آزادی ملی پاکستان اور بھارت دو مملکتیں وجود میں آئیں تو ہندوستان کے پاس پہلے سے آئین موجود تھا پاکستان کو اپنا آئین بنانا تھا۔ 1946 میں مسلم لیگ کے ایک اجلاس میں مولانا حسرت موہانی نے یہ تجویز پیش کی کہ پاکستان کا آئین بنا لیا جائے تاکہ جس دن سے ملک آزاد ہو اسی دن سے آئین نافذ ہو جائے لیکن ان کی تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کردیا گیا کہ فی الحال ملک آزاد کرانے پر توجہ مرکوز رکھی جائے آئین تو بعد میں بنالیا جائے گا، اس پر مولانا حسرت موہانی ناراض ہو گئے اور انہوں نے مسلم لیگ کو خیر باد کہہ دیا اور کہا کہ ملک بن جانے کے بعد آپ آئین نہیں بنا سکیں گے۔
بہت سارے دانشوروں کا خیال ہے کہ اگر مولانا کی تجویز مان لی جاتی تو ہم سقوط مشرقی پاکستان کے سانحے سے دوچار نہ ہوتے قیام پاکستان کے بعد دستور سازی ایک بہت مشکل مرحلہ تھا کہ لوگ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے لگے یہ تو مولانا سید ابوالاعلی مودودی تھے جنہوں نے ملک کے جید علما کو ساتھ ملا کر قرار داد مقاصد بنائی جو اس وقت دستور کا اہم حصہ ہے۔ بڑی مشکلوں سے 1956کا دستور تیار ہوا لیکن اس کے تحت جو انتخابات ہونا تھے وہ نہ ہو سکے اور سول حکومتوں کا راستہ روکنے کے لیے ملک میں مارشل لا نافذ کردیا گیا پھر ایوب خان نے 1962 میں اپنا دستور دیا جو عوام نے قبول نہیں کیا جب ایوب خان اقتدار سے گئے تو ساتھ میں ان کا دستور بھی چلا گیا 1970 میں جنرل یحیی خان نے دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کروائے، دستور سازی کے لیے اسمبلی کا اجلاس تو نہ ہو سکا لیکن ملک ٹوٹ گیا۔ 20 دسمبر 1971 کو بھٹو صاحب نے اقتدار سنبھالا اور چیف مارشل لا کی ٹوپی سر پر رکھ لی اپوزیشن کی شدید تنقید پر بھٹو صاحب نے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیے اور 14اگست 1972 کو ملک میں ایک سال کے لیے عبوری دستور نافذ کردیا گو کہ وہ کوئی آئیڈیل دستور نہیں تھا لیکن ملک ٹوٹ چکا تھا پاکستانی قوم ایک طرح سے غم و اندوہ میں ڈوبی ہوئی تھی اس لیے اپوزیشن کی جماعتوں نے کوئی سخت مزاحمت نہیں کی اور ایک سال کے لیے عبوری دستور کو برداشت کرلیا اس طرح قیام پاکستان کے 25سال بعد ہم آئین پاکستان کے تابع ہو گئے۔
14اگست 1973 کو اپوزیشن کی جماعتوں اور حکومت کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد ایک متفقہ آئین نافذ ہو گیا جو آج تک نافذ ہے یہ ایک متفقہ اور اسلامی آئین ہے جس کی منسوخی کے لیے ہمارے ملک کا لادین طبقہ سر توڑ کوشش کرتا رہتا ہے لیکن یہ بھی قدرت کا کرشمہ ہے کہ پی پی پی خود ایک لادین جماعت ہونے کے باوجود آئین توڑنے کی باتیں کرنے والوں کے خلاف خم ٹھونک کر میدان میں آجاتی ہے اس لیے کہ وہ خود اپنے آپ کو پاکستان کے آئین کا خالق بھی سمجھتی ہے اور محافظ بھی، کسی بھی ملک میں آئین میں حالات اور ضرورت کے مطابق ترمیمات ہوتی رہتی ہیں لیکن اس کے لیے اسمبلی میں دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے بھٹو نے اپنے دور حکومت میں کئی ترمیمات کیں ویسے تو انھیں اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل تھی لیکن انہوں نے اپنے حسن اخلاق سے دوسری جماعتوں سے ارکان اسمبلی کو توڑ کر اپنے ساتھ ملا لیا تھا اور اس طرح دوتہائی اکثریت سے وہ اپنی مرضی سے آئین میں ترامیم کرتے رہے اپوزیشن کی جماعتیں مجبور و لاچار تھیں۔ 1977 کے انتخابات میں بھٹو صاحب کی خواہش اور کوشش تھی کہ وہ دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کرلیں تاکہ آئین میں اپنی مرضی کی ترامیم کرنے میں آسانی رہے لیکن یہی خواہش ان کے گلے کا پھندا بن گئی کہ دوتہائی اکثریت کے لیے انہوں نے زبردست دھاندلی کی جس کے نتیجے میں ان کے خلاف تحریک چلی اور انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔
5جولائی 1977 کو جب جنرل ضیا برسر اقتدار آئے تو انہوں نے آئین کو منسوخ نہیں کیا پہلے انہوں نے اپنی ایک مجلس شوری بنائی 1985 میں غیر جماعتی انتخابات کرائے اور محمد خان جونیجو کو وزیر اعظم بنایا، اس اسمبلی کے ذریعے جنرل ضیا نے اپنے دور کے تمام اسلامی اقدامات کو آٹھویں ترمیم کے ذریعے آئینی تحفظ فراہم کیا اور اسی ترمیم کے ذریعے قرارداد مقاصد کو آئین کا لازمی حصہ بنایا۔ اس دستوری تاریخ کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حالات اور ضرورت کے لحاظ سے دستور میں ترامیم ہوتی رہتی ہیں لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بیش تر ترامیم ہمارے حکمرانوں نے اپنے گروہی اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے کیں بظاہر تو اس کو بڑا خوبصورت لباس پہنایا گیا لیکن اندر سے اپنی مرضی کے کپڑے پہنائے گئے، 2008 سے 2013 تک ملک میں پی پی پی کی حکومت تھی ان کے دور حکومت میں اٹھارویں ترمیم اسی بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آصف زرداری کو یہ اندازہ تھا کہ اب یہ شاید وفاق میں ان کی آخری حکومت ہو اس لیے انہوں نے وفاق کو کمزور کرکے صوبوں کو مضبوط بنانے کی بات کی اور چونکہ صوبہ سندھ میں انہیں یہ امید ہے کہ وہ کامیاب ہوتے رہیں گے اس لیے انہوں نے وسائل کا رخ اس ترمیم کے ذریعے وفاق سے صوبوں کی طرف کروالیا تعلیم اور صحت کے محکمے صوبوں کے پاس چلے گئے انہیں چونکہ اسمبلی میں سادہ اکثریت حاصل تھی اور اپنے بل بوتے پر یہ ترمیم نہیں کراسکتے تھے اس لیے دیگر جماعتوں بالخصوص ن لیگ اور اے این پی سے سیاسی حمایت کے لیے ان کے اہم مطالبات کو اس ترمیم مین شامل کرلیا اے این پی چاہتی تھی کہ صوبہ سرحد کا نام خیبر پختون خوا رکھ دیا جائے وہ زرداری صاحب نے شامل کرلیا ن لیگ کا مسئلہ یہ تھا کہ نواز شریف کے لیے چوتھی مرتبہ وزیر اعظم بننے کی جو آئینی پابندی تھی اسے اس ترمیم کے توسط سے ختم کردیا گیا اور بعد میں اس اٹھارویں ترمیم کی بدولت نواز شریف چوتھی بار ملک کے وزیر اعظم بن گئے۔
یہ ہے اٹھارویں ترمیم کی داستان اس ترمیم کے ذریعے پی پی پی نے تعلیم اور صحت کے شعبے وفاق سے حاصل کیے بلکہ صوبہ سندھ میں دوسرا ظلم یہ کیا کہ بلدیاتی اداروں کے پاس جو تعلیمی ادارے اور اسپتال تھے وہ بھی لے لیے اس کے علاوہ صوبے کے بڑے شہروں بالخصوص کراچی کے اہم آمدنی والے اداروں کو اپنی تحویل میں لے لیا اسی غاصبانہ قبضہ کے خلاف جماعت اسلامی کراچی نے انتیس روز کا دھرنا دیا تھا جو حکومت سندھ سے ایک کامیاب مذاکرات کے بعد اختتام پزیر ہوا۔ اٹھارویں ترمیم سے پی پی پی کو صوبہ سندھ میں کیا سیاسی اور مالی فوائد پہنچے ہیں اس کے لیے الگ مضمون کی ضرورت ہے جس میں اس موضوع پر بات کی جائے کہ اس ترمیم سے صوبے کے عوام کو کیا فائدہ پہنچا اور خواص کو کتنا فائدہ ہوا یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر چوپالوں اور بیٹھکوں میں تو بات ہوتی ہے لیکن اخبارات میں اس کا تذکرہ کم ہی ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭