جنوبی کشمیر میں چھ کشمیری نوجوانوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خلاف ہڑتال و احتجاجی مظاہرے وادی کے کئی علاقے فوجی محاصرے میں،گھرگھرتلاشی کا سلسلہ جاری

سرینگر ( )جنوبی کشمیر میں 30گھنٹوں کے دوران چار مختلف جعلی مقابلو ں کے دوران چھ کشمیری نوجوانوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے خلاف پیر کو مکمل ہڑتال رہی اور بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔شوپیان کے چوگام اورہرد میر ترال کے بعد بجبہاڑہ کے خوش روئے کلاں سری گفوارہ علاقے میں گذشتہ روز ایک نوجوان کی شہادت سے تیس گھنٹوں میں ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تعداد چھ ہوگئی تھی۔پیر کو ان ہلاکتوں کے خلاف جنوبی کشمیر کے شوپیاں ،ترال ،بیج بہاڑہ سمیت کئی دوسرے علاقو ںمیں تمام کاروباری مراکز بندرہے جبکہ ٹریفک بھی معطل رہی ،لوگوں نے بھارتی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے بھی کئے ، وادی کے کئی علاقے ابھی بھی بھارتی فوجی محاصرے میںہیں جہاں لوگوں کو سخت سردی میں گھروں سے باہر نکال کر ان کی شناختی پریڈ کرائی جاتی ہے جبکہ تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ کئی کو گرفتار کیا جاتا ہے ،ادھر پلوامہ میں پوسٹ آفس کے نزدیک گذشتہ روزمسلح افراد نے پولیس پارٹی کو نشانہ بنا کر گرینیڈ داغا ، جس سے آئی آر پی 10بٹالین سے وابستہ 2 اہلکاروں کو شدید چوٹیں آئیں اور انہیں فوری طور پر ضلع اسپتال پلوامہ منتقل کردیا گیا ۔ ایک اہلکار کو ٹانگوں اور دوسرے کو کندھے میں زخم لگے۔دھماکے کے فورا بعد پلوامہ شوپیان روڑ بند کیا گیا اور علاقے میں گھیرے میں لیکر تلاشیاں لی گئیں۔۔