
بہاول پور جیپ ریلی
2005 ء سے شروع ہونے والی چولستان جیپ ریلی اب ایک بین الاقوامی سطح کی سرگرمی بن چکی ہے، جس میں نامور ملکی و غیرملکی مرد ڈرائیورز کے ساتھ ساتھ اب خواتین ڈرائیورز بھی حصہ لیتی ہیں۔ تین سے چار روز پر مشتمل یہ کھیل نہ صرف تفریح مہیا کرتا ہے بلکہ ریاست بہاولپور کی تہذیب و تمدن اور ثقافتی ورثہ کو بھی اجاگر ہونے کا موقع ملتا ہے۔ یہ ریلی جنوبی پنجاب میں موسم سرما کی سیاحت کا بھی ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس ریلی کی بدولت سیاح چولستان کے تاریخی مقامات کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر مقامی فنکاروں کے پروگرام،آتش بازی، صحرا میں لگائے گئے محفوظ کیمپوں میں شب بسری، اونٹ اور جیپ پر شکار کرنا تقریب کے لطف کو دوبالا کر دیتا ہے۔17ویں ریلی نو فروری سے شروع ہو رہی ہے۔اور تیرہ فروری کو اس کا اختتام ہوگا۔ہر سال کی طرح اس سال بھی لاکھوں شائقین کی شرکت متوقع ہے۔
بہاولپور، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے جنوب میں واقع ہے، عباسی خاندان نے 200 سال تک (1748ئ سے 1954ئ ) اس ریاست پر حکومت کی ہے۔سرائیکی یہاں کی مقامی زبان ہے۔ بہاولپور کا علاقہ 300 میل تک دریائے ستلج اور دریائے سندھ کے ساتھ واقع ہے۔ شائقین، نوابوں کے شہر بہاولپور میں منفرد جگہوں اور میوزیم کے ساتھ صحرا کے بڑے بڑے حصوں، دین گڑھ قلعہ، خان گڑھ، بجنوٹ قلعہ، موج گڑھ قلعہ اور جام گڑھ قلعہ بھی یہاں موجود ہیں۔
پاکستان کا سب سے بڑا صحرا چولستان تقریباً 25000 مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ چولستان کو مقامی طور پر روہی کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کے رہائشی افراد کو روہیلا کہا جاتا ہے، چولستان لفظ چولنے سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے جگہ تبدیل کرنا یا حرکت کرنا کیوں کہ چولستان میں ریت کے ٹیلے ہوا کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اپنا رخ تبدیل کر لیتے ہیں۔ چولستان کو اہم جغرافیائی حیثیت حاصل ہے، جو سندھ کے صحرائے تھر تک اور مشرق میں بھارت کے صحرائے راجھستان تک پھیلا ہوا ہے۔ چولستان چھیاسٹھ لاکھ ایکٹر پر محیط ہے۔ 800 سال پہلے چولستان دریائے ہاکڑا کے پانی سے بھرا ہوا سرسبز علاقہ تھا اور یہ علاقہ دوسری سے چوتھی صدیوں میں بہت مشہور تھا۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے قدیم دریا کے 500 کلو میٹر کے ساتھ اب تک 400 آبادیوں کودریافت کیا ہے۔ سندھ وادی کی تہذیب میں صحرا کے درمیان میں سب سے بہترین آبادی ڈیراور قلعہ کی تھی جو امیر بہاولپور کی آبائی رہائش گاہ تھی۔ قلعہ کی بڑی دیواریں چالیس (ہر ایک سائیڈ پر دس) بڑے پشتوں پر مشتمل ہے، جو طلوع سحرکے وقت ایسے نظر آتے ہیں جیسے ریت سے باہر نکل رہے ہوں۔ قریب ہی ایک سنگ مرمر سے بنی خوبصورت مسجد ہے، جو دہلی میں موجود سرخ قلعہ میں موجود موتی مسجد کی ہوبہو تصویر ہے ـ
چودھویں کا چاند یہاں ایک دلفریب منظر پیش کرتا ہے۔ چولستان کے علاقے میں کئی قلعے ہیں، جن میں ڈیراور قلعہ،دین گڑھ قلعہ،میر گڑھ قلعہ،جام گڑھ قلعہ،موج گڑھ قلعہ،مروٹ قلعہ پھولڑہ قلعہ،خان گڑھ قلعہ،خیر گڑھ قلعہ،نوا نکوٹ قلعہ،بجنوٹ قلعہ شامل ہیں۔ قلعہ دراوڑ اس کے جنوب میں 45 کلومیٹر کے فاصلے پر چنن پیر کا مزار ہے جوکہ مقامی طور پر چنڑ پیر کے نام سے جانا جاتا ہے، جو ایک بہت اہم زیارت کا مرکز ہے اور عرس کے تہوار میں یہ صحرا کو زندہ کر دیتا ہے۔ یہ صحرا سالانہ جیپ ریلی کی میزبانی بھی کرتا ہے جس کو چولستان جیپ ریلی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ پاکستان میں موٹر کار کی کھیلوں کا سب سے بڑا تہوار ہے۔
جیپ ریلی ضلع بہاولپورمیں قلعہ ڈیراور کے قریب سے شروع ہوتی ہے، جس میں تقریباً سیکڑوں کی تعداد میں ڈرائیور زاور ٹیمیں حصہ لیتی ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔ جیپ ریلی میں جیپ کا لفظ کسی خاص کمپنی کے لیے نہیں ہے اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ریلی صرف جیپ گاڑیوں پر مشتمل ہے یا جیپ گاڑیوں کو ترقی دینے کے لیے ہے۔ پاکستان میں اس کا مطلب ہے وہ گاڑی جو صحرا میں دوڑ سکے یا پختہ روڈ کے بغیر غیر ہموار راستوں پر چل سکے۔ صحرا کے دل میں اس تقریب کا مقصد باہر کی دنیا کو چولستان کی تاریخی اہمیت اور ثقافت سے متعارف کروانا ہے اور موسم سرما میں سیاحتی مقام کو اجاگر کرنا ہے۔
پہلی تین روزہ چولستان جیپ ریلی 9 فروری سے 11 فروری 2005ء کو منعقد ہوئی۔
چولستان جیپ ریلی کو 9 کیٹیگریز میں تقسیم کیا جاتا ہے جس میں ایک خواتین کے لیے مخصوص ہے ریلی میں گاڑی کا انجن تبدیل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی نہ ہی انجن کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے والے کو ریس میں حصہ لینے کی اجازت ہوتی ہے۔800cc گاڑی جو 10سال پرانی ہو اسے صرف ?”C”یا”S3? میں حصہ لینے کی اجازت ہوتی ہے۔ گاڑی کے کاغذات کی کاپی بھی ریس سے پہلے جمع کروانا لازمی ہے۔کسی بھی گاڑی کو کاغذات کی چیکنگ کے بغیر ریلی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔حفاظتی نقطہ نظر سے تمام حصہ لینے والے ڈرائیورز کو اپنی گاڑی کی چیکنگ کروانی ہوتی ہے۔ رول بار اور آگ بجھانے والا آلہ گاڑی میں ہونا ضروری ہے، حفاظتی لباس میں ہونا لازمی جزو ہے، اس کے بغیر ریلی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔
ایونٹ کے پہلے اور دوسرے دن 215 کلومیٹر والے ٹریک پر ریس متوقع ہے، جس پر مختلف جگہوں پر 7 چیک پوسٹ موجود ہوں گی اور تیسرے دن 246 کلومیٹر والے ٹریک پر ریس متوقع ہے، جس پر 11 چیک پوسٹ موجود ہوں گی۔ مجموعی طور پر 461 کلومیٹر کے طے کردہ فاصلے کے وقت کا حساب لگایا جائے گا، جس کے بعد ریس کے فاتح کا اعلان کیا جائے گا اور یہ تمام مرحلے مختلف کیٹیگریز کی گاڑیوں کے لیے الگ الگ ہوں گے۔واضح رہے کہ انٹرنیشنل چولستان جیپ ریلی میں تقریبًا 130 گاڑیاں رجسٹر ہوچکی ہیں، ٹی ڈی سی پی 9 تا 13 فروری تک جاری رہنے والے میلے میں ڈرٹ بائیک ریس، پیرا گلائڈنگ اور دیگر کلچرل پروگرام بھی شامل ہیں۔
سیاحت دنیا میں چھٹی بڑی صنعت ہے جو کسی بھی ملک کی معیشت میں غیر معمولی تبدیلی لاسکتی ہے۔ خوش قسمتی سے پاکستان کو قدرت نے ایسے پْرفضا سیاحتی مقامات سے نوازا ہے جوکہ دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے بے پناہ کشش کا باعث ہیں اور ان میں جنوبی پنجاب قابل ذکر ہے، جس کا تاریخی،ثقافتی و جغرافیائی ورثہ حکومت وقت کی توجہ کا طالب ہے۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں سیاحت کے فروغ کے لیے ملکی وغیر ملکی سیاحوں کے لیے دلچسپی پیدا کرنے والے مواقعوں پر توجہ مرکوز کریں جس سے ناصرف لوگوں کو روزگار میسر ہو گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت پر بھی اس کے مثبت و دوررست اثرات مرتب ہوں گے۔
چولستان جیپ ریلی کے حوالے سے یہ سوال بڑا اہم ہے کہ کیا اس سے مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ مگر انتہائی دکھ سے کہا جائے گا کہ نہیں یہ ریلی چولستان کا پراڈکٹ ہے مگر اس سے روہی کے لوگ مستفیض نہیں ہو سکتے۔ اگر حکومت وقت دلچسپی لے تو با آسانی اس خامی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔وہاں مقامی ثقافتی اشیا کے اسٹالز لگا کر اور بکر منڈی قائم کر کے مقامی افراد کی روزی روٹی کا سامان کیا جا سکتا ہے۔
پانی کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا حل کیا جا سکتا ہے۔ ویاں پر مقامی افراد کی مدد سے سہولیات باہم پہنچا نا اسنیپ ریلی کو اور زیادہ پرکشش بنایا جا سکتا ہے۔
ریلی کے دنوں میں بدترین ٹریفک جام سے شائقین کی خوشیوں کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ یہاں ون وے روڈ تعمیر کی جائے چونکہ اب یہ ایونٹ عالمگیر شہرت کا حامل ہے سو تمام ضروری سہولیات کی فراہمی بے حد ضروری ہے۔سیاحوں کو رات کے وقت شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیوں کہ ریلی کے علاوہ پورے پاکستان سے سارا سال قلعہ ڈراور اور چولستان کی سیر و تفریح کرنے کے لئے سیاہ آ تے رہتے ہیں۔ رات کو قیام کی ناکافی سہولیات کے سبب رات کو واپس آنا پڑتا ہے۔ اور یوں وہ صحرا کی رات اور صحرا کے چاند کے نظارے سے محروم ہو جاتے ہیں۔چنانچہ ضروری ہے کہ حکومت وقت یہاں شیلٹر ہومز بنائے جہاں شب بسری کی تمام تر سہولیات میسر ہوں۔
اس ریلی کے دوران یہاں رنگ و نور کا سیلاب سا امڈ آتا ہے کیمپوں کو لائٹنگ سے دلہن کی طرح خوب سجایا جاتا ہے پورا چولستان جگمگا اٹھتا ہے۔کیمپوں میں کہیں لوگوں کے قہقہے گونجتے تو کہیں آواز کا آہنگ اپنا سحر سا طاری کر دیا کرتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے پورا پاکستان یہاں کھچا چلا آیا ہو۔ایک میلے ایک تہوار اور ایک پکنک کا سا سماں ہوتا ہے جو سبھی کے لیے کشش اور دل کشی کا سبب ہوتا ہے۔ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہاں صحت کی ناکافی سہولیات ہیں۔سو یہاں ایک ہسپتال تعمیر کیا جائے جو سیاحوں کے ساتھ مقامی افراد بھی علاج کی سہولیات حاصل ہو سکیں۔
خواجہ صاحب کا روہی سے عشق کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ انھوں نے اپنے کلام میں راہی کے واسیوں کو تسلی دی تھی اور ایک پیش گوئی کی تھی جو اس ریلی کی صورت میں آج ایک سچ بن چکی ہے
خوش تھی فریدا شاد ول
مونجھیں کو نہ کر یاد ول
اے جھوکاں تھیسن آباد ول
اے نئے نہ وہسی ہک منڑھی