بلوچستان ایک مخلص قیادت کا متلاشی

بلوچستان پاکستان کا رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا اور آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے، یہاں پر بلوچوں کے علاوہ پشتون بھی بڑی تعداد میں رہتے ہیں لیکن ان کے علاوہ پاکستان کے تمام صوبوں اور علاقوں کے لوگ یہاں پر رہائش پزیر ہیں۔ جس طرح پنجاب میں ن لیگ سندھ میں پیپلز پارٹی اور کے پی کے میں تحریک انصاف کو ایک طرح کا سیاسی غلبہ حاصل ہے اسی طرح بلوچستان میں کسی ایک سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔ اس صوبے میں تمام سیاسی جماعتیں اپنا تنظیمی وجود رکھتی ہیں، ان میں جے یو آئی فضل الرحمن کے اثرات سب سے زیادہ ہیں علاقائی جماعتیں بھی اپنا اثر رسوخ رکھتی ہیں قومی جماعتوں میں پی پی پی بھی یہاں سے جیتتی رہی ہے اب بھی قومی اسمبلی میں اس صوبے سے پی پی پی کی نمائندگی ہے صوبائی اسمبلی میں بھی کچھ ارکان ہیں، ن لیگ کا یہاں کوئی اسٹیک نہیں ہے البتہ اس کی تنظیم قائم ہے اے این پی بھی یہاں پر اثرات رکھتی ہے دینی جماعتوں میں جے یو آئی کے بعد جماعت اسلامی بھی یہاں مضبوط تنظیم رکھتی ہے سابق نائب امیر پاکستان اور سابق امیر جماعت اسلامی بلوچستان مرحوم مولانا عبدالحق صاحب ایک زمانے میں رکن قومی اسمبلی رہ چکے ہیں اس صوبے کی سیاست پر سرداری اور قبائلی سسٹم چھایا ہوا ہے۔ آج کل علاقائی جماعتوں نے اتحاد کر کے بلوچستان عوامی پارٹی BAP بنائی ہے جو اس وقت صوبے میں حکومت کررہا ہے۔
بلوچستان ملک کا خوش قسمت صوبہ بھی ہے اور بد قسمت بھی۔ خوش قسمت اس حوالے سے کہ زیر زمین قدرتی خزانوں سے لبریز صوبہ ہے زمین کے اندر جو خزانے موجود ہیں ان میں سوئی گیس ہے جو سوئی کے مقام پر نکلی تھی، معدنیات کے دیگر ذخائر کے حوالے سے ہماری وفاقی حکومتوں کی کوئی سنجیدہ کوششیں ماضی میں نظر آتی تھیں اور نہ اب نظر آتی ہیں۔ زمین کے اوپر گوادر سی پورٹ بن رہا ہے جو دنیا کی بڑی بندرگاہوں میں سے ایک ہے، مشرق وسطی سمیت دنیا کے کئی ممالک سے تجارت میں آسانیاں پیدا ہوں گی اور یہ کہ یہ اہم تجارتی گزرگاہ بھی ہوگا یہ صوبہ بہت جلد ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائے گا۔ سی پیک منصوبے کے بھی اس صوبے کی معیشت پر خوشگوار اثرات پڑیں گے۔ بدقسمتی اس صوبے کی اس حوالے سے ہے کہ اتنے قدرتی اور انسانی وسائل سے بھرپور خطے کے باشندے بذات خود خط غربت کے نیچے زندگی گزاررہے ہیں گیس یہاں سے نکلتی ہے لیکن یہاں کے لوگ اس سے محروم ہیں گوادر سی پورٹ اور سی پیک منصوبہ اس کے صرف اب تک سہانے خواب ہی دکھائے گئے ہیں عملا اس کا کوئی فائدہ بلوچستان کے عوام کو نہیں پہنچ رہا ہے۔ بلوچستان کے عوام کی محرومیوں کے اصل ذمے دار یہاں کے قبائلی سردار ہیں جو حکومت سے جوڑ توڑ کرکے اپنی تجوریوں کے منہ تو بھررہے ہیں لیکن اپنے عوام کو صوبے کی ترقی و خوش حالی کے ثمرات سے محروم کررہے ہوتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
بلوچستان کے کچھ سیاسی مسائل بھی رہے ہیں پرویز مشرف کے دور میں اکبر بگٹی کے ان سے کچھ شدید قسم کے سیاسی اختلافات ہو گئے تھے ان کی وجوہات کے بارے میں کوئی چیز کنفرم نہیں ہے کچھ کا کہنا ہے کہ گیس رائلٹی کا مسئلہ تھا۔ ایک بات یہ بھی سننے میں آئی کہ ایک اسپتال میں کسی لیڈی ڈاکٹر کا کسی حاضر سروس فوجی آفیسر سے کوئی اسکینڈل نکل کر آیا، اکبر بگٹی صاحب اپنے قبائلی سسٹم کے تحت اسے انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہتے تھے جبکہ پرویز مشرف کہہ رہے تھے اس کا کورٹ مارشل ہوگا۔ اکبر بگٹی نے کہا کہ خواتین کی تقدیس ہماری بلوچ روایات کا اہم جز ہے یہ اختلاف اتنا بڑھا کہ پرویز مشرف نے یہ دھمکی دی کہ ان کو ایسی جگہ سے ہٹ لگے گی کہ پتا بھی نہیں چلے گا پھر تھوڑے عرصے بعد اکبر بگٹی کو کسی ایسی چیز نے ہٹ کیا کہ وہ چل بسے اس کے بعد سے اس صوبے کے سیاسی حالات بہت خراب رہے اب کچھ حالات نارمل ہو گئے ہیں لیکن اس حادثے کی تپش اب بھی محسوس کی جاتی ہے۔ بلوچستان ہمارا وہ صوبہ ہے جس کی سیاست دیگر تین صوبوں سے الگ ہے اس صوبے کی سیاست پر ہمیشہ سے ایک خاص قسم کے ابر کا سایہ رہتا ہے جس سے کبھی ہلکی ہلکی پھوار پڑتی ہے کبھی تیز بارش ہوتی ہے کبھی اولے برستے ہیں اور کبھی انگارے۔
بلوچستان کے مسائل کے حوالے سے آج کل اس صوبے میں جماعت اسلامی کے زیر اہتمام دھرنے اور مارچ کا سلسلہ چل رہا ہے، جماعت اسلامی بلوچستان کے جنر ل سیکرٹری مولانا ہدایت الرحمن کی قیادت میں پہلے حق دو گوادر کو کے نام سے گوادر میں بھر پور دھرنا دیا گیا جمعہ دس دسمبر کو جماعت اسلامی کی کال پر حق دو گوادر کو کے سلسلے میں ریلی نکالی گئی جس میں لاکھوں مرد و خواتین اور بچوں نے شرکت کی تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ ہم ریاست کے نہیں حق غصب کرنے والوں کے خلاف ہیں، سی پیک سے اہل بلوچستان کو چیک پوسٹیں نہیں بلکہ بنیادی سہولتیں، تعلیمی ادارے، پینے کا پانی اور روزگار چاہیے اب تک ہمیں فاقہ ملا، بے روزگاری ملی، سمندری قزاق ملے، ہم اپنے بنیادی حقوق آئین پاکستان کے تحت مانگ رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، انہوں نے کہا کہ کہاں لکھا ہے کہ اپنے بنیادی حقوق، منشیات، ٹرالر مافیا سمیت روزگار کے لیے آواز اٹھانا جرم اور غداری ہے مولانا ہدایت الرحمن کے بقول ہم تیسرے درجے کے شہری نہیں ہیں ہم کسی کی کالونی نہیں ہیں ہم ایک صوبے میں رہتے ہیں جس کے تمام شہری اور بنیادی حقوق غصب کیے جارہے ہیں حق دو تحریک کے سربراہ نے خبردار کیا کہ آئی جی پولیس معصوم لوگوں کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کریں ورنہ ہم اس کے طاقت کا بھرپور جواب دیں گے اور میں گرفتاری ضرور دوں گا لیکن اپنے ایک لاکھ کارکنان اور مظاہریں سمیت دوں گا۔
ایک صبر آزما طویل عرصے کے بعد جماعت اسلامی کے صوبائی قیم جناب مولانا ہدایت الرحمن کی صورت میں اہل بلوچستان کو ایک مخلص قیادت ملی ہے جماعت اسلامی پورے ملک میں عوام کے غصب شدہ حقوق کی بازیابی کے لیے جدو جہد کررہی ہے جس طرح کراچی میں حافط نعیم الرحمن حق دو کراچی کو کی مہم چلا رہے ہیں۔ بلوچستان میں آج تک اتنی بڑی تعداد میں مرد خواتین اور بچے باہر نہیں نکلے اسی لیے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی ہدایت پر 12 دسمبر اتوار کو یوم یکجہتی بلوچستان منایا گیا۔ جس کے تحت پورے ملک میں مظاہرے، دھرنے ہوئے اور کراچی میں حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں لیاری میں حقوق بلوچستان واک ہوئی۔
گوادر اور پسنی کے شہریوں کا مسئلہ کیا ہے کہ جگہ جگہ لگی چیک پوسٹوں میں تعینات دوسرے صوبوں کے اہلکار توہین آمیز انداز میں سوال کرتے ہیں تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو؟ کہاں جارہے ہو؟ اس کے جواب میں صوبے کا باشندہ الٹا ان سے سوال کرتا ہے کہ تم بتائو تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو اس پر انہیں گرفتار کیا جاتا ہے اور اکثر تشدد بھی ہوتا ہے وہاں کے سمندر میں سندھ اور پنجاب کے بڑے سرمایہ داروں کے ٹرالر اور کنٹینرز ہیں جو روزآنہ دس سے پچیس ہزار مچھلیاں پکڑ لیتے ہیں بلوچستان کے غریب مچھیرے جن کا روزگار ہی مچھلیوں پر تھا وہ سب بے روزگار ہو گئے اسی طرح وہ اپنے کھانے پینے کی اشیا اور دیگر ضروریات زندگی کا سامان ایران سے لاتے تھے کہ وہاں سے ان کو سب چیزیں سستی اور کم وقت میں مل جاتی تھیں کراچی سے یہ سب چیزیں لانے میں بارہ سے چودہ گھنٹے لگتے ہیں اسی طرح کہ اور دوسرے مسائل بھی ہیں مسنگ پرسنز کا مسئلہ تو بہت دیرینہ مسئلہ اس پر بھی تحریک کے سربراہ نے آواز اٹھائی ہے ہمیں امید ہے کہ بلوچستان میں جو تحریک اٹھی ہے اپنے مقاصد میں ضرور کامیاب ہوگی۔ ان شا اللہ