آذادکشمیر کی اعلی عدالتوں کے چیف جسٹس صاحبان قائممقام بنیادوں پر تعینات، جبکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں ججز کی کمی

مظفرآباد (محمد شبیر اعوان ) آزاد کشمیر کے آئین کے مطابق آزاد کشمیر سپریم کورٹ میں 3 معزز ججز کا ہو نا ضروری ہے جبکہ مارچ 2020 سے سپریم کورٹ آف آزاد کشمیر میں چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیاء کی ریٹائرمنٹ کے بعد ابھی تک سپریم کورٹ میں دو ججز اپنے فرائض منصبی سر انجام دے رہے ہیں، سپریم کورٹ کے جج مصطفی مغل رواں ماہ کی 27 دسمبر کو اپنی مدت ملازت سے سبکدوش ہورہے ہیں،ان کی سبکدوشی/ریٹائرمنٹ کے بعد سپریم کورٹ میں صرف ایک قائممقام چیف جسٹس رہ جایئں گے ، آزاد کشمیر کے آئین کے مطابق سپریم کورٹ میں کسی بھی مقدمے کافیصلےکرنے لیے دو ججز کا ہونا ضروری ہے،ججز کی کمی کی وجہ سے سپریم کورٹ آزاد کشمیر میں اس وقت بھی 2 ہزار سے ذیادہ مقدمات بھی التواء کا شکارہیں ۔اسی طرح آزاد کشمیر کے آئین کے مطابق آزاد کشمیر ہائی کورٹ میں 9 ججز کا ہونا ضروری ہے جبکہ ہائی کورٹ میں اس وقت 3 معزز ججز اپنے فرائض منصبی سر انجام دے رہے ہیں، ہائی کورٹ کے ایک جج مارچ 2021 میں اپنے مدت ملازمت سے ریٹائر ہوجاہیں گے، انکی ریٹائرمنٹ کے بعد ہائی کورٹ میں 2 ججز رہ جائیں گے ، آزاد کشمیرہائی کورٹ میں ججز کی کمی کی وجہ سے 8 ہزار سے ذیادہ مقدمات التواء کا شکار ہیں، ان حالات میں عدالتی بحران کی کیفیت ہے
سروس ٹربیونل ایکٹ میں کی گئی ترمیم کو عدالت العالیہ میں چیلنج کر دیا گیا…. تفصیلات کے مطابق سروس ٹربیونل ایکٹ مین حالیہ ترمیم کو ممبران سینٹرل بار ایسو سی ایشن نے عدالت العالیہ میں چیلنج کر دیا… پٹشنرز میں ثاقب احمد عباسی ایڈووکیٹ, ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ, خالد بشیر مغل ایڈووکیٹ, سردار محمد غالب حلیم ایڈووکیٹ, پیرزادہ محمد سجاد ایڈووکیٹ, شیخ ساجد مقبول ایڈووکیٹ, بلال احمد ماگرے ایڈووکیٹ, یاسر سفیر مغل ایڈووکیٹ, سید ذیشان حیدر بخاری ایڈووکیٹ, سید فخر کاظمی ایڈووکیٹ, محمد مسعود اعوان ایڈووکیٹ کے علاوہ راشد محمود چوہدری لیکچرار شامل ہیں… پٹشنرز کی طرف سے پیروری سید ذوالقرنین رضا نقوی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ, ثاقب احمد عباسی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور ہارون ریاض مغل ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے کی…. عدالت العالیہ نے ابتدائی سماعت کے لئے سید ذوالقرنین رضا نقوی ایڈووکیٹ کو سنتے ہوئے رسپانڈنٹس کو شو کاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس آئندہ سماعت کے لئے مقرر کر دیا ہے….
ھای کورٹ ججز کیس, نظرثانی پر سپریم کورٹ آزاد جموں و کشمیر نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا. 33 صفحات پر مشتمل فیصلہ چیف جسٹس آزاد جموں و کشمیر نے تحریر کیا ھے.