بھارت مسلمانوں کے لیے ایک قتل گاہ بن چکا ہے: فاروق رحمانی

اسلام آباد17 اپریل(کے پی این)کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سابق کنوینر محمد فاروق رحمانی نے کہا ہے کہ آر ایس ایس کے غنڈے بھارتی مسلمانوں کو ان کے اپنے ہی وطن میں جانوروں کی طرح ذبح کررہے ہیں اور دنیا کوئی سوال نہیں پوچھتی ۔
محمد فاروق رحمانی بھارتی ریاست اترپردیش میں چار بار رکن اسمبلی منتخب ہونے والے عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف احمد کے دن دہاڑے اوربراہ راست ٹی وی کوریج کے دوران بہیمانہ قتل پراپنا ردعمل ظاہرکر رہے تھے۔مسلمان دشمن جنونی حملہ آوروں نے”جے شری رام”اور”ہیل شری رام” کے نعرے لگائے اور انہیں نزدیک سے گولی مارکر قتل کر دیا۔پولیس دونوں سابق ارکان اسمبلی کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی۔ فاروق رحمانی نے خبردار کیا کہ بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر سے روزانہ خوفناک رپورٹس آرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف کشمیریوں کو حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر نشانہ بنایا جارہا ہے اور علاقے کے مسلم اکثریتی تشخص کو تبدیل کرنے کے لیے آبادی کا تناسب تبدیل کیا جارہا ہے اور دوسری طرف بھارتی مسلمانوں کا قصور ان کا مذہب اسلام پر یقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیرکے سابق گورنر ستیہ پال ملک کے انکشافات سے پاکستان کے موقف کی تصدیق ہوئی ہے اوریہ بات ثابت ہوئی ہے کہ پلوامہ کا ڈرامہ بھارتی دہشت گردی کا حصہ تھاجو کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنے کے لئے جعلی مقابلوں کا سہارا لے رہاہے۔ فاروق رحمانی نے کہا کہ بھارت نہ صرف جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ہے بلکہ وہ نہرو لیاقت معاہدے کے مطابق بھارتی مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں بھی ناکام رہا ہے، اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ وہ بھارتی مسلمانوں کی ناگفتہ بہ صورتحال کو متعلقہ بین الاقوامی فورمز پر اجاگرکرے اور حق خود ارادیت کا معاملہ ایک بار پھر اقوام متحدہ میں اٹھائے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت کی خوفناک تصویر کے پیش نظر آر ایس ایس کے ارکان اور حامیوں کوکسی بھی بہانے مقبوضہ جموں و کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے کیونکہ آر ایس ایس کے یہ گینگ بی جے پی حکومت کی مدد سے مقبوضہ علاقے میں بڑے پیمانے پر قتل و غارت شروع کر سکتے ہیں۔