
علی گیلانی نے باطل قوتوں کے خلاف زندگی کی آخری سانس تک پوری قوت سے مقابلہ کیا سید صلاح الدین قائد تحریک آزادی نے پوری کشمیری قوم کو اسلام کی سربلندی اور کشمیر کی بھارت سے آزادی کے لیے منظم کیا
مظفر آباد () حزب المجاہدین کے سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین احمد نے کہا ہے کہ مزاحمت کا استعارہ،قائدِ تحریک آزادی جموں و کشمیر سید گیلانی اپنے رب سے جا ملے۔ان کی پوری زندگی اسلام کی سربلندی اور کشمیر کی آزادی کی عظیم جدوج جہد میں گزری۔ان خیالات کا اظہار حزب سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین احمد نے متحدہ جہاد کونسل کے ایک اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی مزاحمت کا استعارہ ہیں ۔ سید نے اسلاف کے نقش قدم پر چل کرامام حسن البنا کی طرح، قوم کی امامت کا حق ادا کیا۔باطل قوتوں کے خلاف زندگی کی آخری سانس تک پوری قوت سے مقابلہ کیا ۔نصف سے زیادہ زندگی بھارتی جیلوں میں گزاری اور پچھلے 12 برسوں سے یہ امام وقت بھارتی فورسز کے کڑے محاصرے میں اپنے گھر میں ہی مقید تھے۔حراست کے دوران کل شام اپنے خالق حقیقی سے جا ملے اور اس طرح شہادت کا عظیم مرتبہ حاصل کرتے ہوئے امر ہوگئے۔سید صلاح الدین نے کہا کہ قائد تحریک نے پوری کشمیری قوم کو اسلام کی سربلندی اور کشمیر کی بھارت سے آزادی کے لیے منظم کیا اور تاریخ گواہ ہے کہ پوری قوم ہمت اور پامردی سے مقابلہ کررہی ہے اور دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ حصول منزل تک یہ جدوجھد جاری رہے گی۔یہ جذبہ حریت پیدا کرنے میں سید گیلانی کا کلیدی کردار ہے۔جہاد کونسل کے چیئرمین نے کہا کہ بھارتی حکمرانوں کے اس قائد کی مقبولیت کا خوف اس حد تک سوار ہوچکا ہے کہ ان کی شہادت کے فورا بعد پوری وادی میں کرفیو نافذ کیا گیا۔اور فوج اور پولیس نے اہل خانہ پر شدید تشدد کرکے قائدِ انقلاب کے جسد خاکی کو اپنے قبضے میں لیے کر اسے رات کی تاریکی میں حیدرپورہ قبرستان میںسپرد خاک کردیا ۔کم ظرفی اور بزدلی کی اس کے علاوہ اور کیا انتہا ہو سکتی ہے۔سید صلاح الدین نے کہا کہ سید گیلانی نے اپنے کردار اور عمل سے لاکھوں گیلانی تیار کئے ہیں۔حضرت سید علی گیلانی رحم اللہ کی روح اب جسم سے ہزار گنا زیادہ جدوجھد آزادی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ان شا اللہ دنیا اب یہ منظر بھی دیکھ لے گی۔۔اجلاس میں قائد تحریک کی بلندی درجات کی دعا بھی کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حصول منزل تک قائد کے نقش پا پر چل کر جدوجھد جاری رکھی جائیگی۔۔۔