وادیِ نیلم سمیت دیگر سیکٹرز میں ایل او سی کی خلاف ورزی: ’فائرنگ اتنی شدید تھی کہ کوئی زخمیوں کو اٹھانے والا نہیں تھا‘

دودھنیال سے تعلق رکھنے والے چار برس کے عبدالحنان ناصر جن کی آنکھ بھارتی فوج کی گولہ باری سے بری طرح زخمی ہوگئی ہے اور اس وقت الشیخ زید ہسپتال مظفرآباد میں ڈاکٹر ان کی زندگی اور آنکھ بچانے کے لیے شیل کے ٹکڑے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ جمعے کو انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف سیکٹرز میں دونوں جانب سے گولہ باری اور شیلینگ کے واقعات کے بعد پاکستان اور انڈیا نے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ اس گولہ باری کے باعث ایل او سی کے دونوں جانب متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

وارڈ کے باہر اپنے بیٹے کی زندگی اور اس کی آنکھ محفوظ بنانے کی کوشش میں ہلکان عبدالحنان کے والد ناصر رشید نے بتایا کہ ’دن گیارہ کے بعد میں گھر پر نہیں تھا جب انڈین فوج نے اچانک گولہ باری شروع کی۔‘

انھوں نے بتایا ’میری اہلیہ بیٹے عبد الحنان سمیت دیگر بچوں کو لے کر بنکر کی طرف بھاگ رہی تھی کہ اسی اثنا میں ایک گولہ گھر کے باہر لگا جس کے شیل عبدالحنان کی آنکھ اور جسم پر لگے جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔‘

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ انڈین فوج کی گولہ باری کی وجہ سے بچے کو قریبی مقامی ہسپتال میں جلد ریسکیو نہیں کر سکے، کافی دیر کے بعد اسے اٹھمقمام ضلعی ہسپتال لایا گیا اور وہاں سے اسے مظفرآباد منتقل کیا گیا۔

بچے کے والد ناصر رشید نے دنیا میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں سمیت اقوام متحدہ سے سوال کیا کہ وہ لائن آف کنٹرول پر ان کے بچے سمیت دیگر نہتے بچوں کو زندگی بھر کے لیے معذور کرنے والی ’انڈین فوج اور اس کے حکومت سے کب ان بے گناہوں کا حساب لے گی۔‘

وادی نیلم کے ضلعی ہیڈ کوراٹر ہسپتال میں زیر علاج ایک تاجر شاہد میر نے بتایا کہ ’میں ددوھنیال بازار میں اپنی دوکان پر تھا تو پہلے چار گولے پہاڑ کی چوٹی پر فائر ہوئے جس کے بعد میں دکان سے نکل کر گھر کی طرف بھاگنے لگے کہ اسی اثنا میں ایک گولہ میری دکان کے سامنے لگا جس کے باعث میں اور میرے قریب کھڑا ایک دوست زخمی ہو گیا۔‘

’پھر اس کے بعد مزید گولے لگنے شروع ہو گئے جس سے مزید کچھ افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک میڈیکل سٹور کا مالک پہلے زخمی ہوا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔‘

شاہد میر کے مطابق ’گولہ باری اتنی شدید تھی کہ ہم کافی دیر زخمی حالت میں اُدھر ہی پڑے رہے جدھر زخمی ہو کر گرے تھے۔‘

وادی نیلم، کشمیر

محمد ممتاز کے تین بھائی وادی نیلم میں آج کی گولہ باری میں زخمی ہوئے جو ایک ہی بازار میں دو مختلف کاروبار کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج ایک بھائی کا سامان آیا ہوا تھا دوسرے بھائی اس کی مدد میں مصروف تھے کہ اچانک گولہ باری شروع ہوئی جس میں میرے تینوں بھائی جن کے ٹانگوں اور پیٹ پر شیل لگے تھے زخمی ہو کر آدھے گھنٹے تک اسی حالت میں زمین پر پڑے رہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’فائرنگ اتنی شدید تھی کہ کوئی ان کو اٹھانے والا نہیں تھا، آدھے گھنٹے کے بعد جب میں نے اپنے ایک بھائی کو کال کی تو اس نے روتے ہوئے بتایا کہ ہم گولہ باری سے زخمی ہو گئے ہیں اور ہمیں کوئی اٹھانے والا نہیں۔ جس کے بعد کچھ مقامی افراد کو فون پر بتایا اور وہ مدد کے لیے آئے۔‘

انھوں نے کہا کہ ہمیں جو گولہ باری سے محفوظ رہنے کے لیے بنکر بنا کر دیے گئے ہیں وہ بنکر نہیں بلکہ پانی کہ ٹینکیاں ہیں یا کمرے ہیں جو موت کا کھلم کھلا سامان ہے۔

محمد ممتاز کا کہنا ہے کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ اس کی بنیاد بھی زمین سے ایک فٹ اوپر رکھ کر بنانی ہے۔ ہمارے نزدیک بنکر زمین میں ہوتے ہیں جو زندگی کو گولہ باری سے محفوظ بناتے ہیں جبکہ ان بنکرز میں کوئی نہیں رہتا ہر کسی کو ڈر لگتا ہے۔ ہم لوگوں کا آللہ ہی ہے، وہ ہی ہماری حفاظت کرتا ہے۔‘

وادی نیلم کے علاقے گریس میں بھی انڈین فوج کی جانب سے گولہ باری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں ایک مقامی شخص حبیب شاہ کے مطابق انڈین فوج کی گولہ باری سے ایک بچی ماری گئی جس کے جسم کے ٹکڑے ہو گئے تھے۔

کشمیر

دوسری جانب اس خطے کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے وادی نیلم سمیت وادی لیپہ کے مختلف سیکٹرز میں ہونی والی انڈین فوج کی فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس معاملے فی الفور اقوام متحدہ سمیت او آئی سی میں آٹھائے۔

انھوں نے کہا ’کب تک انڈین فوج نہتے سویلینز پر نشانہ بازی کی مشق کرتی رہے گی اور کشمیری قتل ہوتے رہیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ انڈیا کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔‘

انھوں نے بتایا کہ آج انڈین فوج کی بلاشتعال گولہ باری اور فائرنگ سے ایک بچی سمیت پانچ افراد جان کی بازی ہار گے جبکہ 28 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

انڈیا اور پاکستان کا ایک دوسرے پر الزام

جمعے کو انڈیا اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف سیکٹروں پر دونوں جانب سے گولہ باری اور شیلینگ کے واقعات کے بعد پاکستان اور انڈیا نے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے جبکہ اس کے باعث دونوں جانب متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جمعے کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق سات اور آٹھ نومبر کی درمیانی شب انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں وادی نیلم کی دوسری جانب انڈین فوج اور مقامی عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی جس میں انڈین فوج کے چار فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

پاکستان کی فوج کی جانب سے جاری بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ ’انڈین فوج نے اپنے عوام کے سامنے اس واقعے کے خفت مٹانے کے لیے اس واقع کی وجہ تلاش کرنے اور اس کا حل نکالنے کی بجائے 13 نومبر کو ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے متعدد علاقوں پر بھاری گولہ باری اور شیلنگ کا سلسلہ شروع کر دیا۔‘

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ان علاقوں میں وادی نیلم کے علاقے نکرون، کیل، شاردا، دھنیال، شاہکوٹ، جورا، نوسری سیکٹر، وادی لیپہ کے دانا، منڈیال اور کیانی سیکٹر، وادی جہلم کے چہام اور پانڈو سیکٹر، وادی باغ کے پیرکانتھی، سانکھ، حاجی پیر، بیدوری اور کیلیر سیکٹر شامل ہیں۔

جبکہ دوسری جانب انڈین فوج کا کہنا تھا کہ جمعہ کے روز پاکستان نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب گوریز اور اوڑی سمیت متعدد سیکٹروں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فائرنگ اور شیلینگ کی۔

انڈین فوج کے مطابق اس فائرنگ کے تبادلے میں انڈین سکیورٹی فورسز کے تین جوانوں سمیت کم از کم چھ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں جبکہ تین اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

via bbc