کرپشن ، کس کے دور میں کم رہی؟ 28سال کے ریکارڈمیں چونکا دینے والے اعدادوشمار سامنے آ گئے

 اسلام آباد( خصوصی رپورٹ) کس کے دور میں  کرپشن بڑھی  اور کس کے دور میں کم رہی؟ 28سال کے ریکارڈمیں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آ گئے ۔ تفصیلات کے مطابق  1996ء میں بینظیر بھٹو کے دورحکومت میں پاکستان دنیا کا دوسرا سب سے کرپٹ ملک قرار دیا گیا تھا جبکہ 1998 میں نوازشریف کے دور میں پاکستان دنیا کا پانچواں کرپٹ ترین ملک تھا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ان دونوں ادوار میں 52 ممالک کا جائزہ لیا تھا۔

"جنگ ” میں شائع ہونیوالی رپورٹ کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے 28 سالہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ 15 سال کے دوران پاکستان بہت سے ممالک سے اوپر آگیا ہے۔پی ٹی آئی کے عمران خان کے دورحکومت میں 2018 اور 2022 کے دوران پاکستان کرپشن کے حوالے سے 23 ممالک سے بہتر تھا اور کرپٹ ممالک میں 24 واں نمبر تھا۔ مشرف کے دور حکومت میں پاکستان کا سی پی آئی سکورکم رہا جس کا مطلب کم شفافیت اور زیادہ کرپشن تھی۔ 2007 سے 2021 میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے دوران پاکستان میں کرپشن 12 مزید ممالک سے بڑھ گئی تھی۔ 2013 سے 2018 کے دوران نوازلیگ کے دور میں پاکستان میں شفافیت 15 ممالک سے بڑھ گئی۔ 1997 میں نوازلیگ کے پہلے سال میں پاکستان کی پوزیشن 5ویں کرپٹ ترین ملک کی تھی جبکہ 1998 میں یہ 15 ممالک سے بہتر ہوگئی اور پاکستان دنیا کا 15 واں کرپٹ ترین ملک قرار پایا۔