مقبوضہ جموں و کشمیر؛ بھارت کی ریاستی دہشت گردی جاری!

تحریر: محمد اختر اسلم

میرا کشمیر آج پھر لہُو لہان ہے۔چاروں طرف دھوئیں کے بادل، ہر طرف بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور قتل و غارت کا راج، جنت نظیر وادی کشمیر، سراپا احتجاج۔۔بھارت نے حسبِ معمول انسانی حقو ق کی خلاف ورزی کی تمام حدود پار کر دِیں۔وادیِ کشمیر کے بچے سے لے کر بزرگ اور مائیں، بہنیں اور بیٹیاں اپنی آزادی کے لئے سر بکف ہیں۔ گزشتہ 73سال کے عرصے میں لاکھوں کشمیری اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چُکے ہیں۔مائوں نے اپنے نوجوان لختِ جگر آزادیِ جدوجہد میں قربان کئے، 15 مارچ 2021 کو ایک بار پھر بھارتی قابض ا فواج نے ضلع شوپیان کے علاقے راول پور ہ میں پُر تشدد کاروائیاں کرتے ہوئے دہ نوجوانوں کو شہید جبکہ درجنوں کو زخمی اور متعدد رہائشی مکانات کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیاہے جس کے بعد سے ایک بار پھر مظاہرین پر پیلٹ گن سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے ، کشمیر میڈیاسروس کے ذریعے دُنیا بھر میں جو دلخراش واقعات کی خبریں پہنچ رہی ہیں وہ انتہائی لرزہ خیز ہیں لیکن افسوس صدافسوس تاحال عالمی برادری کا ضمیر سویا ہوا ہے اور کسی کے کان پر جُوں تک نہیں رینگی،کسی عالمی تنظیم یا انسانی حقوق کے ادارے کو یہ توفیق تک نہیں ہوئی کہ کم از کم کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم پر مذمت کر دیں۔عراق اور افغانستان پر حملہ آور ہو کر اپنے سیاسی مقاصد کے حصول اور عالمی تسلّط کی خواہش مند بین الاقوامی قوتیں کشمیر میں بھارتی مظالم کو یکسر نظر انداز کئے ہوئے ہیں۔وادی ِ مقبو ضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام اقوامِ عالم اور انصاف کے علمبرداروں سے یہ سوال کرتے ہیں کہ اِن کے بنیادی حقوق کب تسلیم کئے جائیں گے؟انہیں بھارتی مظالم سے کب نجات ملے گی ؟سری نگر سے موصول تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارتی افواج نے بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے اور یہ سلسلہ پوری وادی میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل چُکا ہے۔ دوسر ی جانب جنوری 2021 تک ہندوستان مقبو ضہ جموں و کشمیر میں 33,80,234 ( تیتیس لاکھ اسی ہزاردوسو چونیتیس) ڈومیسائیل جاری کر چُکا ہے جوکہ بھارت کی جانب سے مقبو ضہ جموں و کشمیر کی اکژیت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا واضح اور ٹھوس ثبوت ہے ۔ فاشسٹ ہندوتوا مودی سرکارگزشتہ چند مہینوں میں ہندوتوا کے ایجنڈے کو تیز رفتار سے آگے بڑھانے کے لئے مقامی افسران کی جگہ آل انڈیا سروسز (اے آئی ایس) کے کئی افسران کو تعینات کر چُکی ہے اور تازہ ترین مصدقہ اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی سرکار مزید 18 افسران کو تعینات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حیرت اِس بات پر ہے کہ مغربی دُنیا کشمیریوں پر جاری بھارتی مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ اِن حالات میں ترکی کے صدر طیب اردگان نے کئی مواقع پر کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی اور بھارتی مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔ لیکن حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ اقوام متحدہ جیسا ادارہ بھی مسئلہ کشمیر دو ایٹمی ممالک کے درمیان حل کروانے میں تا حال ناکام ہے ۔ پاکستان کی حکومت، افواجِ پاکستان اور عوام مکمل طور پر کشمیریوں کے حق ِخود ارادیت کی حمایت کرتے ہیں۔ پاکستان نے بارہا عالمی سطح پر کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کی بھر پور مخالفت کی ہے اور وادی ِکشمیر میں جاری بھارتی ریاستی دہشت گردی فوراً روکنے کا پُر زور مطالبہ کیا ہے ۔ پاکستان ایک بار پھر کشمیریوں کے حق ِخود ارادیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اہل ِکشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ بھارت نے پاکستان اور افواجِ پاکستان کے خلاف ہمیشہ کشمیر میں مداخلت کا پروپیگنڈہ کیا ہے جسکا مقصد صرف کمال ہوشیاری اور چالاکی سے دُنیا کو مسئلہ کشمیر سے دور رکھنا ہے اور کشمیر میں اپنے ناپاک مزموم عزائم کو عملی جامہ پہنانا ہے ، اِس ضمن میں دُنیا نے دیکھا کہ کیسے بھارت نے 5اگست 2019 کے دِن کو کشمیر کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کی حیثیت میں تبدیل کیا ، اِس دن بھارتی حکومت نے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 370 اور35Aکو ختم کر دیا جس سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی اور کشمیر کو مکمل طور پر بھارت کا قانونی حصہ قراد دے دیا گیا۔ بھارتی حکومت کے اِس یک طرفہ اقدام کی نہ صرف پوری وادی ِکشمیر بلکہ پاکستان نے بھی مخالفت کی لیکن اقوامِ عالم اِس پر بھی حسبِ معمول خاموش رہی ۔آرٹیکل 370کو ختم کرنے کے بعد بھارت کے ہندو شہریوں کو منصوبے کے تحت کشمیر میں آباد کیا جا رہا ہے جس سے ہندوئوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا۔ اقوامِ عالمِ اِس مصنوعی تسلط پر بھی خاموش ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق پلوامہ ڈرامہ اور بالا کوٹ کارروائی کی سچائی دنیا کے سامنے آگئی ہے۔حال ہی میں بھارت کی دو اہم شخصیات کی گفتگو کی چیٹ لیکس اِس بات کا نا قابلِ تردید ثبوت ہے کہ بھارت نے پلوامہ میں خود اپنے فوجیوں کو مروایا اور اِس کا الزام پاکستان پرلگا یا اور بھارتی وزیر اعظم نے اِس پر مگر مچھ کے آنسو بھی بہائے۔ پلوامہ ڈرامہ بے نقاب ہو گیا۔پاکستان پلوامہ حملے کو پہلے ہی سازش قرار دے چُکا تھا۔پلوامہ حملے کے شواہد سامنے آچُکے ہیں۔ہندوتوا فاشسٹ نریندر مودی 40بھارتی فوجیوں کی لاشوں پر مگر مچھ کے آنسو بہاتا رہا۔ مودی سرکار کے اِس ڈرامہ کا مقصد تھا کہ پاکستان کے خلاف جنگی ماحول پیدا کر کے بھارتی عام انتخابات میں کامیابی حاصل کی جائے۔ بھارتی اینکر ارناب گوسوامی (Arnab Goswami)اور بھارتی براڈ کاسٹ ریسر چ کونسل کے سر براہ پر اتھوداس گپتا کے درمیان واٹس ایپ چیٹ لیکس نے بھارتی حکومت کی پاکستان مخالف سازشوں کو بُری طرح بے نقاب کر دیا ہے۔ بھارتی حکمرانو ں کی کھلم کھلا جارحیت اور دروغ گوئی پوری دنیا پر آشکار ہو چُکی ہے۔ مقبو ضہ جموں و کشمیر کی صورتحال انتہائی حساس ہو چُکی ہے ہر آنے والا دِن کشمیر یوں پر پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔بھارت نے تمام کشمیری قیادت کو نظر بند کر رکھا ہے۔یہاں تک کہ سیدعلی گیلانی جیسا بزرگ بھی اپنی پیرانہ سالی کے باوجود نظر بند ہے۔ اہلِ کشمیر سلام ہو تم پر، بے شک فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ وہ دن ضرور آئے گا جب آزادی کا سورج طلوع ہوگااور مقبوضہ کشمیر بھارت کے غاصبانہ قبضے سے آزاد ہوگا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم انصاف کے علمبرداروں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ اب جب کہ امریکہ کے چھیالیسویں منتخب صدر جوبائیڈن اپنی صدارت کا حلف اٹھا چُکے ہیں او ر ُانہوں نے عالمی امن کے حوالے سے بہت سے بیانات بھی دئیے ہیں۔ کشمیری عوام کی نظریں بھی امریکی صدر کی طرف لگی ہیں اور وہ اِن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ واضح رہے مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کسی صورت ممکن نہیں ۔