وزیر خزانہ کا آئندہ چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں ’غیر معمولی‘ کمی کا عندیہ

وزیر خزانہ شوکت ترین نے ملکی معیشت بہتر ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گندم کی ریلیز پرائز 19 سو روپے کردی ہے جس کے بعد آئندہ چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں غیر معمولی کمی ہوجائے گی۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مئی میں ریلیز بند کردی تھی لیکن اب دوبارہ شروع کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا اور طلب و رسد میں تعطل کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر روز مرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ قیمتوں کے استحکام کے لیے پیداوار بڑھانا ہوگی جبکہ سبزیوں کی قیمت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آلو، پیاز، ٹماٹر سمیت روز مرہ کی چیزوں کی قیمتوں میں مقامی سطح پر اضافے کے بعد جائزہ لینا ہوگا کہ آیا منڈی میں مہنگے دام فروخت ہونے والی سبزیوں کو برآمد کرنا چاہیے یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم بین الاقوامی قیمتوں سے منسلک ہوگئے ہیں، ہمیں جائزہ لینا ہوگا کہ کاشت ہونے والی سبزی سے لے کر خوردہ فروش (ریٹیلرز) کا کتنا کتنا فائدہ ہے اور یقینی طور پر یہ منافع بہت ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ کسان کو اتنا منافع نہیں ملتا جتنا خوردہ فروش کماتا ہے، اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے ’سائنٹیفک پروسیز ری انجینئرنگ ‘ کر رہے ہیں۔

شوکت ترین نے کہا کہ کاشت کار سے لے کر مارکیٹ میں فروخت ہونے تک کے تمام مراحل کا سائنسی بنیاد پر مطالعہ ہوگا کہ کون کتنے فیصد منافع وصول کر رہا ہے اور قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں کون کون شامل ہوتا ہے۔

علاوہ ازیں گندم کی ریلیز پرائز پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے مئی میں گندم کی ریلیز پرائز بند کردی تھی، تاہم اسے دوبارہ شروع کردیا ہے۔

انہوں نے رواں ماہ سے ہی مخصوص اشیا پر سبسڈی دینے کا دعویٰ کیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سے قبل مخصوص اشیا پر سبسڈی کا عمل نہیں تھا کیونکہ پہلے صرف گیس اور بجلی کے ٹیرف پر سبسڈی دے رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب چینی، دال، سبزیوں کے لیے کیش سبسڈی دیں گے اور نیم متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی 45 فیصد نفوس کو کیش سبسڈی ملے گی۔