
مقبوضہ کشمیر ، ریاستی انسانی حقوق کمیشن کے بعد اب سٹیٹ وومنز کمیشن بھی ختم سٹیٹ وومنز کمیشن کو بند کرنے سے خواتین کے حقوق پائمال ہوں گے۔ افرا جان
سری نگر() بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے ریاستی انسانی حقوق کمیشن کے بعد اب سٹیٹ وومنز کمیشن کو بھی ختم کر دیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد نئے بھارتی قوانین کے تحت ریاستی انسانی حقوق کمیشن ختم کر دیا گیا تھا۔دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد بھارتی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ سٹیٹ وومنز کمیشن کے بجائے اب جموں و کشمیر میں نیشنل کمیشن فار وومن کا ایک دفتر قائم کیا جائے گا تاہم سٹیٹ وومنز کمیشن تو ختم کر دیا گیا مگر نیشنل کمیشن فار وومن کا دفتر قائم نہیں کیا گیا ۔کے پی آئی کے مطابق سٹیٹ وومنز کمیشن جموں و کشمیر کی آخری چیئرپرسن سپریم کورٹ کی وکیل وسندھرا پھاٹک مسعودی تھیں۔ خاتمے کے وقت اس میں تقریبا پانچ سو مقدمے زیر سماعت تھے، ۔کمیشن کی سابق چیئرپرسن نعیمہ مہجور نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے کمیشن میں ڈھائے برس کے عرصے کے دوران سات ہزار کیسز درج کروائے تھے اور بیشتر کیسز کو حل بھی کیا گیا تھا۔انکا کہنا ہے کہ کمیشن میں ہر روز دس شکایتیں درج ہوتی تھیں اور خواتین کے لئے یہ کمیشن امید کا مرکز بن چکا تھا۔ اب کمیشن کا نہ ہونا خواتین کے لئے باعث تشویش ہے۔نیشنل کانفرس کی ترجمان افرا جان نے بتایا بی جے پی نے دعوی کیا تھا کہ دفعہ 370 اور 35 اے جموں و کشمیر میں خواتین کے حقوق کو سلب کر رہا تھا لیکن اب دیکھیں کہ کمیشن کو بند کرنے سے خواتین کے حقوق کیسے پامال ہو رہے ہیں اور انکے مسائل کا ازالہ کرنے کے لیے واحد ایک ادارہ تھا جو بند کر دیا گیا۔افرا جان کا کہنا ہے کہ پانچ اگست2019 کے بعد یہاں کی خواتین کے مسائل کی سنوائی کے لئے کوئی ادارہ موجود نہیں ہے