
غریب کی زندگی ملال کی تصویر
بے کسی اور بیبسی کی تصویر کے عالم میں جب انسان کی زندگی ایک افسردہ اور نمناک زندگی دیکھنے کو ملتی ہے تو بے ساختہ زبان پر ایک شعر آتا ہے۔:ـآج اس نے بھی خودکشی کر لی۔۔۔۔جس کو مرنے سے خوف آتا تھا۔وہ معاشرہ کتنا مظلوم ہوتا ہے جہاں حقوق العباد کی پاسداری نہ ہو۔لوگ غربت،افلاس اور محتاجی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوں۔کیا انسانیت کا معیار یہی ہے کہ لوگ غربت کی زندگی بسر کرتے ہوں؟کیا یہ احترام آدمیت ہے کہ بیشتر آبادی تنگدستی کی زندگی بسر کر رہے ہوں۔زرد پتوں کی مانند زندگی بسر کرتے ہوں۔خستہ حالی اس قدر کہ خوشحالی ایک خواب بن چکی ہو۔مہنگائی کا رونا اس قدر کہ مایوسی اور نا امیدی۔پیارے قارئین کرام! دولت اور سرمایہ کی غیر منصفانہ تقسیم سے مسائل ایسے پیدا ہوتے ہیں جن کا مناسب حل مشکل نہیں بلکہ نا ممکنات کی حدوں کو چھوتا محسوس ہوتا ہے۔ متوسط طبقہ کی حالت زار تو ہمارے سامنے ہے۔بنظر غور جائزہ لیں تو اسلام نے ایسا ضابطہ حیات دیا ہے جس میں حیات انسانی کو درپیش جملہ مسائل کا حل موجود ہے۔پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی الہی کی روشنی میں اقتصادی مسائل کا بھی جامع حل پیش فرمایا۔کیا ہم خواہشات کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہیں کہ اسراف کی طرف ہی بڑھتے جاتے ہیں؟کیا اعتدال پسندی کا درس بھول چکے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کائنات ارض میں رہنے والے انسانوں دیا؟کیا ہماری سوچ جدت پسندی کے دبیز پردوں میں دب کر رہ گئی ہے؟کیا غربت کے خاتمہ کے لئیے ہمارے پاس کوئی پروگرام ہے؟کیا کبھی غور کیا ہے کہ غریب انسان کی زبان سے ادا ہونے والے کلمات کتنے اذیت ناک ہوتے ہیں۔بقول شاعر:ـاپنی غربت کی کہانی ہم سنائیں کس طرح۔۔۔۔رات پھر بچہ ہمارا روتے روتے سو گیا۔خواہشات کس بشر کی نہیں ہوتیں۔کیا ہم نے سوچا کہ غریب کا دل کیسے جیتا جا سکتا ہے؟آج خدمت کے نام پر کیا کچھ نہیں ہو رہا؟بات تو سچ بھی ہے کہ :ـعروج پر تو ہر کوئی ملاتا ہے ہاتھوں میں ہاتھ۔۔۔۔مشکلوں میں تو اپنے بھی چھوڑ جاتے ہیں۔معاشرتی بے چینی کا خاتمہ عبادت الہی اور ذکر الہی سے ممکن ہے۔انسانیت کی خدمت صاحب حیثیت کریں تو ترقی اور خوشحالی کے در وا ہو سکتے ہیں۔دوسروں کے معاملات سدھارنے میں اعانت بہت ہی اچھا عمل ہے۔آج ہم احترام آدمیت اور خدمت خلق کے جذبہ سے عاری کیوں ہیں؟اس سوال کا جواب آپ مجھ سے بہتر انداز سے دے سکتے ہیں۔میری ناقص رائے تو یہ ہے کہ توکل کی خوبی سے ہماری زندگی عاری ہے۔خود غرضی اور دل پسندی کے رزائل سے نہ صرف ہمارے اخلاق متاثر ہو رہے ہیں بلکہ قلوب زنگ آلود ہیں۔یہ حقیقت تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ دوسروں کے درد مٹانے سے اللہ اپنے درد مٹا دیتا ہے۔یہ تو عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔یہ بات کسی نے کیا خوب فرمائی ہے کہ مسلمانوں کے زوال کی وجہ عبادت میں کمی نہیں بلکہ بلکہ دنیاوی معاملات میں بے ایمانی اور اسلام کو صرف عبادات تک محدود کرنا ہے۔انسان تو درد دل رکھنے والی مخلوق ہے۔یاد رہے کہ حسن اخلاق سے نہ صرف پیچیدہ معاملات درست ہو سکتے ہیں بلکہ تسکین قلب کی دولت سے مالا مال بھی ہو سکتے ہیں۔عاجزی اللہ تعالی کو بہت پسند ہے۔عنوان سخن تو یہی ہے کہ غربت کا خاتمہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔بھلائی سے پیش آنا ایک اچھا طرز عمل ہے۔انسانی رویے کتنے اہم ہوتے ہیں؟کیا کبھی اس پہلو پر ہم نے کبھی غور کیا کہ کس قدر ہماری تلخ نوائی کسی فرد کی دل آزاری کس باعث بن سکتی ہے؟ہمارا معاشرہ تو اسلامی ہے۔اس میں اخلاق حسنہ کو اولین ترجیح ہونی چاہیئے۔کمزوروں اور محتاجوں کی اعانت کا درد ہونا چاہیئے۔آئے روز مہنگائی تو ایسا ایشو بن چکی کہ اس کا تذکرہ شامل تحریر نہ ہو تو وہ بھی نا مکمل سمجھی جاتی ہے۔یہ تو حرف صداقت بھی ہے کہ مہنگائی کے آسیب سے غربت،بے روزگاری اور افلاس جنم لے رہے ہیں۔منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔اہل قلم ایسا کردار ادا کریں کہ غریب کی آواز ایوان اقتدار تک پہنچ پائے۔یہاں ایک قابل غور بات کی طرف توجہ مبذول کرانا ضروری خیال کرتا ہوں۔کہ تمام مصلحتوں سے بالا تر ہو کر اس بات پر غور کیا جائے کہ معاشرہ سے غربت کی لعنت کیسے ختم ہو سکتی ہے۔سوچا جائے تو یہ اجتماعی مسئلہ ہے۔اس کے حل کے لیئے مثبت کردار کی ضرورت ہے۔معاشی ابتری کے بحران سے نکلنے کے لیئے ضروری ہے کہ ٹھوس اقدامات تجویز کیئے جائیں۔نظام حیات بدلنے کی ضرورت ہے۔اچھے ممالک اور معاشرے عوام کی خوشحالی کی بات سنجیدگی سے کرتے ہیں۔یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں بھی ہے کہ اگر ہماری آرزو یہی ہو کہ دوسروں کی زندگی خوشحال ہو تو اس میں ہماری اپنی بھی بھلائی ہے۔خدا کی رحمت سے ہی تمام مسائل حل ہو سکتے ہیں۔بقول شاعر:ـ
حرف لفظوں میں ڈھلے،وسعت خیالوں کو ملی
۔جب ہوا فہم و خرد پر تیری رحمت کا نزول