مقبوضہ کشمیر میں عاشورہ اور میلاد النبی کے جلوسوں پر پابندی ختم کی جائے ۔ آغا سید حسن الموسوی ‘انجمن شرعی شعیان جموں و کشمیر’ کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی کا حکومت سے مطالبہ

سری نگر() ‘انجمن شرعی شعیان  جموں و کشمیر’ کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے جلوس عاشورہ، مرکزی جامع مسجد سری نگر میں نماز جمعہ اور لال چوک سری نگر میں روایتی جلوس میلاد النبی  پر پابندی  کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے ۔آغا حسن نے گزشتہ روز جاری ایک بیان میں کہا کہ تاریخی جلوس عاشورہ زمانہ قدیم سے اپنے روایتی مقام اور راستے آبی گزر سری نگر سے برآمد ہو کر علی پارک جڈی بل سری نگر میں اختتام پذیر ہوتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ تاریخی جلوس، جس پر گزشتہ زائد از تین دہائیوں سے پابندی عائد ہے، کو صرف لال چوک تک محدود رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ اس کی شان و اہمیت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت مذکورہ جلوس پر پابندی ہٹانے کا فیصلہ کرتی ہے اور جلوس کو اپنے روایتی مقام اور منزل تک لے جانے کی اجازت دیتی ہے تو انجمن شرعی شیعیان جلوس عاشورہ میں شامل ہوگی، اس صورت میں انجمن شرعی شیعیان اس امید کا اظہار کرتی ہے کہ جلوس عاشورہ کے روایتی راستے کے ارد گرد رہنے والے عوام اور دینی معززین بالخصوص میرواعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق اور مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام حسب روایت قدیم اپنی گرانقدر خدمات اور تعاون شامل حال رکھیں گے۔۔آغا حسن نے کہا کہ انجمن شرعی شیعیان اور دیگر معروف انجمنیں جلوس عاشورہ پر 30 سال سے عائد حکومتی قدغن کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے پولیس تشدد کا سامنا اور گرفتاریاں پیش کرتی رہی ہیں۔