ترقی یہ ہے کہ سری نگر کے ہر کونے میں نئے بنکر بن رہے ہیں جموں و کشمیر کو ایک ماڈل پولیس سٹیٹ بنا دیاگیا ہے۔ یوسف تاریگامی

سری نگر() کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے کشمیری رہنما  یوسف تاریگامی نے کہا ہے کہ5 اگست 2019 کے بعد بھارت نے جموں وکشمیر میں جبرسے آوز کو دبانے میں پیش رفت کی  ہے ۔جموں و کشمیر کو ایک ماڈل پولیس سٹیٹ بنا دیاگیا ہے جس کے ازالے کا کوئی طریقہ کار یا آئینی ادارہ نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر کے ہر کونے میں سیکورٹی بنکر بن رہے ہیں اور کشمیر میں نئی نیم فوجی کمپنیاں بلائی گئی ہیں۔  لوگوں کے لیے واحد نجی جگہ شادی ہالوں میں اضافی سی آر پی ایف اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔کے پی آئی  کے مطابق  جنوبی کشمیر کے کنڈ قاضی گنڈ میں پارٹی کارکنوں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ  جموں و کشمیر میں سب سے زیادہ بے روزگاری کی شرح 21.6 فیصد اور مہنگائی کی حیرت انگیز شرح 7.39 فیصد ہے جو2019 کے بعد خطے میں بی جے پی کے ترقی کے دعوئوں کو جھٹلاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگست 2019 کے بعد سے، غیر رسمی شعبے سے وابستہ جموں و کشمیر کے لوگوں کی آمدنی بے روزگاری کی ایک بڑی لہر کی وجہ سے تیزی سے کم ہو گئی ہے۔ متاثر ہونے والے افراد میں تعمیراتی کارکن، آٹو اور بس ڈرائیور، چھوٹی دکانوں کے مالکان اور یومیہ اجرت والے مزدور شامل ہیں۔ جموں و کشمیر میں آشا اور آنگن واڑی کارکنوں کو ان کی معمولی اجرت وقت پر ادا نہیں کی جا رہی ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں کے تنازعات کے باوجود، جموں و کشمیر میں باغبانی کی صنعت جسے خطے کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، چند سال پہلے تک پھل پھول رہی تھی۔ تاہم، نومبر 2018 اور 2019 میں غیر موسمی برف باری کے بعد سیب کی فصل اور درختوں کو نقصان پہنچا اور کشمیر میں پھلوں کی صنعت کو اگست 2019 کے لاک ڈان کی وجہ سے معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد کوویڈ 19 لاک ڈان نے پھلوں کی صنعت کو تباہ کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال اکتوبر کے اوائل میں ہونے والی برف باری نے خاص طور پر جنوبی کشمیر کے کولگام اور شوپیاں اضلاع میں کسانوں کو ایک اور دھچکا پہنچایا۔ برفباری کی وجہ سے نہ صرف ابھی تک توڑے جانے والے پھلوں کو نقصان پہنچا ہے بلکہ اس سے پھل دار درختوں کو بھی نقصان پہنچا ، جس کی تلافی کسانوں کے لیے مشکل ہوگی۔ ابھی تک متاثرہ کسانوں کو کوئی معاوضہ ادا نہیں کیا گیا اور نقصان کا صحیح تخمینہ بھی نہیں لگایا گیا۔ انہوں نے ان متاثرہ باغبانوں کو مناسب معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا-