کیا عام سے دوا سے کرونا وائرس کا علاج ممکن ؟

لندن: طبی ماہرین نے عام دوا اسپرین سے ممکنہ طور پر کووڈ نائنٹین کے علاج کی آزمائش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق درد کے لئے استعمال کی جانے والی اسپرین کو اب کرونا کے ممکنہ علاج کے طور پر استعمال کیا جائے گا، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے گا کہ آیا اس بیماری سے متاثرہ افراد میں خون کے جمنے کے خطرے کو کم کیا جاسکتا ہے۔

پینل میں شامل طبی ماہر پیٹر ہاربی کا کہنا ہے کہ اس بات پر ایک واضح استدلال ہے کہ کرونا کے لئے ممکنہ طور پر اسپرین فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے ، اور یہ محفوظ ، سستی اور وسیع پیمانے پر دستیاب ہے۔طبی ماہرین کے مطابق اسپرین کے استعمال کے بعد مریض کی صحت یابی کی شرح کو دیکھتے ہوئے ہم ایک خاص حد تک جائیں گے، اس مقصد کے لئے ہم کرونا سے متاثرہ دو ہزار افراد کو روزانہ اسپرین کی ڈیڑھ سو ملی گرام مقدار فراہم کرینگے، بعد ازاں ان کا موازنہ کرونا کے معیاری علاج سے کرینگے، نتیجہ خود بتائے گا۔

اس کے علاوہ ریکوری ٹرائل میں عام اینٹی بائیوٹک ایزیتھرو مائسن اور ریجنرسن کا کمبی نیشن بھی استعمال کیا جائے گا جوکہ امریکی صدر ٹرمپ کے علاج کے لئے استعمال کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ کرونا سے متاثرہ فرد میں خون جمنے کا خطرہ زیادہ ہوجاتا ہے، تاہم اسپرین ایسی اینٹی پلیٹلیٹس ایجنٹ ہے، جو خون کے کلاٹس کے خطرے کو کم کردیتا ہے، تاہم طویل عرصے تک اس کا استعمال گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔اس سے قبل برطانیہ کے طبی ماہرین نے بتایا تھا کہ اگر دودھ اور ڈبل روٹی میں اضافی وٹامن ڈی شامل کردیے جائیں تو اس کے استعمال سے کرونا سے بچا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکا میں‌ کرونا مریضوں‌ کیلئے دوا تیار، حکام نے منظوری دیدی

دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے سائنسی ماہرین نے وزرا اور حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ اگر شہریوں کو وٹامن ڈی والی چیزیں استعمال کرنے پر زور دیں تو کرونا کے پھیلاؤ کو باآسانی روکا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب پبلک ہیلتھ انگلینڈ نے ماہرین نے تحقیق کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دس برسوں سے فن لینڈ، سوئیڈن، آسٹریلیا، امریکا اور کینیڈا میں دودھ، ڈبل روٹی، نارنجی کا جوس باقاعدگی کے ساتھ استعمال کیا جارہا ہے اُس کے باوجود بھی وہاں کیسز رپورٹ ہوئے۔