
نوازشریف کو این آر او نہیں دیا، باہر بھیج کر غلطی کیِ، عمران خان
میڈیکل بورڈ نہ کہتا ان کی جان کو خطرہ ہے تو کبھی جانے کی اجازت نہ دیتا، وزیراعظم کا ایک ٹی وی انٹرویو میں اظہار خیال
اکانومی سے متعلق سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار سنبھالا تو پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، پہلا سال بڑا مشکل تھا لیکن اب اللہ کا شکر ہے کہ ملکی معیشت تیزی سے بہتر ہو رہی ہے جہاں کورونا کے باوجود جولائی میں ریونیو توقع سے زیادہ رہا اس کے علاوہ سیمنٹ اور گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان صیح سمت میں جا رہا ہے، لوگوں کو اب امید نظر آ رہی ہے، پاکستان کا مفاد شفاف حکومت جبکہ اپوزیشن کا مقصد چوری بچانا ہے، یہ نیب میں پھنسے ہوئے ہیں، وہاں جا کر جواب دیں میں نے 60 سال کا ریکارڈ عدالت میں جمع کروایا دوسری جانب نواز شریف نے جعلی قطری خط پیش کیا وہ پیسہ چوری کرکے باہر لے کر گئے، ایک دستاویزات نہیں دی، نواز شریف آج تک ایک منی ٹریل نہیں دے سکے، نیب کا چیئرمین پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے مل کر لگایا، اپوزیشن کے تمام کیسز سابق دور کے ہیں، ہمارے دور میں صرف ٹی ٹیز کیس بنا، کیا عبدالعلیم خان اور سبطین خان کو میں نے جیل میں ڈلوایا؟ عثمان بزدار کو جس کیس میں نیب نے بلایا، مجھے اس پر تحفظات ہیں۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ بھارت مسلسل کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلا جائے، اپوزیشن کو اس چیزکا پتا ہے پھر بھی ایسا کر رہی ہے،آئندہ ہفتے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا، کوشش ہوگی مشترکہ اجلاس میں فیٹف قانون پاس کرا لیں تاہم اگر اپوزیشن نے اسے ڈیفیٹ کیا تو یہ پھر سب ذمہ دار ہونگے، لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان گرے لسٹ میں کیوں گیا؟ مسلم لیگ (ن) کے دور میں ایسا ہوا اب اگر پاکستان بلیک لسٹ میں گیا تو عالمی پابندیاں اور روپے کی قدر گر جائے گی اور جب روپے کی قدر کم ہوگی تو بجلی اور گیس سمیت سب کچھ مہنگا ہو جائے گا پہلے ہی تباہ حال معیشت اور ریکارڈ خسارے ورثے میں ملے اب اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان صیح سمت میں جا رہا ہے۔بلیک لسٹ میں چلے گئے تو بہت تباہی ہوگی۔