
16 سالہ کشمیری لڑکے کا والد قبر تیار کر کے ایک سال سے بیٹے کی میت کے انتظار میں ہے اطہر مشتاق وانی کی لاش اس کے خاندان کو فراہم کرنے کا حکم دیا جائے ہائی کورٹ میں درخواست
سری نگر() مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں عدالت سے کہا گیا ہے کہ 29 دسمبر2020 کو سری نگر میں ماورائے عدالت قتل ہونے والے 16 سالہ کشمیری لڑکے اطہر مشتاق وانی کی لاش اس کے خاندان کو فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔ اطہر مشتاق وانی کے والد مشتاق وانی اپنے بیٹے کی قبر تیار کر کے ایک سال سے بیٹے کی میت ملنے کے انتظار میں ہیں۔اطہر مشتاق وانی کو بھارتی فوج نے 29 دسمبر2020 کو سری نگر میں ماورائے عدالت قتل کر دیا تھا اس کی لاش لواحقین کو دینے کے بجائے فوج نے از خود نامعلوم مقام پر دفنا دی تھی ۔مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے والے انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس کے چیرمین محمد احسن اونتو نے وادی کشمیر کے عوام کے ساتھ قابض انتظامیہ کے جابرانہ اور غیر انسانی رویے کی شدید مذمت کی ہے۔ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو نے بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے کشمیری شہری اطہر مشتاق کے اہل خانہ سے اظہار یکجہتی کیلئے پلوامہ گئے ۔انہوں نے نام نہاد محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے تمام شہریوں کی میتوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ورثاکو اپنے پیاروں کی میتوں تدفین کیلئے حوالے نہ کرنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے ۔ احسن اونتو نے کہاکہ اطہر مشتاق کے اہل خانہ آج بھی ان کی میت ان کے حوالے کئے جانے کے منتظر ہیں اور بھارتی فورسز میت واپس کرنے کے بجائے اہل خانہ کو دھمکیاں دے رہی ہیں۔ اطہر کے اہلخانہ نے ان کے آبائی گائوں میں اس کی قبر بھی کھودرکھی ہے۔اس موقع پر اطہر کے والد نے بھی اپنے بیٹے کی میت کی واپسی کا مطالبہ دہرایا۔احسن اونتو نے کہا کہ حال ہی میں مقبوضہ علاقے میں جعلی مقابلوں میںشہید کئے جانے والے شہریوں کی میتیں واپس کی گئی ہیں لیکن اطہر کی لاش واپس نہیں کی جا رہی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ انہوں نے اطہر کے قتل کے خلاف اور اس کی میت کی واپسی کیلئے کشمیر ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔