
ریاست جموں وکشمیر نہ بھارت میں ضم ہوئی اور نہ ہوگی۔ ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال کشمیری عوام متحد ہوکر اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے کھڑا ہوجائیں ، جموں میں خطاب ریاست کے لوگ آئینی ، جمہوری اور مذہبی آزادی، اظہار رائے سے محروم ہیں
جموں()نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفی کمال نے کہا ہے کہ .جموں وکشمیر میں جاری نامساعد حالات ، سیاسی خلفشار ، اور معاشی بدحالی سے لوگ پریشان اور مشکلات کا شکار ہیں۔ بدقسمتی سے نئی دہلی میں سخت گیر حکران کشمیری عوام کے لیے بے رخی اپنائے ہوئے ہیں۔ جموں میں پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں سے خظاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر مکمل طور پر ایک فوجی چھاونی میں تبدیل کی گئی ہے۔ خوف اور دہشت کا ماحول ہر طرف اس قدر برپا ہوا ہے کہ لوگ گھروں میں سہمے ہوئے ہیں۔ گویا بی جے پی حکمرانوں نے ریاست کے لوگوں کو آئینی ، جمہوری اور مذہبی آزادی اور صحافت کے پلیٹ فارم سے محروم کیا اور اہل کشمیر کے عوام کے دلوں سے اعتماد اور بھروسہ چھین لیا ہے ۔ نئی 370اور35-A کا خاتمہ کشمیریوں نے قبول کیا ہے نہ کریں گے۔ کشمیر کا مسئلہ ابھی حل طلب ہے۔ ریاست نہ بھارت میں ضم ہوئی اور نہ ہوگی۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ وقت ضائع کئے بغیر ریاستی عوام کو تمام آئینی اورجمہوری حق واپس کیے جائیں تب ہی ملک کی آزادی اور سالمیت قائم رہے گی۔ فوجی دستوں میں اضافہ ، کمیونٹی ہالوں میں اضافی فوجی دستے رکھنا حالات کے ناسازہو نے کی گواہی ہے ۔ ڈاکٹر کمال نے ہندو، مسلم، سکھ ، عیسائی اور بودھوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہوکر اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے کھڑا ہوجائیں۔ اقلیتیں غیر محفوط خصوصا اہل کشمیر میں نوجوان پود کو شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھ کر تنگ و طلب کیا جارہا ہے ۔ آج ڈوگرہ، لداخی، کشمیری اور سکھ یک زبان ہوکر 35-A اور دفعہ 370کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ صوبائی صدر جموں ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا نے فرقہ پرستوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی جو لوگوں کو مذہب اور زبان کے بلبوتے پر تقسیم کرتے ہیں۔