
جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے امیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض کی رہائی کا حکم عبدالحمید فیاض کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ ( پی ایس اے ) کے تحت قید ہیں
سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے امیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ ( پی ایس اے ) کے تحت قید کا حکم غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دے دیا ہے ۔کے پی آئی کے مطابق 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے قانون آرٹیکل370 کے خاتمے سے قبل بھارتی حکومت نے جماعت اسلامی جموں و کشمیر کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔جماعت کے امیر ڈاکٹر عبدالحمید فیاض سمیت ہزاروں کارکنان کو قید کر لیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالحمید فیاض کو بڈگام پولیس نے 23 فروری 2019 کو سری نگر سے گرفتاری کے بعد کٹھوعہ جیل منتقل کر دیا تھا۔کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ ( پی ایس اے ) کے تحت کوئی بھی پولیس اہلکار کسی بھی شہری کو گھر یا باہر سے محض شک کی بنیاد پر گرفتار کر سکتا ہے اور گرفتار کیے گئے شہری کے اہل خانہ کو اطلاع نہیں دی جاتی نہ ہی اسے قانونی امداد حاصل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔پی ایس اے کے تحت بغیر عدالتی سماعت کے کم سے کم دو سال تک کسی کو بھی بلا لحاظ عمر قید کیا جا سکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میںمتعدد کمسن بچوں کو بھی اب تک اس قانون کے تحت قید کیا جا چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ کے جسٹس سنجے دھر اور جسٹس رجنیش پر مشتمل ڈویژن بنچ نے ڈاکٹر عبدالحمید فیاض کی رہائی کی درخواست کی سماعت کی ۔ عدالت نے 22 جون 2019 کے سنگل بنچ کے فیصلے کو ختم کرکے ڈاکٹر عبدالحمید فیاض کی فوری رہائی کا حکم دیا ۔