
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے لیے سکیورٹی دینے سے معذرت کرلی ہے، جس کے بعد انتخابات کے انعقاد سے متعلق الیکشن کمیشن کا اجلاس جاری ہے۔
کراچی ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر وفاقی حکومت نے الیکشن کمیشن کو باقاعدہ خط لکھ دیا، جس میں بلدیاتی انتخابات کے لیے سکیورٹی اہل کار فراہم کرنے سے معذرت کی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے الیکشن کمیشن کو کہا گیا ہے کہ وہ سندھ حکومت کی مشاورت سے کراچی میں بلدیاتی انتخابات کا فیصلہ کرے۔ سندھ حکومت کو کراچی ڈویژن میں بلدیاتی الیکشن کی سکیورٹی کے لیے 16 ہزار اہل کاروں کی کمی کا سامنا ہے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے سکیورٹی فراہمی کے لیے معذرت کے خط کا جائزہ لینے اور انتخابات کے انعقاد سے متعلق الیکشن کمیشن کا اجلاس چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی صدارت میں جاری ہے، جس میں وزارت داخلہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے حکام شریک ہیں۔
گزشتہ روز الیکشن کمیشن کے اجلاس میں سندھ حکومت کی طرف سے یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پولیس اور سکیورٹی ادارے سیلاب متاثرہ علاقوں میں مصروف ہیں، جس کی وجہ سے کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے لیے 16 ہزار پولیس اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔
الیکشن کمیشن کی طرف سے استفسار کیا گیا تھا کہ کیا وزارت داخلہ سندھ حکومت کی سکیورٹی کے حوالے سے 16 ہزار سیکورٹی فورسز کی ضرورت کو پورا کر سکتی ہے ؟ الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ سے اس حوالے سے آج جواب طلب کیا تھا۔
اس سے قبل سندھ حکومت بلدیاتی انتخابات 3 ماہ کے لیے ملتوی کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو 3 مراسلے بھی بھجوا چکی ہے جب کہ کراچی کے 7 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات 23 اکتوبر کو شیڈول ہیں۔