
تہاڑ جیل میں مقید تحریک حریت کے راہنما ایاز اکبر کی اہلیہ کا انتقال محمد اشرف صحرائی اور غلام محمد صفی کی جانب سے اظہار تعزیت
سرینگر::// تحریک حریت کے اہم راہنما ایاز اکبر اس وقت شدید صدمے سے دوچار ہوئے جب ان کی اہلیہ کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوا۔
ایاز اکبر کافی عرصہ سے تہاڑ جیل میں ایام اسیری کاٹ رہے ہیں۔ کل جب ان کی اہلیہ اس دیار ناپائیدار سے کوچ کرگئی تو ایاز اکبر تہاڑ جیل میں یاس و حسرت کی تصویر بنے ہوئے تھے۔
کشمیر ایسے ہی المیوں کا نام بن چکا ہے۔ کل ان المیوں میں ایک اور باب کا اضافہ ہوا۔
تحریک حریت نے اپنے بیانات اور وکلاء کے ذریعے سے ریاستی انتظامیہ کی توجہ بار بار اس امر کی طرف مبذول کرائی کہ محبوس راہنما کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جائے تاکہ وہ اپنی اہلیہ( جو سرطان کے مہلک مرض میں مبتلا تھیں) کا معقول علاج کراسکے۔
لیکن انتظامیہ ہر وقت ظالم اور سفاک ثابت ہوئی،یہاں تک کہ وہ اس موذی مرض سے زندگی کی بازی ہار گئی۔
تحریک حریت کے ترجمان، تنظیم کے چیرمین محمد اشرف صحرائی جو خود بھی 11جولائی 2020 سے مسلسل اودھمپور جیل میں بغیر کسی علاج و معالجہ کے بھارتی درندگی کا پامردگی سے مقابلہ کر رہے ہیں، کی طرف سے اظہار تعزیت کر رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق آج اگر ایاز اکبر کو اپنی اہلیہ کے آخری دیدار سے محروم کر دیا گیا،تو گزرے ہوئے کل میں ایاز اکبر کے امیر محمد اشرف صحرائی نے اپنی قوم سے اظہار یکجہتی، دکھ اور درد بانٹنے کے لیے اپنے چہیتے بیٹے شہید جنید صحرائی کے آخری دیدار سے اپنے آپ کو محروم کردیا۔
ترجمان کے مطابق غلام محمد صفی نے بھی محبوس راہنما کو پہنچنے والے صدمے پر اپنی دلی تعزیت کا اظہار کیا مرحومہ کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کرتے ہوئے غمزدہ لواحقین کو یقین دلایا ہے کہ غم کی اس گھڑی میں وہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور مرحومہ کی وفات کو ذاتی صدمہ سمجھتے ہیں.
غلام محمد صفی کا کہناتھا کہ بے شمار لوگ بھارتی عقوبت خانوں میں پڑے اپنے پیاروں کی راہ تکتے رہے یہاں تک کہ ان کی آنکھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگئیں۔ یہ قربانیاں انمول ہیں اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان قربانیوں کو شرف قبولیت بخش کر قوم کو آزادی کی نعمت عظمی سے سرفراز کرے۔
ترجمان کے مطابق مشتہر کردہ شیڈول کے مطابق مرحومہ کی تدفین ہوئی۔اس موقع پر شرکاء جنازہ سے خطاب کرتے تحریک حریت کے قائدین نے موت و حیات کے فلسفے پر روشنی ڈالی۔ محبوس رہنما کی تحریک آزادی کے تئیں خدمات کو سراہا۔