کشمیری کل بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طورپر منائیں گے مقبوضہ جموںوکشمیر میں کل مکمل ہڑتال کی اپیل

سرےنگر25جنوری : کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری کل بھارت کا یوم جمہوریہ یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے تاکہ عالمی برادری پر دباﺅ بڑھایا جاسکے کہ وہ بھار ت کی طرف سے کشمیریوں کو انکا حق خودارادیت دینے سے مسلسل انکار کانوٹس لے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوم سیاہ منانے کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس ، میر واعظ عمر فاروق کی سرپرستی میں قائم حریت فورم اور یاسمین راجہ ، انجینئر ہلال احمد وار ، محمد یوسف نقاش ، جہانگیر غنی بٹ اور جموںوکشمیر نیشنل فرنٹ سمیت حریت رہنماﺅں اورتنظیموں نے دی ہے ۔ اس روز مقبوضہ جموںوکشمیرمیں مکمل ہڑتال کی جائے گی اور آزاد کشمیر ، پاکستان اور دنیا بھر کے دارلحکومتوںمیں بھارت مخالف مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی جائیں گی۔
کل جماعتی حریت کانفرنس جموںوکشمیر پیپلز لیگ ، جموں و کشمیر لبریشن الائنس اور یوتھ فریڈم فائیٹرکی طرف سے سرینگر ، پلوامہ ، ترال ، کولگام ، اسلام آباد ، شوپیاں ، کپواڑہ ، ہندواڑہ ، بانڈی پور اوروادی کشمیر کے دیگر علاقوں میںچسپاں کئے گئے پوسٹروں میںلوگوںسے بھارتی یوم جمہوریہ کی تمام سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ کرنے اور اپنے گھروں ، دکانوں ، بجلی کے کھمبوںاور دیگر عمارتوں پر سیاہ جھنڈے لہرانے کی اپیل کی گئی ہے ۔ حریت کانفرنس نے لوگوں سے کہاہے کہ وہ مقبوضہ علاقے میں سول کرفیو نافذ کریں۔
ادھر پورے مقبوضہ علاقے بالخصوص کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم سمیت 26جنوری کی تقریبات کے مقامات کے گرد بھارت مخالف مظاہروںکو روکنے کیلئے بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے ۔ سرینگر میں تین حصاروں پر مشتمل سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور پورے مقبوضہ علاقے میںجگہ جگہ قائم کی گئی چوکیوں پر لوگوںکو روک کر انکی تلاشیاں لی جارہی ہیں۔لال چوک سرینگر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقعہ کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم جہاں کل یوم جمہوریہ کی سرکاری تقریب منعقد ہو گی کے گرد بھی سیکورٹی کا سخت حصار قائم کیاگیا ہے ۔
تحریک حریت جموں وکشمیر نے ایک بیان میں اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے پارٹی کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی اور بھارتی جیلوں میں نظربند پارٹی کے دیگر رہنماو ¿ں اور کارکنوں کی بگڑتی ہوئی صحت کا نوٹس لیں۔ حریت رہنما میر شاہد سلیم اور انسانی حقوق کے کارکن محمد احسن اونتو نے آج ہندواڑہ قتل عام کے شہداءکو ان کی 31 ویں برسی کے موقع پرانہیں شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔
کشمیرمیڈیاسروس کی طرف سے جاری کی گئی یک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک طرف دنیا نے گزشتہ روز تعلیم کا عالمی دن منایا اور دوسری طرف بھارت کشمیری طلباءکوتعلیم کے حق سے محروم کررہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7 دہائیوں سے زائد عرصہ سے بھارت کے غیرقانونی قبضے نے مقبوضہ جموںوکشمیر میں تعلیمی بحران پیدا کردیاہے جبکہ 5 اگست 2019 سے مسلط کئے گئے غیر انسانی محاصرے سے یہ بحران مزید گہرا ہوگیا ہے۔
ادھر رواں سال جولائی میں ہونے والے جعلی مقابلے کے مقدمے میں کشمیر پولیس کی جانب سے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ شوپیاں کے سامنے داخل کی گئی چارج شیٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج کے کیپٹن بھوپندر سنگھ نے جس نے جعلی مقابلے میں راجوری کے تین بے گناہ نوجوانوں کو شہید کیا تھا، شواہد مٹانے کی کوشش کی ہے ۔ چارج شیٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کیپٹن نے جعلی مقابلے کے دوران ہتھیاروں برآمدکرنے کے بارے میں بھی غلط معلومات فراہم کی ہیں۔