
اسلام آباد: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے قومی اسمبلی سے استعفے دینے کا فیصلہ کرلیا۔
عمران خان کی زیرصدارت پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوا جس میں 95 ایم این ایز شریک ہوئے۔ اجلاس میں قومی اسمبلی سے استعفوں کے آپشن پر غور کیا گیا۔ عمران خان نے استعفوں کی تجویز پر ارکان قومی اسمبلی سے رائے لی۔
اجلاس کے شرکاء نے عمران خان پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی قیادت کے ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کرائی۔ پارٹی ارکان نے کہا کہ استعفوں سے متعلق عمران خان جو فیصلہ کریں گے قبول ہوگا۔
پارٹی ارکان نے کہا کہ جو بھی وزیراعظم حکومت سے باہر نکلتا ہے تو اس پر کرپشن کے الزامات لگتے ہیں، الحمد اللہ عمران خان پر کوئی کرپشن کے الزامات نہیں ہیں، ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے۔
پی ٹی آئی ارکان مستعفی ہونے پر تقسیم ہوگئے۔ اکثریتی ارکان نے اسمبلیوں سے مستعفی نہ ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ استعفے دینے کی بجائے پارلیمنٹ میں جمہوری لڑائی لڑی جائے۔
ذرائع کے مطابق فواد چوہدری، حماد اظہر، شیخ رشید، علی اعوان مستعفی ہونے کے حق میں ہیں۔ شاہ محمود قریشی، فیصل جاوید، فخر امام سمیت اکثریتی ارکان مستعفی نہ ہونے کے حق میں ہیں۔
علاوہ ازیں عمران خان پارلیمنٹ ہاؤس پہنچے تو صحافی نے سوال کیا کہ کل کے عوامی احتجاج پر کیا کہتے ہیں؟۔ عمران خان نے جواب دیا کہ عزت دینے والا اللہ ہے۔
گزشتہ روز وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے پر پی ٹی آئی چیئرمین کی کال پر پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور حامیوں نے ملک گیر احتجاج کیا، جس میں مظاہرین نے اپوزیشن اور امریکا کے خلاف شدید نعرے بازی کی جبکہ اپنے قائد سے یکجہتی کا اظہار کیا۔