عدم اعتماد والا قافلہ کہاں؟

عدم اعتماد کے غبارے سے ہوا نکل چکی کچھ کرم فرماوں نے غبارہ لیک کر دیا تھا لیکن کمال ہنر مندی سے کاریگر غبارے کو بھی پنکچر لگا کر یہ تاثر دے رہے ہیں یہ قافلہ ابھی رکا نہیں تھما نہیں ہم تو پہلے دن سے کہہ رہے تھے اپوزیشن کی ساری ایکسرسائز کا فائدہ حکومت کے اتحادیوں کو ہو گا اور وہی ہوا حکومت مرکز اور پنجاب کابینہ میں توسیع کر رہی ہے اتحادیوں سمیت اپنے ناراض کی بھی لاٹری نکل آئی ہے اپوزیشں اپنے لیے میلہ سجا رہی تھی اس میں ڈھول کوئی اور بجا گیا دھمال کوئی اور ڈال گیا اور میلہ کسی اور نے لوٹ لیا اب صرف مسلم لیگ ن اکیلی تماشائیوں کو آوازیں دے دے کر بلا رہی ہے ابھی جانا نہیں میلہ ابھی ختم نہیں ہوا لیکن جو میلہ دیکھ چکے ہوں پھر انکی دلچسپی نہیں رہتی تحریک عدم اعتماد والے معاملہ کی ابتدا پیپلزپارٹی نے کی تھی انھوں نے مسلم لیگ ن کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا اور خود ٹریکٹر ٹرالی پر چڑھ گئے اب پیپلز پارٹی صرف ہلہ شیری دے رہی ہے اور عدم اعتماد کا سارا بوجھ مسلم لیگ ن اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھائے ہوئے کبھی اِدھر کو جاتی ہے کبھی ادھر کو حکومتی اتحادیوں سے مایوس ہو کر اب کہا جا رہا ہے کہ ہم صرف اتحادیوں پر ہی اکتفا نہیں کیے ہوئے ہمارے ساتھ تحریک انصاف کے 20 اراکین اسمبلی ہیں نہ جانے یہ ارکان قومی اسمبلی میں انکے ساتھ ہیں صوبائی اسمبلی میں ہیں یا سینٹ میں ہیں اپوزیشن جس کے قومی اسمبلی میں لیڈر شہباز شریف ہیں اور پنجاب اسمبلی میں حمزہ شہباز ہیں ابھی تک انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ تحریک عدم اعتماد پنجاب میں لانا چاہتے ہیں یا قومی اسمبلی میں کیونکہ سینٹ میں قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی تو چیئرمین سینٹ کے خلاف عدم اعتماد لانے کیلئے تیار نہیں حالانکہ اپوزیشن وہاں اکثریت میں ہے عدم اعتماد کی تحریک کی طاقت کا اندازہ آپ یہاں سے لگا سکتے ہیں کہ جہاں اپوزیشن کی اکثریت ہے وہ وہاں اپنا حق استعمال نہیں کر پا رہے تو باقی اسمبلیوں میں بیگانے پتر ان کا ساتھ کیونکر دیں میاں شہباز شریف اقلیت کے ساتھ حکومت قائم رکھنے کی سائنس کو بڑے اچھے طریقے سے سمجھتے ہیں جس سائنس کے ذریعے چیئرمین سینٹ اپنی اکثریت قائم رکھے ہوئے ہیں یہ جادو میاں شہباز شریف کا ایجاد کردہ ہے 2008 سے 2013 تک کے عرصہ میں طے شدہ فارمولے کے تحت اتفاق رائے کی حکومتیں بنیں تو پنجاب میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی آپس میں اتحادی تھیں مسلم لیگ ن تنہا حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی میاں شہباز شریف نے مسلم لیگ ق کے اراکین اسمبلی کا ایک بڑا گروپ توڑا اور پیپلزپارٹی کی چھٹی کروادی اب بیک وقت مسلم لیگ ق کا یہ گروپ اپوزیشن بھی تھا اور حکومت کا اتحادی بھی تھا خواجہ احمد حسان کی سربراہی میں 90 شارع قائد اعظم پر ان ق لیگی ارکان کے کاموں کیلئے باقاعدہ ایک سیکرٹریٹ قائم کیا گیا جو ان کے کاموں اور معاملات کو دیکھتا تھا ق لیگ والے پیٹتے رہ گئے نہ سپیکر نے ان باغی ارکان کیخلاف کوئی کارروائی کی اور نہ ہی ان کا اپوزیشن لیڈر ڈیکلیئر کیا سینٹ میں مکافات عمل جاری ہے پیپلزپارٹی عدم اعتماد کے قافلے کو مسلم لیگ ن کے حوالے کر کے خود اگلے انتخابات کے لیے عوامی رابطہ مہم شروع کر چکی حکومت نے بھی عوامی جلسوں سے اگلے انتخابات کی تیاریاں شروع کر دی ہیں مسلم ن گو مگو کا شکار ہے کہ عدم اعتماد کا گلے پڑا ڈھول بجایا جائے یا عوامی رابطہ مہم شروع کی جائے کیونکہ لانگ مارچ والا ایشو بھی پیپلز پارٹی ہائی جیک کر چکی اب مسلم لیگ ن صرف اور صرف عدم اعتماد کی تحریک کی سیاست میں مگن ہے لیکن اس میں بھی وہ حکومت کے ناراض دوستوں پر تکیہ کیے بیٹھے ہیں حالانکہ انکے اپنے ارکان اسمبلی کو عدم اعتماد کی تحریک پر تشویش ہے ارکان اسمبلی کی عدم اعتماد کی تحریک میں دلچسپی اس لیے ہو سکتی ہے کہ انھیں یقین ہو کہ عدم اعتماد کی تحریک کی کامیابی کی صورت میں وہ اقتدار میں آ جائینگے وہ یا انکے ساتھی وزیر مشیر بنیں گے وہ اپنے کام کروا کر حکومتی مشینری استعمال کر کے اپنا اگلا الیکشن سیدھا کر لیں گے لیکن یہاں مایوسی اس لیے ہے کہ مسلم لیگ ن کہتی ہے کہ ہم عدم اعتماد کرکے حکومت کو گھر بھیجیں گے اور خود حکومت نہیں بنائیں گے ایک آئینی بحران پیدا کرکے اسمبلیاں تڑوائیں گے اور جلد الیکشن کروائیں گے کیا قبل از وقت الیکشن کیلئے حکومتی ارکان یا اتحادی آپ کا ساتھ دیں گے اس مقصد کیلئے تو آپکے اپنے ارکان کو تشویش ہے وہ دل سے ساتھ دینے کو تیار نہیں کوئی رکن اسمبلی مدت ختم ہونے سے ایک دن پہلے بھی اسمبلی توڑنے کے حق میں نہیں ہوتاجو کروڑوں روپیہ لگا کر الیکشن جیت کر اسمبلیوں میں پہنچے ہیں وہ کس طرح چاہیں گے کہ قبل از وقت الیکشن کیلئے اسمبلیاں توڑ دی جائیں اور پھر انھیں یہ بھی یقین نہیں کہ وہ اگلے الیکشن میں جیت کر دوبارہ اسمبلیوں میں آ جائینگے اپوزیشن خصوصا مسلم لیگ ن والے عصر کے وقت روزہ توڑنے کی ترغیب دے رہے ہیں جو کہ ارکان اسمبلی کو کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں دوسرے معنوں میں مسلم لیگ کے ووٹر سمجھتے ہیں کہ موجودہ مہنگائی کے دور میں اصل ایشو سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کیلئے عدم اعتماد پر سیاست حکومت کی مدد کرنے کے مترادف ہے سیاسی حلقوں کو اب عدم اعتماد کی سیاست کے اثرات کا انتظار ہے دیکھیں کون کس کو استعمال کر کے کیا فائدہ اٹھاتا ہے۔